Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تاریخی علاقہ الدرعیہ جس نے جزیرہ نما عرب کو نئی شکل دی

آج یہ علاقہ ایک جدید شہری ریاست کا ماڈل بن چکا ہے۔(فوٹو: ایس پی اے)
سعودی ریاست رفتہ رفتہ جن رفعتوں تک پہنچی ہے اس سے استقامت، اور اتحاد کی وہ میراث بھی سامنے آ جاتی ہے جو موجودہ زمانے سے صدیوں پہلے شروع ہوئی تھی۔
430 (سی ای) میں وادی حنیفہ کے آباد ہونے کے بعد سے 1446 (سی ای) میں شہزادہ مانع بن ربیعہ المریدی نے درعیہ کی سٹریٹیجک بنیاد ڈالی۔
اس وقت کے انتشار، قطعات اور ٹکڑوں میں منقسم ابتدا کے بعد آج یہ علاقہ ایک جدید شہری ریاست کا ماڈل بن چکا ہے۔
اس ارتقا نے امام محمد بن سعود کے لیے 1727 میں درعیہ میں پہلی سعودی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی جس کا مرکزی نقطہ ایک وسیع  سیاسی، معاشی اور ثقافتی سلطنت کو وجود میں لانا تھا۔
سیاسی خلا آتے رہے لیکن اتحاد کی خواہش بھی ساتھ ساتھ جاری رہی تا وقتیکہ دوسری سعودی ریاست کا قیام عمل میں آیا جسے امام ترکی بن عبداللہ نے قائم کیا تھا۔
یہی تسلسل اس وقت اپنے عروج کو پہنچ گیا جب شاہ عبدالعزیز آل سعود نے سنہ 1902 میں ریاض کو زیرِ نگیں کر لیا۔

آج  299 سال پر محیط ایک وراثت، خادمِ حرمینِ شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی قیادت میں بھر پور انداز میں پھل پھول رہی ہے۔ ان کے دور میں مملکت کی گہری تاریخی جڑیں، وژن 2030 کی انقلابی تبدیلوں کے اہداف کے لیے پُل کا کام کر رہی ہیں۔

 

شیئر: