پاکستان کے زیر انتظام ریاست جموں و کشمیر اور وہاں کی مختلف سیاسی و سماجی تحریکوں کے ہاں ان دنوں بارہ مہاجر نشستوں پر چرچا ہے، کون کس مشن پر ہے؟
ان نشستوں کے نام پر سیاست ہو رہی ہے یا سازش؟ یہ ہمارا موضوع نہیں۔ موضوع ان نشستوں کے خاتمے یا ان کی اہمیت ہے۔ خاتمے کا مطالبہ کیونکر کیا جا رہے اور ان کی ضرورت کیوں ہے؟ یہ اہم نکتہ ہے۔ اس بیچ ہر وہ آواز جو اس مدعے کی حامی ہے یا مخالف ، قابل احترام ہے۔
مسئلہ کشمیر سے ہر کشمیری، ہر پاکستانی اور ہر مہاجر جڑا ہے اور جڑا رہے گا۔ اہل پاکستان اس کاز کے لیے ہمیشہ یک زبان رہے ہیں۔ ووٹر لسٹیں درست نہیں یا مہاجرین کے نمائندہ ارکان کا معیار برا ہے، اس کی سزا مہاجر ووٹر کیوں بھگتے؟ سوال سیاسی جماعتوں اور نظام سے ہونا چاہیے۔ اصلاح قانون ساز اسمبلی اور اس کے تابع اداروں کی ذمہ داری تھی۔
مزید پڑھیں
-
کوٹ لکھپت جیل میں ہوئی ایک اہم ملاقات، اجمل جامی کا کالمNode ID: 901973
-
بنگال میں ممتا کا ’بینر‘ کیسے اُترا؟ اجمل جامی کا کالمNode ID: 903959
-
قصور کی پِنکی اور نیو میکسیکو کا والٹر وائٹ، اجمل جامی کا کالمNode ID: 904216
مہاجرین جموں و کشمیر کی نشستیں جدوجہد آزادی کشمیر کا استعارہ ہیں، یہ ان کا تشخص ہے، ان کا تشخص ختم کرنا پرلے درجے کی حماقت ہوگا۔ یہ وہ مہاجر ہیں جو اپنے خاندان کٹوا کر اور جائیدادیں لٹا کر یہاں پہنچے تھے۔
یہاں قانون ساز اسمبلی کے ارکان کی تعداد 53 ہے، جنرل نشستیں 33، مہاجرین جموں و کشمیر کی 12 اور آٹھ مخصوص نشستیں ہیں۔ مہاجرین کی یہ 12 نشستیں 1947 سے 1965 کے عرصے کے دوران انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے ہجرت کرکے پاکستان کے چاروں صوبوں میں آباد ہونے والے کشمیری مہاجرین کو دی گئیں تاکہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ان کی سیاسی نمائندگی برقرار رہے۔
اعتراض کیا جاتا ہے کہ ان 12 نشستوں کے ذریعے وفاقی حکومت کشمیر میں حکومت بنانے یا گرانے کا کام لیتی ہے۔ جس سے مقامی مینڈیٹ متاثر ہوتا ہے۔ یہاں بنیادی فرق ویلی کی چھ اور جموں کی چھ نشستوں کے ووٹرز کی تعداد کا ہے۔ وادی کی چھ پر 30ہزار جبکہ جموں کی چھ نشستوں پر تقریباً ساڑھے چار لاکھ رجسٹرد ووٹرز ہیں۔ بجائے ووٹر لسٹ درست کرنے کے یا تناسب بہتر بنانے کے آپ سیٹیں ختم کرنے کے درپے کیسے ہوسکتے ہیں۔؟ کیا یہی واحد حل ہے؟
اس بیچ چند ایک غیر منطقی دلائل کا سہارا لیا جا رہا ہے یعنی، 1974 کے عبوری آئین سے پہلے مہاجرین کا یہ تشخص کہاں تھا؟ تو عرض ہے کہ استصواب رائے میں انہی مہاجرین کا یہ تشخص اہم ہوگا۔ ان سے یہ شناخت واپس لے کر آپ انہیں اس اہم کاز سے محروم کیسے کر سکتے ہیں؟ کیا یہ ان کی قربانیوں کیساتھ شدید نا انصافی نہیں ہوگی؟
مہاجرین کی نمائندگی صرف عددی یا انتخابی معاملہ نہیں، یہ اس حقیقت کی علامت ہیں کہ تقسیم اور جبر کے باوجود ہجرت اور بے دخلی کے باوجود یہ مقبوضہ علاقوں کا تشخص ہیں۔
1960 اور 1961 کے ایوب دور میں دستیاب ڈیٹا کے مطابق صدر و کونسل حکومت ریاست جموں کشمیر کے لیےالیکڑول کالج کے 24 سو نمائندگان تھے۔ ان میں نصف یعنی 1200 مہاجر تھے۔ 50 پیسہ فی کاپی کے عوض اس دور میں 31 اگست 1961کو شائع ہوئی فہرست آج بھی آرکائیوز میں دستیاب ہے۔ ضرورت ہو تو اس خاکسار سے بھی طلب کی جاسکتی ہے۔
سنہ 1970٠ یا 1971 میں جب سردار عبدالقیوم خان صدر بنے تب بھی انہیں مہاجر ووٹ ڈالے گئے۔ سردار ابراہیم صدر بنے تو کابینہ میں غلام دین وانی اور چوہدری غلام عباس جیسے عظیم رہنما کون تھے؟ ان کا مہاجر سیٹوں پر کیا موقف تھا؟ المیہ یہ ہے کہ دلائل سے عاری جذباتی ہوئے ہجوم کو جب یہ تک علم نہ ہو تو پھر بحث بے سود جاتی ہے۔
سوال ہیں تو صرف 12 مہاجر سیٹیوں کے لیے؟ فنڈز کی تقسیم ہو تو دلیل کمزور، یعنی صاحب آپ سرکاری فائلیں تو اٹھا کر دیکھیں انہیں تو ایک ٹکہ نہیں ملتا تھا، غالباً 2007 میں 25 لاکھ روپے ملنا شروع ہوا جو بڑھ کر ایک کروڑ روپے تک ہوا، اور دوسری جانب 33 ارکان کو کیا ملتا ہے؟ فنڈز کھانے کا اعتراض کرنے سے پہلے باقاعدہ حساب کتاب تو کیجیے۔ اور ویسے از راہ تفنن کہ کیا ان 12 کے خاتمے سے مرضی کی حکومتیں بنانے یا گرانے کا کھیل ختم ہو جائے گا؟ یعنی حد ہے!













