Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پائیدار سیاحت کا مرکز: بحیرۂ احمر میں منفرد سیاحتی سرگرمیاں سیاحوں کی منتظر

سعودی ریڈ سِی اتھارٹی سمندری سیاحت کے لیے ضابطوں کا ایک ماحولیاتی نظام بنانے کے لیے کام کر رہی ہے (فوٹو: ریڈ سی)
اب جبکہ عیدالاضحٰی کی چھٹیاں ختم ہو چکی ہیں، مملکت میں فیملیاں اور سیاحت کے لیے آنے والے ایسے مقامات پر جانے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں جہاں پُرسکون ماحول میسر ہو۔
 
اور بحیرۂ احمر ایک ایسا سیاحتی مقام ہے جہاں آرام کی جگہیں بھی ہیں، تفریح کے مواقع بھی، نئی نئی چیزیں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں اور سمندری سیاحت کا رنگا رنگ تجربہ بھی۔
 
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق آج بحیرۂ احمر محض ایک قدرتی تفریحی منزل نہیں بلکہ اُس بڑی تبدیلی کا ایک حصہ بن چکا ہے جو مملکت کے شعبۂ سیاحت میں وقوع پذیر ہے۔ اِس کی بڑی وجوہات میں سمندری سیاحت سے منسلک مشاغل میں اضافہ، ساحلوں کو آراستہ و پیراستہ کرنا، چھوٹی کشتیوں کی آماجگاہوں کے آس پاس خدمات میں بہتری اور سیاحوں میں سمندری ماحول کے تحفظ کی اہمیت سے متعلق بڑھتی ہوئی آگہی شامل ہیں۔
دیگر وجوہات میں ایسے منظم، باضابطہ اور قابلِ بھروسہ تجربات کی مانگ میں اضافہ ہے جو فیملیوں اور معاشرے کے مختلف طبقات کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہوں۔
 
عید کے بعد سے، سیاح نہ صرف بحیرۂ احمر کے خوبصورت تفریحی مقامات کی جانب کچھے چلے جا رہے ہیں بلکہ اعلٰی درجے کی خدمات کی فراہمی، حفاظتی اقدامات کی دستیابی، آپریشنز کے معیار اور مناسب سہولتوں تک رسائی کی آسانی بھی اُن کے لیے کشش کی ایک بڑی وجہ ہے کیونکہ یہ عوامل محفوظ اور پائیدار سمندری سیاحت کے تصور کو مضبوط بناتے ہیں۔
 
اِس شعبے میں ضابطوں کی اہمیت کا ایک پہلو یہ ہے کہ سمندری سیاحت کی سرگرمیوں کو ایسے تبدیل کیا جائے کہ اِن کی بنیاد منظم اور باضابطہ تجربات پر ہو جہاں وہ معیار واضح ہوں جو لوگوں کی حفاظت کے لیے ہیں، سمندری ایکو سسٹم میں تعاون فراہم کرتے ہوں اور خدمات فراہم کرنے والوں کو اس قابل بنائیں کہ وہ فریم ورک کے اندر رہ کر کام کریں جس سے سیاحوں کے تجربے کی کوالٹی بہتر ہو۔
 
اس سلسلے میں ’سعودی ریڈ سِی اتھارٹی‘ سمندری سیاحت کے لیے ضابطوں کا ایک ماحولیاتی نظام بنانے کے لیے کام کر رہی ہے جں میں فریم ورک، قانونی ضروریات اور سمندری سیاحت کے مشاغل کے لیے جہاز رانی اور لائسنس کا طریقۂ کار وضع کیا جائے گا۔

یہ کوششیں، سیاحوں کی حفاظت اور خدمات کی کوالٹی کو بہتر بنائیں گی اور سمندری ماحول کے تحفظ  کے ساتھ ساتھ سمندری سیاحت کے شعبے میں تعاون کے ذریعے اسے پائیدار ترقی کی طرف لے جائیں گی۔
 
اِن کوششوں سے اِس رویے میں بڑی تبدیلی کی طرف منتقلی کا اظہار بھی ہوتا ہے جو اب تک بحیرۂ احمر میں دلچپسی کی وجہ رہا ہے: یعنی صرف ایک پُرکشش قدرتی سیاحتی منزل کے بجائے نظم و ضبط سے لیس سیاحت کا ایک ایسا شعبہ جہاں تفریح، تحفظ، سرمایہ کاری اور پائیداری یکجا ہو جاتے ہیں اور جن سے سیاحوں کو زیادہ ذمہ دارانہ اور معلومات سے بھرپور تجربہ حاصل ہوتا ہے۔

اب وہ اپنی مرضی سے خدمات فراہم کرنے والے ایسے ادارے کا انتخاب کر سکیں گے جس پر اُنھیں اعتماد ہو۔ سیاح حفاظتی رہنمائی کے اصولوں پر عمل پیرا ہوں گے، ساحل کی صفائی کو برقرار رکھیں گے اور اُن کاموں سے احتراز کریں گے جو سمندری اور مرجان کی چٹانوں پر مبنی ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
 
یہ تبدیلی ثبوت ہے کہ جدید سمندری ٹوئراِزم ، صرف سیاحتی مقام کی خوبصورتی کی بنیاد پر نہیں بلکہ متعلقہ اداروں اور خدمات فراہم کرنے والوں کی قابلیت پر قائم ہے اور خود سیاح بھی اِس کی خوبصورتی کی حفاظت اور اسے ایک دیرپا تجربے میں بدلنے کے ضامن بھی ہیں۔

 

شیئر: