عمر کی بنیاد پر امتیازی سلوک، چینی نوجوانوں میں مصنوعی ذہانت سے ’ون پرسن کمپنی‘ کا رجحان
کیرن ڈائی کے مطابق ’پہلے اکیلے کاروبار چلانا مشکل تھا، لیکن اب مصنوعی ذہانت نے رکاوٹیں کم کر دی ہیں۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
چین کے نوجوانوں میں عمر کی بنیاد پر امتیاز کے خدشات کے باعث ’ون پرسن کمپنی‘ قائم کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہ کمپنیاں زیادہ تر مصنوعی ذہانت پر انحصار کرتی ہیں، جو کاروبار کے بیشتر کام خودکار انداز میں سرانجام دیتی ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ٹیکنالوجی کی دنیا میں چھوٹے سٹارٹ اپس پہلے ہی مقبول ہیں، لیکن چین میں یہ رجحان حکومتی پالیسیوں اور مالی معاونت کے باعث مزید فروغ پا رہا ہے۔ مختلف شہروں نے لاکھوں ڈالر کے فنڈز اور کرایے پر سبسڈی دینے کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ نوجوان اپنی کمپنیاں قائم کر سکیں۔ یہ اقدام بیجنگ کے ’ٹیکنالوجیکل سیلف ریلائنس‘ کے ہدف سے ہم آہنگ ہے۔
شنگھائی کی کمپنی ’سولو نیسٹ‘ کی بانی کیرن ڈائی کا کہنا ہے کہ ’ون پرسن کمپنی دراصل اے آئی کے دور کی پیداوار ہے۔ پہلے اکیلے کاروبار چلانا مشکل تھا، لیکن اب مصنوعی ذہانت نے رکاوٹیں کم کر دی ہیں۔‘ ان کے مطابق نوجوان اس ماڈل کو بڑے شوق سے اپنا رہے ہیں۔
ایک نوجوان وانگ تیانی، جو 26 سال کے ہیں، نے اپنی ملازمت چھوڑ کر اے آئی کی مدد سے اشتہارات تیار کرنا شروع کیے اور اب وہ ماہانہ 40 ہزار یوان تک کما رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان مستقبل میں ’بڑا ٹرینڈ‘ بن جائے گا کیونکہاے آئی کاروبار کو زیادہ مؤثر اور تیز رفتار بنا رہا ہے۔
چینی سوشل میڈیا پر ’35 کی مشکلات‘ کئی برسوں سے زیر بحث ہے، جس کا مطلب ہے کہ 35 سال کی عمر کے بعد ملازمت میں مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ اسی خوف نے نوجوانوں کو متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔
حکومت بھی اس رجحان کو سہارا دے رہی ہے۔ سوزو شہر نے اعلان کیا ہے کہ 2028 تک 10 ہزار سے زائد او پی سی ٹیلنٹس تیار کیے جائیں گے اور 700 ملین یوان مختلف شعبوں میں لگائے جائیں گے۔ اسی طرح چنگدو نے گریجویٹس کو 20 ہزار یوان تک سبسڈی دینے کا وعدہ کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدامات نوجوانوں میں بے روزگاری کم کرنے کا ایک سستا اور مؤثر طریقہ ہیں۔ نوجوان اب سوال کر رہے ہیں کہ ’کیا میں اے آئی کی مدد سے اپنی صلاحیتوں کو عملی جامہ پہنا سکتا ہوں؟‘ اور یہی سوال انہیں نئی راہوں پر گامزن کر رہا ہے۔
