اتوار کی صبح کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ہونے والے خودکش بم دھماکے نے قریبی علاقے کے مکینوں کی زندگی کا معمول چند لمحوں میں درہم برہم کر دیا۔ جو پہلے عید کی تیاریاں کر رہے تھے اب وہ اپنے ٹوٹے گھروں کے ملبے تلے سے سامان نکالنے اور رات گزارنے کے لیے محفوظ ٹھکانے کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔
دھماکے کے ایک روز بعد جب ہم جائے وقوعہ پر پہنچے تو بہت کچھ بدل چکا تھا۔ متاثرہ ٹرین کے انجن اور بوگیوں کو ہٹا دیا گیا تھا، سڑک اور ریلوے ٹریک کے اطراف صفائی کا عمل جاری تھا اور بھاری مشینری ملبہ سمیٹنے میں مصروف تھی۔
مزید پڑھیں
اتوار کو اس خودکش بم حملے میں ایک شٹل ٹرین سروس کو ہدف بنایا گیا تھا جس میں حکومتی بیان کے مطابق کم از کم 14 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے تاہم پولیس اور ہسپتال ذرائع کے مطابق ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
جائے وقوعہ کے قریب دو درجن سے زائد گھروں اور عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ 100 سے زائد عمارتوں کے شیشے ٹوٹے ہیں۔
کئی مکانات کی چھتیں گر چکی ہیں، بعض دیواروں میں گہری دراڑیں پڑ گئی ہیں جبکہ متعدد گھروں کے دروازے اور کھڑکیاں اپنی جگہ سے اکھڑ گئی ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق بعض متاثرہ گھروں سے اب تک انسانی اعضا مل رہے ہیں۔
ریلوے پٹڑی کے ساتھ متاثرہ محلے میں داخل ہوتے ہی گلی میں گھروں کے باہر ہر طرف چھتوں اور دیواروں سے گرنے والا ملبہ اور وہ سامان نظر آئے جنہیں متاثرہ گھروں کے رہائشی ملبے سے نکال کر کہیں اور منتقل کر رہے تھے۔
کئی لوگ اپنے گھروں کے اندر صفائی کرتے ہوئے، ملبہ ہٹاتے ہوئے اور کچھ باہر کھڑے نظرآئے، کوئی ٹوٹے برتن سمیٹ رہا تھا کوئی الماری کے ملبے سے کپڑے نکال رہا تھا۔ کچھ لوگ فریج، ٹی وی، کپڑے اور دوسرا بچا کچا سامان گاڑی میں ڈال کر کسی محفوظ جگہ منتقل کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیے۔
بعض گھروں میں لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مرمت کا کام بھی کرتے ہوئے نظرآئے۔ عبدالمالک جن کا گھر دھماکے سے بری طرح متاثر ہوا نے بتایا کہ ’کل صبح ایسا لگا جیسے قیامت آ گئی ہو۔ زور دار دھماکے کے بعد ہماری چھت آ گری، گھر میں موجود خواتین اور بچے زخمی ہو گئے۔ گھر کے اندر کھڑی دو گاڑیاں ملبے تلے دب کر تباہ ہو گئیں جبکہ باہر کھڑی دوگاڑیاں جل کر تباہ ہو گئیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ان کے گھر کا قیمتی سامان جس میں فریج اور ایل ای ڈی بھی شامل ہیں ملبے تلے دب چکا ہے اور اب یہ مکان رہنے کے قابل نہیں رہا۔
ساتھ کھڑے ان کے بھائی نے بتایا کہ ’عید سر پر آگئی ہے مگر ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ کہاں جائیں۔ کل تک عید منانے کی تیاری کر رہے تھے اب پناہ کی فکر ہے۔ خواتین اور بچوں کو رشتہ داروں کے پاس بھیج دیا ہے جبکہ ہم خود گھر کے باہر بیٹھ کر باقی بچے سامان کی حفاظت کر رہے ہیں کیونکہ دھماکے سے گھر کے دروازے اور کھڑکیاں سب اکڑ گئی ہیں۔‘

ایک اور رہائشی محمد شاہد نے بتایا کہ ان کے گھر میں دو افراد زخمی ہوئے۔ ’اللہ کا شکر ہے کہ جانی نقصان نہیں ہوا مگر گھر تباہ ہو گیا ہے۔ نہ چھت باقی ہے نہ دروازے، اب ہم سامان اٹھا کر دوسری جگہ منتقل ہو رہے ہیں۔ عید بھی شاید رشتہ داروں کے ہاں ہی گزارنی پڑے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ نقصان عام لوگوں کا ہوا ہے اور حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر متاثرین کی مدد کرے تاکہ وہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کر سکیں۔
