خیبرپختونخوا رمضان پیکیج کے تحت کتنی رقم ملے گی اور اہلیت کا معیار کیا ہے؟
خیبرپختونخوا رمضان پیکیج کے تحت کتنی رقم ملے گی اور اہلیت کا معیار کیا ہے؟
جمعہ 20 فروری 2026 14:10
فیاض احمد، اردو نیوز۔ پشاور
حکومت نے رمضان پیکیج کے لیے یتیم، بیوہ عورتوں اور معذور افراد کو اہل قرار دیا ہے (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے غریب اور مستحق شہریوں کو رمضان پیکیج دینے کا فیصلہ کیا ہے تاہم ابھی اس پیکیج کی تقسیم کا عمل شروع نہیں ہو سکا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ’رمضان پیکیج کا مقصد مہنگائی سے متاثرہ کم آمدن والے شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’تمام مستحق خاندانوں کو کسی قسم کی تاخیر کے بغیر مقررہ رمضان پیکیج دیا جائے اور اس حوالے سے شفافیت برقرار رکھنے کے لیے تمام متعلقہ حکام کو بھی نگرانی کی ہدایت کی گئی ہے۔‘
خیبر پختونخوا حکومت کے رمضان پیکیج 2026 سے 10 لاکھ سے زائد مستحق خاندان مستفید ہوں گے جس کے تحت فی خاندان 12500 روپے رقم ادا کی جائے گی۔
خیبر پختونخوا حکومت کے رمضان پیکیج کے حوالے سے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ رمضان پیکیج کے لیے اہل افراد کا ڈیٹا جمع کریں تاکہ پیسوں کی منتقلی کا عمل شروع کیا جا سکے۔
سوشل ویلفیئر حکام کے مطابق ضلعی افسروں کی طرف سے فراہم کیے گئے ڈیٹا کے مطابق پیسے تقسیم کیے جائیں گے اور یہ رقم مستحق شہری کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ معاونِ خصوصی اطلاعات شفیع جان نے بتایا کہ ’گزشتہ برس 8 لاکھ 50 ہزار خاندانوں میں رمضان پیکیج تقسیم کیا گیا جبکہ رواں برس 10 لاکھ سے زائد افراد میں پیسے تقسیم کیے جائیں گے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’رواں سال رمضان پیکیج کے تحت دی جانے والی رقم 10 ہزار روپے سے بڑھا کر 12 ہزار 500 روپے کر دی گئی ہے۔‘
معاون خصوصی اطلاعات شفیع جان کے مطابق رمضان پیکیج کی تقسیم کا آغاز ہو گیا ہے اور رمضان المبارک کے پہلے عشرے میں تمام پیسے منتقل کر دیے جائیں گے۔
خیبر پختونخوا حکومت نے تقریبا 13 ارب روپے مستحقین افراد میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ان کا کہنا ہے کہ ’صوبے کے محدود وسائل کے باوجود مستحق شہریوں کو مالی تعاون فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے جس کو احسن طریقے سے ادا کیا جائے گا۔‘
رمضان پیکیج کی تقسیم کا عملی طور پر اختیار ارکانِ قومی اور صوبائی اسمبلی کو دیا گیا ہے اور ہر رکن 5 ہزار افراد کے نام دے گا۔ عوامی نمائندے مستحق افراد کا ڈیٹا جمع کرکے ضلعی انتظامی افسروں اور محکمہ سوشل ویلفیئر کے حوالے کریں گے، ڈیٹا جمع ہونے کے بعد ہی رمضان پیکیج مستحق افراد کو دیا جائے گا۔
پشاور کے شہری فرید اللہ نے بتایا کہ ’مستحق افراد کا انتخاب عوامی نمائندوں کو دینے سے مستحق افراد کی حق تلفی ہو گی کیونکہ بیشتر نمائندے سیاسی بنیادوں پر نام درج کریں گے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’پی ٹی آئی کے ارکانِ اسمبلی کوشش کریں گے کہ صرف ان کے ووٹرز رمضان پیکیج حاصل کریں جبکہ مخالف سیاسی جماعتوں کے حامی نظرانداز ہوں گے۔‘
شہریوں کو تشویش ہے کہ ڈیٹا جمع کرنے کا مرحلہ تاخیر سے شروع کرنے کے باعث رمضان پیکیج مستحق افراد کو دینے میں مزید دن لگ سکتے ہیں۔
سوشل ویلفیئر ڈائریکٹوریٹ کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے تقریبا 13 ارب روپے مستحقین افراد میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا ہے اور ایک لاکھ 16 ہزار 394 افراد کو فی کس 12 ہزار 500 روپے دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکومت نے رمضان پیکیج کے لیے یتیم، بیوہ عورتوں اور معذور افراد کو اہل قرار دیا ہے جب کہ عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد رمضان پیکیج کے اہل نہیں ہوں گے۔
پشاور میں سب سے زیادہ ایک لاکھ 8 ہزار 500 افراد کو رمضان پیکیج دیا جائے گا، سوات میں 67 ہزار 500، مردان میں 60 ہزار 486 اور چارسدہ میں 40 ہزار سے زائد افراد کو رمضان پیکیج دیا جائے گا۔