Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب کا القشلہ محل: فوجی اور سکیورٹی امور کا تاریخی مرکز

حائل میں واقع تاریخی القشلہ محل، ملک کے نمایاں ترین امتیازی نشانوں میں ایک ہے جو سعودی تاریخ کی طوالت اور گہرائی کا بہترین اظہار ہے۔
یہ محل سعودی ریاست کی بنیادیں پڑنے کے مختلف اہم مراحل کی جیتی جاگتی گواہی ہے جہاں فوج اور فنِ تعمیر کی اہمیت، ہر سال 22 فروری کو منائے جانے والے یومِ تاسیس کے دوران واضح ہوتی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق القشلہ محل مرحوم شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمٰن آل سعود کے دور میں تعمیر ہوا تھا جس کا بنیادی مقصد دفاعی اور انتظامی ہیڈکوارٹر کا کام دینا تھا۔
اس محل کو فوج کے تنظیمی امور اور سکیورٹی کو قائم رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس طرح ممکت کے متحد ہونے کے مرکزی مراحل کے دوران اس محل نے خطے میں استحکام کے لیے مؤثر کردار ادا کیا۔
القشلہ محل اس زمانے کے دستور کے مطابق مٹی سے تیار کی گئی اینٹوں کو استعمال میں لا کر بنایا گیا تھا جو اِس کے فنِ تعمیر میں بہت نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ محل کی تعمیر کے دوران مقامی ماحول کو بھی نگاہ میں رکھا گیا تھا۔
اس کا ڈھانچہ مستطیل شکل کا ہے۔ محل کے اندر برآمدے ہیں اور لگ بھگ سبھی کمرے ساتھ ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ محل میں دشمن پر نظر رکھنے کے لیے نگرانی کے ٹاور بھی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس زمانے میں ایسی عمارتوں کی تعمیر میں دفاعی پہلو بہت اہمیت کا حامل تھا۔ القشلہ محل، نجدی فنِ تعمیر کی ایک شاندار مثال ہے۔

اس محل پر مملکت کے ہیریٹج کمیشن اور وزارتِ ثقافت کی جانب سے کافی توجہ دی گئی ہے جن  کی کوشش اور مقصد تاریخی سائٹس کو محفوظ اور بحال کرنا اور انھیں ثقافتی اور سیاحتی مقامات میں بدلنا ہے۔ ان کوششوں سے قومی شناخت کو استحکام ملے گا اور یہ آنے والی نسلوں کو  ان کی درخشاں تاریخ سے جوڑ دے گا۔
مملکت کے یومِ تاسیس میں ابھی کچھ دن باقی ہیں لیکن حائل اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اور یہاں آنے جانے والے ابھی سے اپنے شان و شوکت اور اور تُزک و احتشام والے ماضی کو یاد کرنا شروع ہو گئے ہیں۔

 وہ القشلہ محل اور اپنے پُر شکوہ ماضی سے تحریک حاصل کرتے ہیں اور اسے تعمیر و استقامت کی علامت تصور کرتے ہوئے توثیق کرتے ہیں کے اس طرح کے سنگ ہائے میل، تین سو سال قبل نمودار ہونے والی سعودی ریاست کی تاریخ کا ایک ایسا تسلسل ہیں جس کا آج خوشحالی سے لہلہا رہا ہے اور جس کا کل عزم و امید کا چراغ روشن رکھے ہوئے ہے۔

شیئر: