پاکستان ہاکی فیڈریشن کے چیف طارق بگٹی مستعفی، کپتان عماد شکیل بٹ پر دو سالہ پابندی
جمعرات 19 فروری 2026 13:04
پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کے صدر میر طارق حسین مسوری بگٹی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے جبکہ قومی ٹیم کے کپتان عماد شکیل بٹ پر دو سالہ پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
بگٹی نے جمعرات کو اپنی پریس کانفرنس میں استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے آسٹریلیا کے دورے میں بدانتظامی کا ذمہ دار پاکستان سپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کو قرار دیا اور غیرجانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
بگٹی نے کہا کہ جب قومی ٹیم آسٹریلیا کے لیے روانہ ہوئی تو ہوٹل بکنگ کی ادائیگیاں بروقت نہیں کی گئیں۔ ان کے مطابق مقررہ رقم کے بجائے زیادہ ادائیگی کا تقاضا کیا گیا جس کا بندوبست فیڈریشن کے لیے ممکن نہیں تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کے باوجود ٹیم مینجمنٹ نے دستیاب وسائل میں بہترین ممکنہ انتظامات کیے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی خبروں اور پاکستان کی بدنامی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مطالبہ کیا کہ ایک غیرجانبدار تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے جو پرو لیگ کے آغاز سے لے کر اب تک تمام معاملات کی چھان بین کرے۔
طارق بگٹی نے کہا کہ اگر قصور میرا نکلتا ہے تو صرف استعفیٰ کافی نہیں، کیونکہ معاملہ پاکستان کی عزت کا ہے۔ جو بھی ذمہ دار ہو اسے سزا دی جائے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ایس بی نے چھ ماہ سے تاخیری حربے استعمال کیے اور لاجسٹک معاملات درست انداز میں نہیں سنبھالے۔ ان کے مطابق فنڈز وزیرِ اعظم نے جاری کیے تھے مگر ایک قائمہ کمیٹی کے فیصلے کے تحت رقم پی ایس بی کے پاس رکھی گئی تاکہ وہ خود اخراجات کرے۔ بگٹی کا کہنا تھا کہ پہلی بار یہ طریقہ اختیار کیا گیا تاکہ پی ایس بی کو عملی انتظامات کا تجربہ ہو سکے، مگر نتائج سب کے سامنے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیلجیئم اور انگلینڈ کے آئندہ ایونٹس کے لیے بھی ہوٹل بکنگ سے متعلق دو ماہ قبل ای میلز بھیجی گئیں مگر پی ایس بی کی جانب سے تاحال کوئی واضح جواب نہیں ملا۔
عماد شکیل بٹ پر پابندی
طارق بگٹی نے کپتان عماد شکیل بٹ پر سخت الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کھلاڑیوں کو دباؤ میں لیا اور انتظامیہ کے خلاف ماحول بنایا۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ مس کنڈکٹ کی بنیاد پر عماد شکیل بٹ کو دو سال کے لیے قومی و ڈومیسٹک ہاکی سے معطل کیا گیا ہے۔
تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ زیادہ تر کھلاڑی پاکستان کے لیے کھیل رہے ہیں اور کسی سیاسی ایجنڈے کا حصہ نہیں۔
خود مختاری کا مطالبہ
طارق بگٹی نے زور دیا کہ پاکستان کی تمام سپورٹس فیڈریشنز کو خودمختار بنایا جائے۔ ان کے مطابق تمام فنڈز پی ایس بی کے پاس رہتے ہیں جبکہ فیڈریشنز کو مالی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاکی کے لیے بھی پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی طرز پر ایک خودمختار بورڈ قائم ہونا چاہیے جسے سٹیڈیمز اور دیگر اثاثے دیے جائیں تاکہ وہ ریونیو پیدا کر سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر مارکیٹنگ اور میڈیا سمیت پیشہ ورانہ شعبے فعال کیے جائیں تو پانچ سے چھ سال میں پاکستان ہاکی دوبارہ اپنے عروج کی جانب لوٹ سکتی ہے۔
پس منظر: آسٹریلیا دورے کا بحران
یہ بحران قومی ٹیم کے ایف آئی ایچ پرو لیگ 2025-26 کے آسٹریلیا (ہوبارٹ) دورے کے بعد شدت اختیار کر گیا تھا جہاں کھلاڑیوں نے واپسی پر دعویٰ کیا کہ انہیں غیرمعیاری رہائش، خود کھانا پکانے اور دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹیم کو میدان میں بھی بھاری شکستوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد وزیرِ اعظم نے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا۔
پاکستان ہاکی، جو ماضی میں 1960، 1968 اور 1984 کے اولمپکس میں طلائی تمغے جیت چکی ہے، طویل عرصے سے مالی بحران، انتظامی مداخلت اور خودمختاری کے فقدان کا شکار ہے۔ حالیہ تنازع نے ان مسائل کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
بگٹی کا کہنا تھا کہ انہیں جیسے ہی پیغام ملا انہوں نے فوری استعفیٰ دے دیا اور اب فیصلہ وزیرِ اعظم پر منحصر ہے کہ اسے کب قبول کیا جاتا ہے۔