دھماکے میں ٹرین کا انجن اور تین بوگیاں پٹری سے اتر گئی تھیں جن میں سے ایک الٹ گئی تھی۔ حکام کے مطابق کرین اور ریلیف ٹرین کی مدد سے ان بوگیوں کو سیدھا کر کے جائے وقوعہ سے ہٹا دیا گیا ہے اور ریلوے سٹیشن منتقل کر دیا گیا ہے۔
اسی طرح دھماکے سے متاثر ہونے والی 50 سے زائد گاڑیوں میں سے بیشتر کو موقع سے ہٹا دیا گیا ہے جن میں سے 40 مکمل طور پر جل کر تباہ ہو چکی تھیں تاہم اب بھی درجن سے زیادہ جلی ہوئی اور ناکارہ گاڑیاں جائے وقوعہ پر پڑی ہوئی ہیں۔ ٹریک کے دوسری جانب دیوار کے تباہ شدہ حصوں کی مرمت بھی کر دی گئی ہے جبکہ بجلی کی بحالی کا کام بڑی حد تک مکمل کر لیا گیا ہے۔
دھماکے میں زخمی ہونے والے 100 سے زائد افراد کو سول ہسپتال، سی ایم ایچ، ٹراما سینٹر اور دیگر ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا تھا۔ معمولی زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا جبکہ شدید زخمی اب بھی زیر علاج ہیں۔
ادھر ضلعی انتظامیہ نے نقصانات کے جائزے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو متاثرہ گھروں، گاڑیوں اور دیگر املاک کا تخمینہ لگا کر رپورٹ پیش کرے گی تاکہ متاثرین کی مالی معاونت کا عمل شروع کیا جا سکے۔
اسسٹنٹ کمشنر سٹی کی سربراہی میں اس کمیٹی میں سی ٹی ڈی، میٹرو پولیٹن، محکمہ تعمیرات و مواصلات اور محکمہ زراعت انجینیئرنگ کے افسران کو ارکان شامل کیا گیا ہے۔
کمیٹی کے ارکان نے پیر کو جائے وقوعہ کا دورہ کرکے دھماکے سے متاثرہ املاک اور گاڑیوں کے نقصانات کا جائزہ لیا۔ حکام کے مطابق تفصیلی تخمینہ کے مطابق رپورٹ ڈپٹی کمشنر کو پیش کی جائے گی اس کے بعد متاثرہ افراد کو نقصانات کے ازالے کے لیے دہشتگردی کے متاثرین کی مدد کے لیے بنائے گئے قانون کے تحت مدد کی جائے گی۔
متاثرہ خواتین اور خاندانوں کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ بعض خواتین نے آبدیدہ ہو کر بتایا کہ زندگی بھر کی جمع پونجی سے بنائے گئے مکانات ملبے کے ڈھیر بن گئے ہیں۔ واقعہ کے بعد بجلی اور پانی کی فراہم متاثر ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔

سرکاری بیان کے مطابق وزیراعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی سے گزشتہ روز ٹرین دھماکے میں متاثر ہونے والے خاندانوں نے ملاقات کی جن کے گھروں اور املاک کو شدید نقصان پہنچا تھا۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے متاثرہ خاندانوں سے تفصیلی بات چیت کی اور ان کے نقصانات کا فوری ازالہ کرنے کے احکامات جاری کیے۔ ڈپٹی کمشنر نے متاثرین کو واٹر ٹینک، کمبل، میٹرس، ادویات، پانی کولر، برتن، ٹینٹ اور دیگر ضروری اشیا فوری فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے۔
واقعے کے بعد شہر میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ شاہراہوں پر پولیس گشت بڑھا دیا گیا ہے، مختلف مقامات پر ناکے قائم ہیں جبکہ ریلوے ٹریک اور سٹیشن کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب کاؤنٹر ٹیررازم پولیس اور دیگر سکیورٹی ادارے حملے کی تحقیقات میں مصروف ہیں۔ ذرائع کے مطابق دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی سے متعلق شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور اس کے روٹ کا تعین کرنے کے لیے قریبی علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کی جا رہی ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ’بعض مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے۔‘
حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے جس نے مبینہ طور پر حملہ آور کی شناخت 25 سالہ بلال شاہوانی کے نام سے ظاہر کی ہے۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ حملہ آور کا تعلق کوئٹہ کے علاقے سریاب کلی سردہ سے تھا اور وہ ان کے خودکش سکواڈ ’مجید بریگیڈ‘ کا حصہ تھا۔













