Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کشمیر میں مہاجر نشستوں کے نام پر سیاست کیوں؟ اجمل جامی کا کالم 

پاکستان کے زیر انتظام  ریاست جموں و کشمیر اور وہاں کی مختلف سیاسی و سماجی تحریکوں  کے ہاں ان دنوں بارہ مہاجر نشستوں پر چرچا ہے، کون کس مشن پر ہے؟ 
ان نشستوں کے نام پر سیاست ہو رہی ہے یا سازش؟  یہ ہمارا موضوع نہیں۔ موضوع ان نشستوں کے خاتمے یا ان  کی اہمیت ہے۔ خاتمے کا مطالبہ کیونکر کیا جا رہے اور ان کی ضرورت کیوں ہے؟ یہ اہم نکتہ ہے۔  اس بیچ  ہر وہ آواز جو اس مدعے کی حامی ہے یا مخالف ، قابل احترام ہے۔ 
مسئلہ کشمیر سے ہر کشمیری، ہر پاکستانی اور ہر مہاجر جڑا ہے اور جڑا رہے گا۔ اہل پاکستان اس  کاز کے لیے ہمیشہ یک زبان رہے ہیں۔  ووٹر لسٹیں درست نہیں یا مہاجرین کے نمائندہ ارکان کا معیار برا ہے، اس کی سزا مہاجر ووٹر کیوں بھگتے؟ سوال سیاسی جماعتوں اور نظام سے ہونا چاہیے۔ اصلاح قانون ساز اسمبلی اور اس کے تابع اداروں کی ذمہ داری تھی۔ 
مہاجرین  جموں و کشمیر کی نشستیں جدوجہد آزادی کشمیر کا استعارہ ہیں، یہ ان کا تشخص ہے، ان کا تشخص ختم کرنا پرلے درجے کی حماقت ہوگا۔ یہ وہ مہاجر ہیں جو اپنے خاندان کٹوا کر اور جائیدادیں لٹا کر یہاں پہنچے تھے۔
یہاں قانون ساز اسمبلی  کے ارکان کی تعداد 53 ہے، جنرل نشستیں 33، مہاجرین جموں و کشمیر کی 12 اور آٹھ مخصوص نشستیں ہیں۔ مہاجرین کی یہ 12 نشستیں 1947 سے 1965 کے عرصے کے دوران انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے ہجرت کرکے پاکستان  کے چاروں صوبوں میں آباد ہونے والے کشمیری مہاجرین کو دی گئیں تاکہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ان کی سیاسی نمائندگی برقرار رہے۔ 
اعتراض کیا جاتا ہے کہ ان 12 نشستوں کے ذریعے وفاقی حکومت کشمیر میں حکومت بنانے یا گرانے کا کام لیتی ہے۔ جس سے مقامی مینڈیٹ متاثر ہوتا ہے۔ یہاں بنیادی فرق ویلی کی چھ اور جموں کی چھ نشستوں کے ووٹرز کی تعداد کا ہے۔ وادی کی چھ پر 30ہزار جبکہ جموں کی چھ نشستوں پر تقریباً ساڑھے چار لاکھ رجسٹرد ووٹرز ہیں۔ بجائے ووٹر لسٹ درست کرنے کے یا تناسب بہتر بنانے کے آپ سیٹیں ختم کرنے کے درپے کیسے ہوسکتے ہیں۔؟ کیا یہی واحد حل ہے؟ 
اس بیچ چند ایک غیر منطقی دلائل کا سہارا لیا جا رہا ہے یعنی، 1974 کے عبوری آئین سے پہلے مہاجرین کا یہ تشخص کہاں تھا؟ تو عرض ہے کہ استصواب رائے  میں انہی مہاجرین کا یہ تشخص اہم ہوگا۔  ان سے یہ شناخت واپس لے کر آپ انہیں اس اہم کاز سے محروم کیسے کر سکتے ہیں؟ کیا یہ ان کی قربانیوں کیساتھ شدید نا انصافی نہیں ہوگی؟  
مہاجرین کی نمائندگی صرف عددی یا انتخابی معاملہ نہیں، یہ اس حقیقت کی علامت ہیں کہ تقسیم اور جبر کے باوجود ہجرت اور بے دخلی کے باوجود یہ مقبوضہ علاقوں کا تشخص ہیں۔  
1960 اور 1961  کے  ایوب دور  میں دستیاب ڈیٹا کے مطابق صدر و کونسل حکومت ریاست جموں کشمیر کے لیےالیکڑول کالج کے 24 سو نمائندگان تھے۔ ان میں نصف یعنی 1200 مہاجر تھے۔ 50 پیسہ فی کاپی کے عوض اس دور میں 31 اگست 1961کو شائع ہوئی فہرست آج بھی آرکائیوز میں دستیاب ہے۔ ضرورت ہو تو اس خاکسار سے بھی طلب کی جاسکتی ہے۔ 
