’تین تین گاڑیاں،‘ پنجاب حکومت کی اعلٰی سرکاری افسران کے لیے نئی ٹرانسپورٹ پالیسی
’تین تین گاڑیاں،‘ پنجاب حکومت کی اعلٰی سرکاری افسران کے لیے نئی ٹرانسپورٹ پالیسی
بدھ 25 فروری 2026 6:27
رائے شاہنواز -اردو نیوز، لاہور
پنجاب حکومت نے چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس کو تین تین سرکاری گاڑیاں استعمال کرنے کی اجازت دے دی (فائل فوٹو: پنجاب اسمبلی)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت نے سرکاری افسران کے لیے گاڑیوں کی خریداری، تقسیم، استعمال اور انتظام کے حوالے سے موٹر ٹرانسپورٹ پالیسی میں 18 سال بعد اہم ترامیم کی ہیں۔
ان ترامیم کے تحت صوبے کے اعلٰی ترین سرکاری افسران چیف سیکریٹری اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس کو تین تین سرکاری گاڑیاں استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
اس ترمیم کو موٹر ٹرانسپورٹ پالیسی 2026 کا نام دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے پنجاب میں آخری بار سرکاری افسران کے لیے پالیسی 2008 میں بنائی گئی تھی جو کہ اب تک نافذ العمل تھی۔
اردو نیوز کو دستیاب نئی پالیسی دستاویزات کے مطابق چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس دونوں کو الگ الگ تین تین گاڑیاں الاٹ کی گئی ہیں۔
ان میں سے ایک 2800 سی سی تک کی آفیشل گاڑی، ایک 4700 سی سی تک کی ٹورنگ گاڑی (فیلڈ میں جانے کے لیے) اور ایک 1800 سی سی تک کی ذاتی استعمال کی گاڑی شامل ہے۔
آفیشل اور ذاتی استعمال کی دو گاڑیوں کے لیے ماہانہ 800 لیٹر پیٹرول کی حد مقرر کی گئی ہے، جبکہ 4700 سی سی کی گاڑی کے لیے ایندھن کی کوئی حد نہیں رکھی گئی۔
پُرانی پالیسی کے تحت یہ افسران صرف 1300 سی سی اور 1600 سی سی کی گاڑیاں استعمال کر سکتے تھے، جن کے لیے 200 لیٹر پیٹرول کی حد مقرر تھی۔ اس ترمیم سے گاڑیوں کے انجن کی کیپیسٹی اور ایندھن کی حد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
خیال رہے کہ گزٹ نوٹیفیکیشن کی اشاعت کے بعد نئی پالیسی اس وقت لاگو ہو چکی ہے۔ ایک اعلٰی افسر نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ گاڑیاں اس سرکاری پالیسی کے بعد خریدی جائیں گی۔‘
’یہ گاڑیاں پہلے ہی افسران کے زیرِاستعمال ہیں کیونکہ بدلتے حالات کے ساتھ افسران کی گاڑیوں کو اپ گریڈ رکھا گیا ہے، البتہ قانونی طور پر آڈٹ پیراز میں اضافی نوٹ لگانا پڑتے تھے تو اب قانونی طور پر چیزیں دُرست ہو گئی ہیں۔‘
گریڈ 20 سے 22 کے سیکریٹریز کو دو گاڑیاں (2800 سی سی اور 1800 سی سی) استعمال کرنے کی اجازت مل گئی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پنجاب میں سرکاری گاڑیوں کی پالیسی بنیادی طور پر افسران کے گریڈ اور عہدے پر مبنی ہے، جو گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کو دستیاب ہوتی ہے۔
یہ پالیسی حکومت کی طرف سے عوامی فنڈز سے خریدی گئی گاڑیوں کے استعمال کو منظم کرنے کے لیے بنائی گئی ہے، تاکہ شفافیت اور کفایت شعاری کو یقینی بنایا جا سکے۔
نئی ترامیم کے تحت گریڈ 20 سے 22 کے سیکریٹریز کو دو گاڑیاں (2800 سی سی اور 1800 سی سی) استعمال کرنے کی اجازت ہے، جن میں گریڈ 21 اور 22 کے افسران کو ذاتی استعمال کے لیے 200 لیٹر پیٹرول اور آفیشل کاموں کے لیے لامحدود ایندھن ملے گا۔
گریڈ 19 اور 20 کے سپیشل سیکریٹریز اور ڈی آئی جی کو 1600 سی سی کی گاڑی کے ساتھ 250 لیٹر ماہانہ پیٹرول دیا جائے گا، جو پہلے 1000 سے 1300 سی سی کی گاڑیوں اور 175 لیٹر کی حد تک محدود تھا۔
گریڈ 19 کے ایڈیشنل سیکریٹریز کو 1600 سی سی کی گاڑی کے ساتھ 200 لیٹر، جبکہ گریڈ 18 کے ڈپٹی سیکریٹریز کو 1500 سی سی کی گاڑی کے ساتھ 175 لیٹر پیٹرول ملے گا۔
اعلٰی سرکاری افسران کے لیے 4700 سی سی کی گاڑی کے لیے پیٹرول کی کوئی حد نہیں رکھی گئی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پنجاب میں سرکاری گاڑیوں کی مجموعی تعداد کے بارے میں سرکاری اعدادوشمار دستیاب نہیں، تاہم لاہور میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی سرکاری گاڑیوں کی ایک حالیہ رپورٹ سامنے آئی ہے۔
اس رپورٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مختلف محکموں میں 3800 سے زائد سرکاری گاڑیوں نے صوبائی دارالحکومت کی سڑکوں پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ گاڑیاں اعلٰی افسران اور محکموں کے ذاتی اور آفیشل استعمال میں ہیں، جو پالیسی کی خلاف ورزیوں کی نشان دہی کرتی ہیں۔ مجموعی طور پر پنجاب میں افسران کے ذاتی استعمال میں بلا شبہ ہزاروں گاڑیاں ہیں۔