Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’لگژری طیارے کی خریداری‘، پنجاب حکومت اب تک معاملے پر خاموش کیوں؟

گلف سٹریم جی500 ایک بڑا اور طویل فاصلے تک پرواز کرنے والا طیارہ ہے۔ (فوٹو: گلف سٹریم ایروسپیس)
پنجاب حکومت کی جانب سے ایک لگژری بزنس جیٹ طیارہ حاصل کرنے کے دعوے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں زیربحث ہیں، تاہم اب ایک سرکاری دستاویز بھی منظر عام پر آ گئی ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسی نوعیت کے وی آئی پی طیارے کی آپریشنل اور مینٹیننس ضروریات کے لیے بھاری رقم کی منظوری دی جا چکی ہے۔
اردو نیوز کو دستیاب سرکاری سمری کے مطابق حکومت پنجاب نے رواں مالی سال 26-2025 کے دوران وی آئی پی فلائٹ کے لیے 86 کروڑ روپے سے زائد کی ضمنی گرانٹ منظور کی ہے تاکہ نئے شامل کیے گئے طیارے کے لازمی اخراجات پورے کیے جا سکیں۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے ایک جدید گلف سٹریم جی500 طیارہ بیڑے میں شامل کیا ہے تاکہ وزیراعلیٰ، گورنر اور دیگر اہم شخصیات کے فضائی سفر میں حفاظت، کارکردگی اور اعتماد کے اعلیٰ معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔
اردو نیوز نے اس معاملے پر متعدد سرکاری افسران، بشمول ہوم سیکریٹری پنجاب، سے رابطہ کر کے طیارے کی خریداری یا حصول کی تصدیق چاہی، تاہم خبر کے شائع ہونے تک کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔

دعووں سے دستاویز تک: معاملہ کیسے سامنے آیا؟

یہ معاملہ سب سے پہلے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک دفاعی و سکیورٹی خبروں سے وابستہ اکاؤنٹ کی پوسٹ کے بعد توجہ کا مرکز بنا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پنجاب حکومت نے وی آئی پی ٹرانسپورٹ کے لیے گلف سٹریم جی500 حاصل کیا ہے۔ پوسٹ کے وائرل ہونے کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی اور حکومت کی ترجیحات پر سوالات اٹھائے جانے لگے۔
حکومت کی جانب سے براہ راست تصدیق یا تردید سامنے نہ آنے کے باوجود سرکاری دستاویز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کم از کم اس نوعیت کے طیارے کی آپریشنل تیاری اور دیکھ بھال کے لیے فنڈز باقاعدہ طور پر منظور کیے جا چکے ہیں۔

کابینہ کی منظوری اور فنڈز

سرکاری ریکارڈ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر یہ معاملہ پنجاب کابینہ کے سامنے رکھا گیا، جس نے قواعد کے تحت ضمنی گرانٹ کی منظوری دے دی۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ محکمے کے پاس نئے طیارے کی لازمی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی فنڈز موجود نہیں تھے، جس کے باعث اضافی رقم درکار ہوئی۔ ان اخراجات میں پائلٹس اور تکنیکی عملے کی تربیت، ایندھن، انشورنس، سبسکرپشن پروگرامز، ٹیکسز اور دیگر آپریشنل ضروریات شامل ہیں۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر یہ معاملہ پنجاب کابینہ کے سامنے رکھا گیا، جس نے قواعد کے تحت ضمنی گرانٹ کی منظوری دے دی۔ (فائل فوٹو: ایکس)

مزید بتایا گیا ہے کہ پائلٹس کو ہر چار سے چھ ماہ بعد امریکہ میں ریفریشر کورس کرنا ہو گا جبکہ انجینیئرز کی ابتدائی ٹائپ ٹریننگ بھی بیرون ملک ہو گی۔
دستاویز کے مطابق گلف سٹریم جی500 ایک بڑا اور طویل فاصلے تک پرواز کرنے والا طیارہ ہے جس کا ایندھن خرچ پرانے ہاکر طیارے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے، اسی لیے اضافی بجٹ کی ضرورت پیش آئی۔
ریکارڈ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نومبر 2025 میں پاکستانی فضائیہ سے تین پائلٹس کو ڈیپوٹیشن پر شامل کیا گیا جنہیں ماہانہ فلائنگ الاؤنس دیا جائے گا، جبکہ مزید مکینکس اور کنسلٹنٹس کی خدمات بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔
انشورنس، سپیئر پارٹس کی ترسیل، آئی ٹی آلات، گاڑیوں کی مرمت، صفائی عملے کی تنخواہوں اور دیگر سٹورز کی خریداری جیسے اخراجات بھی اسی گرانٹ کا حصہ ہیں۔

خریداری، لیز یا صرف شمولیت؟

سرکاری متن میں طیارے کو ’انڈکڈ‘ یعنی بیڑے میں شامل کیے جانے کا ذکر ہے، جبکہ لیز کا کوئی حوالہ موجود نہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ طیارہ براہ راست خریدا گیا ہے یا کسی اور انتظام کے تحت حاصل کیا گیا، جس کے باعث اس معاملے کے کئی پہلو اب بھی تصدیق طلب ہیں۔
دعووں کے مطابق گلف سٹریم جی500 دنیا کے جدید ترین بزنس جیٹس میں شمار ہوتا ہے اور اس کی قیمت تقریباً 38 سے 45 ملین امریکی ڈالر تک ہو سکتی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں 10 سے 12 ارب روپے بنتی ہے۔

گلف سٹریم جی500 طیارہ 19 مسافروں تک کی گنجائش رکھتا ہے۔ (فوٹو: گلف سٹریم ایروسپیس)

خیال رہے کہ گلف سٹریم ایروسپیس کا تیار کردہ یہ طیارہ طویل فاصلے کی وی آئی پی اور کارپوریٹ پروازوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور جدید فلائی بائی وائر سسٹم، کم کیبن پریشر اور اعلیٰ سکیورٹی فیچرز جیسی خصوصیات رکھتا ہے۔ اس کی رینج تقریباً 5300 ناٹیکل میل بتائی جاتی ہے جبکہ رفتار 900 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ طیارہ 19 مسافروں تک کی گنجائش رکھتا ہے اور اسے حکومتی شخصیات اور کاروباری ادارے عالمی سفر کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اگرچہ حکومت کی جانب سے اب تک کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا، لیکن سرکاری دستاویز سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ وی آئی پی طیارے کے آپریشن کے لیے بڑے پیمانے پر مالی وسائل مختص کیے جا رہے ہیں۔

 

شیئر: