Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پی ایس ایل 11: سیالکوٹ سٹالینز کے ’شیئرز پر ہونے والا تنازع‘ کیا ہے؟

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 11ویں سیزن میں شامل ہونے والی نئی فرنچائز سیالکوٹ سٹالینز کے شیئرز کے حوالے سے مبینہ تنازع سامنے آیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک شخص اپنا نام محمد شاہد بتاتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ وہ آسٹریلیا میں کاروبار کرتا ہے۔
اس شخص کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ سیالکوٹ سٹالینز کے 76 فیصد شیئر کا مالک ہے اور اس کے بارے میں تمام دستاویزات پاکستان کرکٹ بورڈ کو دی تھیں۔
محمد شاہد دعویٰ کرتے ہیں کہ فرنچائز کے 24 فیصد شیئر حمزہ مجید نام کے ایک اور شخص کے پاس ہیں اور انہوں نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا اور ان کی اجازت کے بغیر مزید شیئرز فروخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیںَ۔ 
 
محمد شاہد نے ویڈیو بیان میں الزام عائد کیا کہ حمزہ زیادہ منافع کی خاطر ان کے حصے کے شیئرز ’مہنگے داموں فروخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ غیرقانونی ہے۔‘ 
محمد شاہد کہتے ہیں کہ وہ ’27 برس بعد پاکستان آئے ہیں‘ اور ان کا تعلق کراچی اور میمن برادری سے ہے۔
ان کے مطابق وہ ملک میں سرمایہ کاری کر کے اس کی ترقی میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔
تاہم ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’فرنچائز کے معاملات شفاف انداز میں نہیں چلائے جا رہے۔‘
انہوں نے سٹے آرڈر کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’حمزہ مجید کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔‘
واضح رہے کہ اب تک سیالکوٹ سٹالینز، پی سی بی یا پی ایس ایل کی جانب سے اس ویڈیو بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

شیئر: