زمبابوے نے ٹی20 ورلڈ کپ میں سری لنکا کو اس کے ہوم گراؤنڈ کھیتاراما میں شکست دے کر ایک اور بڑا اپ سیٹ کر دیا۔ 179 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے زمبابوے نے یہ اس گراؤنڈ پر دوسری سب سے بڑی کامیاب رن چیز مکمل کی۔
اس سے قبل زمبابوے آسٹریلیا کو شکست دے کر سپر ایٹ مرحلے میں جگہ بنا چکا تھا۔ گروپ مرحلے میں ان کی واحد رکاوٹ آئرلینڈ کے خلاف میچ کا بارش کی نذر ہو جانا رہا، ورنہ ٹیم چار میں سے چار میچ جیت سکتی تھی۔
مزید پڑھیں
-
ٹی20 ورلڈ کپ: زمبابوے نے آسٹریلیا کو اپ سیٹ شکست دے دیNode ID: 900633
اس وقت سپر ایٹ گروپ ون میں انڈیا، جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز اور زمبابوے شامل ہیں اور یہ چاروں ٹیمیں اب تک ایونٹ میں ناقابلِ شکست ہیں۔
سنہرے ماضی سے نئے دور تک: ایک طویل سفر
زمبابوے کے اسسٹنٹ کوچ ڈیون ابراہیم نے سری لنکا کے خلاف فتح کے بعد کہا کہ ڈریسنگ روم میں خوشی اور جوش کی کیفیت ناقابلِ بیان تھی۔
ابراہیم خود 2003 کی اس 'گولڈن جنریشن' کا حصہ رہے ہیں جو سپر سکس تک پہنچی تھی۔ مگر اس کے بعد کے دو عشرے 'اگر مگر' میں گزرے۔
2022 کے ٹی20 ورلڈ کپ میں اچھی کارکردگی کے بعد 2024 میں کوالیفائی نہ کر پانا ٹیم کے لیے شدید دھچکا تھا۔
مگر پچھلے 18 ماہ میں کہانی بدل گئی۔ یہ سفر فلڈ لائٹس سے نہیں بلکہ کینیا میں کھیلے گئے سب ریجنل کوالیفائرز سے شروع ہوا۔ روانڈا اور تنزانیہ جیسی ٹیموں کے خلاف شروع ہونے والا فتوحات کا سلسلہ اب اس ورلڈ کپ سائیکل میں 13-0 تک پہنچ چکا ہے۔
ابراہیم کے مطابق نتائج فوری طور پر نہیں آئے، مگر ٹیم نے چھوٹے چھوٹے شعبوں میں مسلسل بہتری پر کام کیا۔ ان کے الفاظ میں، یہ ایک 'انکریمنٹل امپروومنٹ' یعنی مرحلہ وار بہتری کا نتیجہ ہے۔
ماضی، حال اور مستقبل۔۔۔ تین ستون
زمبابوے کی اس نئی کہانی کے تین مرکزی کردار ہیں
برائن بینیٹ: مستقبل

22سالہ برائن بینیٹ ٹورنامنٹ کے بریک آؤٹ سٹار بن چکے ہیں۔ تین اننگز میں وہ ابھی تک آؤٹ نہیں ہوئے اور 48، 64 اور 63 رنز بنا چکے ہیں۔ سری لنکا کے خلاف جیت میں بھی ان کا کردار فیصلہ کن رہا۔
بلیسنگ مزارابانی: حال
فاسٹ بولر بلیسنگ مزارابانی سپر ایٹ مرحلے میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والوں میں شامل ہیں اور انڈیا کے ورون چکرورتی کے ساتھ مشترکہ طور پر سرفہرست ہیں۔

سکندر رضا: تجربہ اور قیادت
39 سالہ کپتان سکندر رضا کو کوچ نے 'عالمی سپر سٹار' قرار دیا۔ ان کی قیادت میں ٹیم نے آسٹریلیا اور سری لنکا جیسے بڑے حریفوں کو شکست دی۔
اوپنر تادیواناشے مارومانی نے انڈیا میں سپر ایٹ کھیلنے کو ایک نیا تجربہ قرار دیا، جبکہ رضا نے ویسٹ انڈیز کے خلاف آئندہ میچ کو 'شو ٹائم' کہا۔
کیسل کارنر: چھ مداح، ہزاروں آوازیں
179 رنز کے تعاقب میں ایک چھوٹا سا گروپ
جب سری لنکا کے خلاف آخری اوور میں زمبابوے کو 7 گیندوں پر 10 رنز درکار تھے تو کولمبو کے گراؤنڈ میں ایک چھوٹا سا گروپ، جسے 'کیسل کارنر' کہا جاتا ہے، بے قابو جوش میں کھڑا ہو گیا۔
ٹونی مونیونگا کے چھکے اور پھر برائن بینیٹ کے وننگ شاٹ پر پورا گراؤنڈ خاموش تھا مگر ان چھ مداحوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔

کیسل کارنر کیا ہے؟
کیسل کارنر دراصل ہرارے سپورٹس کلب کا ایک سٹینڈ ہے جہاں زمبابوے کے پرجوش مداح جمع ہوتے ہیں۔
اس کے 200 سے زائد رجسٹرڈ ارکان ہیں، مگر اس ورلڈ کپ میں صرف چھ افراد سری لنکا کا سفر کر سکے، ہر ایک نے تقریباً 2000 امریکی ڈالر اپنی جیب سے خرچ کیے۔
ورلڈ بینک کے مطابق زمبابوے کی فی کس آمدنی 2500 ڈالر سے بھی کم ہے۔ اس پس منظر میں یہ قربانی غیر معمولی ہے۔
قربانی، یقین، گیت، ثقافت اور آنسو
ملون کوارامبا، جو وکیل بننے کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، کہتے ہیں کہ ٹیم کے ساتھ کوئی مداح سفر نہیں کر رہا تھا، اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ جائیں گے۔
لیوناہ تانی کوا، جو اس گروپ کی واحد خاتون ہیں، نے اپنی ملازمت سے چھٹی لے کر یہ سفر کیا تاکہ وہ سپر ایٹ میں رسائی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔
گوڈون مامہیو ایک اکاؤنٹنٹ، اپنے تین بچوں کو چھوڑ کر آئے۔ ان کے بقول، یہ ان کی زندگی کی بہترین سرمایہ کاری ہے۔
آسٹریلیا کے خلاف فتح پر تانی کوا کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے۔
آسٹریلیا کے خلاف فتح کے بعد ٹیم اور مداحوں نے مل کر ایک گیت گایا 'وانوفامبانے مویا موٹسونے' جس کا مطلب ہے ہم روح القدس کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔
کیسل کارنر کے گیت شونا اور ندیبیلے زبانوں میں ہوتے ہیں۔
ہر کھلاڑی کے لیے الگ گانا ہے، سکندر رضا کے لیے، مزارابانی کے لیے، بینیٹ کے لیے۔ ایک مخصوص ہُکر گیت بھی ہے جو چوکے، چھکے یا وکٹ پر گایا جاتا ہے۔