سنہ 1970٠ یا  1971 میں جب   سردار عبدالقیوم خان صدر بنے  تب بھی انہیں مہاجر ووٹ ڈالے گئے۔  سردار ابراہیم صدر بنے تو کابینہ میں غلام دین وانی اور چوہدری غلام عباس جیسے عظیم رہنما کون تھے؟ ان کا مہاجر سیٹوں پر کیا موقف تھا؟ المیہ یہ ہے کہ دلائل سے عاری جذباتی ہوئے ہجوم کو جب یہ تک علم نہ ہو تو پھر بحث بے سود جاتی ہے۔
سوال ہیں تو صرف 12 مہاجر سیٹیوں کے لیے؟  فنڈز کی تقسیم ہو تو دلیل کمزور، یعنی صاحب آپ سرکاری فائلیں تو اٹھا کر دیکھیں انہیں تو ایک ٹکہ نہیں ملتا تھا، غالباً 2007 میں 25 لاکھ روپے ملنا شروع ہوا جو بڑھ کر ایک کروڑ روپے تک ہوا، اور دوسری جانب 33 ارکان کو کیا ملتا ہے؟ فنڈز کھانے کا اعتراض کرنے سے پہلے باقاعدہ حساب کتاب تو کیجیے۔ اور ویسے از راہ تفنن کہ کیا ان 12 کے خاتمے سے مرضی کی حکومتیں بنانے یا گرانے کا کھیل ختم ہو جائے گا؟ یعنی حد ہے! 
کیا تمام 12 مہاجر سیٹیں حکومتیں بنانے اور گرانے میں استعمال ہوتی ہیں؟  تحریک عدم اعتماد کے لیے اس ایوان میں 27 ووٹ درکار ہوتے ہیں، یہ 12 ملا بھی لیں تو باقی مانندہ13 ووٹ کہاں سے ملتے ہیں؟ ان پر سوال اٹھانے والا کوئی نہیں؟ پچھلے20، 25 برسوں کے دوران 33نشستوں پر چناؤ لڑنے والوں نے کتنی بار وفاداریاں بدلیں اور کس لیے بدلیں اور اس سے  عوام کو کیا فائدہ ہوا؟ یہ سوال اٹھانے والا بھی کوئی نہیں؟ 
ستر فیصد بجلی چوری کیا یہ مہاجر سیٹیں کرتی ہیں؟ سبسڈی کیا ان مہاجر حلقوں کے مہاجرین کو ملتی ہے؟  ٹیکس نہیں تو نمائندگی نہیں کا نعرہ لگانے والے احباب یہ بتلانا پسند فرمائیں گے کہ  ریاست کتنا ٹیکس جمع کرتی ہے اور 320 ارب روپےکے بجٹ کا باقی حصہ کہاں سے ملتا ہے؟ 
پھر ایک اور عجب موازنہ ہوتا ہے کہ وہاں  جموں میں دیکھیے کہ مہاجرین کا کیا اسٹیٹس ہے۔ عرض ہے کہ یہاں سے گئے نان مسلم مہاجرین جب جموں پہنچے تو انہیں شرنارتھی کہا گیا، 370 کے خاتمے کے بعد انہیں باقاعدہ ڈومیسائل دیا گیا تاکہ ہندو مسلم آبادی کا تناسب یکسر بدل کے رہ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے اس فیصلے پر سخت تنقید کی تھی۔ پاکستان کے لیے مہاجرین کون ہیں اور انڈیا کے لیے کون؟ کیا یہ موازنہ بنتا ہے؟  وہاں کی غاصب سرکار تو شیڈو کابینہ اور کشمیر کے نام پر شیڈو نمائندگی کاسوچ رہی ہے اور آ پ ہیں کہ جدوجہد کا استعارہ کہلاتے مہاجرین کے تشخص کے خاتمے کو تُلے بیٹھے ہیں۔ 
رہ گئی بات مہاجرین مقامی آبادی کے لیے کیسے سر درد ہیں تو اس سلسلے میں تین وجوہات بیان کی جاتی ہیں، اول، الاٹمنٹ کا معاملہ۔ جو کہ اب باقی رہا ہی نہیں، الاٹمنٹیں اچھی بری جو ہونا تھیں ہو چکیں۔ دوم تعلیم یا روزگار میں کوٹہ،  سال بھر پہلے عدالتی احکامات کے بعد یہ کوٹہ بھی معلوم نہیں کہاں باقی بچا ہے۔ سوم، ووٹ ڈالنے کا اختیار۔ یہ باقی بچا ہے، اس ختم کر کے آپ کس کی خدمت کریں گے؟ سوچیے گا ضرور۔   
 

شیئر: