لاہور: کتوں نے حملہ کیا یا وجہ کوئی اور، باغِ جناح میں ہرن کیسے ہلاک ہوئے؟
بدھ 25 فروری 2026 18:37
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز، لاہور
پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں تاریخی پارک باغِ جناح میں دو ہرنوں کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق ہوئی ہے، تاہم اس واقعے میں ابتدائی طور پر مختلف اطلاعات سامنے آتی رہیں۔
مقامی میڈیا پر پہلے ہرنوں پر آوارہ کتوں کے مبینہ حملے کی خبر گردش کرتی رہی جس کے بعد انتظامیہ نے نر ہرن کے حملے کا موقف اختیار کیا اور اب پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ہلاکت کی ممکنہ وجہ پانی کی شدید کمی اور دباؤ کو قرار دیا گیا ہے۔
چند روز قبل مقامی میڈیا پر بتایا گیا کہ 19 فروری کی رات باغِ جناح میں موجود ہرنوں پر آوارہ کتوں نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں چھ ہرن ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔
یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ زخمی ہرنوں کی ٹانگوں پر زخموں کے واضح نشانات تھے اور ہلاک ہونے والے ہرنوں کا پوسٹ مارٹم کیا جا چکا ہے۔
ان اطلاعات کے بعد انتظامیہ متحرک ہوئی اور ان تمام دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے ابتدائی طور پر بتایا کہ باغ جناح کے احاطے میں کوئی ہرن ہلاک نہیں ہوا بلکہ چار ہرن زخمی ہوئے تھے۔
انتظامیہ کے مطابق ابتدائی طبی امداد کے بعد ہرنوں کو نجی فارم ہاؤس منتقل کر دیا گیا۔ ڈائریکٹر باغ جناح کے مطابق حتمی موقف ویٹرنری رپورٹ موصول ہونے کے بعد سامنے لایا جائے گا۔
اسی دوران یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کی انتظامیہ نے تصدیق کی کہ ہرنوں کا پوسٹ مارٹم یونیورسٹی میں کیا گیا ہے اور رپورٹ جلد جاری کی جائے گی۔
چند روز بعد ایک نئی پیش رفت سامنے آئی جس میں کہا گیا کہ باغ جناح میں نر ہرن کے حملے سے دو مادہ ہرن دم توڑ گئی ہیں۔ اس بیان کے مطابق مجموعی طور پر باغ جناح میں آٹھ ہرن رکھے گئے تھے جن میں سے دو کی موت واقع ہو چکی ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ نر ہرن کے حملے سے مادہ ہرن زخمی ہوئیں جس کے بعد انہیں طبی امداد دی گئی لیکن وہ جانبر نہ ہو سکیں جبکہ واقعے کے بعد باقی ہرنوں کو نر ہرن سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔
اس صورت حال کے پیش نظر مینجنگ ڈائریکٹر پی ایچ اے راجا منصور احمد نے تحقیقات کے لیے دو رکنی کمیٹی تشکیل دی۔
کمیٹی میں ایڈیشنل ڈی جی زونا بٹ اور ڈائریکٹر ایم اینڈ او احمد سعید منج شامل تھے۔ انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ 23 گھنٹوں میں اپنی رپورٹ پیش کریں اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں۔
بدھ کو یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور کے شعبہ پیتھالوجی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظرِعام پر آئی جس میں دو مادہ چیتل ہرنوں کی اموات کی ممکنہ وجہ پانی کی شدید کمی اور دباؤ کو قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ہرن 20 فروری 2026 کو صبح 3 بجے ہلاک ہوئے جبکہ پوسٹ مارٹم اسی روز صبح 11 بجے کیا گیا۔ کلینیکل ہسٹری میں درج ہے کہ باغِ جناح انتظامیہ کے مطابق دونوں ہرن شدید دباؤ کی حالت میں تھے اور دوران علاج دم توڑ گئے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ایک ہرن قریباً 5 سال کی بالغ مادہ تھی جبکہ دوسرا قریباً 5 ماہ کا کم عمر ہرن تھا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بالغ مادہ ہرن حاملہ تھی اور اس کے رحم میں قریباً 2 ماہ کا بچہ موجود تھا۔
’معائنے کے دوران دونوں جانوروں میں پانی کی شدید کمی پائی گئی۔ ہلاک ہرنوں کے مثانے پیشاب سے بھرے ہوئے تھے جبکہ پیٹ میں بھوسے کے رنگ کا مائع بھی موجود تھا۔‘
اسی طرح بتایا گیا کہ ہرنوں کے گردوں میں باریک خونی رساؤ دیکھا گیا اور جگر اور پھیپھڑوں میں خون کی زیادتی نوٹ کی گئی۔ ہلاک ہرنوں کی تِلی کا سائز بھی بڑھا ہوا تھا اور آنتوں کی جِھلیوں میں سُوجن موجود تھی۔
رپورٹ کے مطابق دونوں جانوروں کے معدے خوراک سے بھرے ہوئے تھے۔ عبوری تشخیص میں کہا گیا ہے کہ شدید ڈی ہائیڈریشن اور دباؤ کے نتیجے میں ہرنوں کی خون کی نالیوں کے دباؤ میں اچانک کمی واقع ہوئی۔
یاد رہے کہ باغ جناح برطانوی دور میں قائم ہوا اور طویل عرصے تک لارنس گارڈن کے نام سے جانا جاتا رہا۔ لاہور کے وسط میں واقع اس تاریخی اور تفریحی مقام پر نباتاتی تنوع کے ساتھ ساتھ محدود پیمانے پر جنگلی حیات بھی رکھی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق دونوں ہرنوں کی موت سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ جمعرات کو پیش کی جائے گی جس سے ممکنہ طور پر یہ واضح ہو سکے گا کہ انتظامی سطح پر کیا کوتاہیاں ہوئیں اور کیا واقعی ہرنوں پر کتوں نے حملہ کیا تھا یا نہیں؟