Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ کی پاکستان کی درخواست پر ایرانی تجویز آنے تک جنگ بندی میں توسیع

امریکی صدر ٹرمپ نے  پاکستان کی درخواست پر ایران کے ساتھ جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک کے لیے توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت تک حملے روک رہے ہیں، جب تک کہ ایرانی رہنما اور نمائندے ایک متفقہ تجویز سامنے نہیں لاتے۔
منگل کی رات گئے صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے صورتحال غیر یقینی نظر آرہی تھی اور دو ہفتے کی جنگ بندی بدھ کی صبح ختم ہونے والی تھی۔
تاہم صدر ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ جنگ بندی میں توسیع کتنے دن کے لیے ہوگی صرف یہ اشارہ دیا کہ ایران کو ایک متفقہ تجویز کےلیے وقت دے رہے ہیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان نہیں جا رہے ہیں۔ انھوں نے ایران کے ساتھ متوقع مذاکرات کے دوسرے دور میں امریکی وفد کی قیادت کرنی تھی جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا  ہے۔
صدر ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے ساتھ یہ واضح نہیں کیا کہ جنگ بندی میں توسیع کتنے دن کے لیے ہوگی صرف یہ اشارہ دیا کہ ایران کو ایک متفقہ تجویز کےلیے وقت دے رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ’ اس حقیقت کی بنیاد پر کہ ایران کی حکومت شدید طور پر تقسیم کا شکار ہے، جو کہ غیر متوقع نہیں، پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر، جس میں ہمیں کہا گیا ہے کہ ہم ایران کے خلاف اپنے حملے کو اس وقت تک روک لیں، جب تک ان کے رہنما اور نمائندے ایک متفقہ تجویز پیش نہ کر دیں۔‘
’میں نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ ناکہ بندی جاری رکھے اور دیگر پہلووں سے تیار اور مستعد رہے۔ اس لیے میں جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع رہے گی جب تک ان کی تجویز پیش اور بات چیت کسی بھی شکل میں کسی نتیجے تک نہ پہنچے۔‘
عرب نیوز کے مطابق پاکستان کے دو حکام نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا وزیراعظم شہباز شریف سمیت پاکستان رہنماوں نے منگل کی رات تک فریقین کو مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے راضی کرنے کے لیے بھر پور کوشش کی تھی۔
 
 
 

شیئر: