پنجاب کا پہلا ’اینٹی ڈرون یونٹ‘ دہشتگردی اور فضائی خطرات سے کیسے نمٹنے گا؟
پنجاب کا پہلا ’اینٹی ڈرون یونٹ‘ دہشتگردی اور فضائی خطرات سے کیسے نمٹنے گا؟
جمعرات 26 فروری 2026 6:34
رائے شاہنواز - اردو نیوز، لاہور
اینٹی ڈرون یونٹ پروونشل انٹیلیجنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سنٹر کا حصہ ہوگا۔ فائل فوٹو: اے پی پی
پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے صوبے کے پہلے اینٹی ڈرون یونٹ کی منظوری دے دی ہے جو دہشتگردی اور فضائی خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
یہ یونٹ پروونشل انٹیلیجنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سنٹر (پیف ٹیک) کا حصہ ہوگا جو پاکستان کی تاریخ میں صوبائی سطح پر اپنی نوعیت کا پہلا مرکز ہے۔ اس منظوری کے ساتھ پنجاب اب فضائی حملوں اور ڈرون کے ذریعے ہونے والی ممکنہ دہشت گردانہ کارروائیوں سے بچاؤ کی جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہو جائے گا۔
یہ فیصلہ منگل کو وزیراعلیٰ کو صوبے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ کے بعد کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد ڈرونز کے غلط استعمال کو روکنا اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ڈرون ٹیکنالوجی تیزی سے پھیل رہی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ پیف ٹیک نہ صرف انٹیلیجنس کی کوآرڈینیشن کو مضبوط بنائے گا بلکہ تھریٹ اسیسمنٹ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کرے گا۔ اس مرکز میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس ہب قائم کیا جائے گا، جو سائبر سکیورٹی اور دیگر آپریشنل صلاحیتوں کو بڑھائے گا۔
اس کے علاوہ وزیراعلیٰ نے صوبے بھر میں سائبر کرائم سیل کے فوری قیام کی ہدایت دی ہے اور کمبنگ آپریشنز کو جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔ پیف ٹیک کے ذریعے انٹیلیجنس شیئرنگ کو بہتر بنایا جائے گا جو صوبے کی اندرونی سکیورٹی کو مزید مستحکم کرے گا۔ یہ تمام اقدامات پنجاب کو ٹیکنالوجی کی بنیاد پر سکیورٹی مینجمنٹ میں ملک کا پہلا صوبہ بناتے ہیں جہاں ریئل ٹائم تھریٹ مانیٹرنگ ممکن ہوگی۔
اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کیا ہے؟
سکیورٹی اُمور کے ماہر پاکستانی ڈاکٹر ارشد جو کہ آسٹریلیا میں پڑھاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی دراصل ڈرونز یا ’اَن مینڈ ایریل ویہیکلز‘ کو پکڑنے، ٹریک کرنے اور غیرموثر بنانے کا ایک نظام ہے۔ یہ ٹیکنالوجی مختلف طریقوں سے کام کرتی ہے جیسے ریڈار سسٹمز جو ڈرونز کو دور سے پکڑتے ہیں، ریڈیو فریکونسی جیمرز جو ڈرون اور اس کے آپریٹر کے درمیان رابطہ توڑ دیتے ہیں، یا نیٹ گنز جو ڈرون کو جال میں پھنسا کر گرا دیتی ہیں۔ یہ عام طور پر فوجی شعبے میں استعمال ہوتی ہے جہاں یہ دشمن کے ڈرون حملوں سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے، لیکن اب یہ سول سیکٹر میں بھی مقبول ہو رہی ہے۔ سادہ الفاظ میں یہ ٹیکنالوجی ڈرون کو یا تو گرا دیتی ہے، اسے واپس بھیج دیتی ہے یا اسے غیرفعال کر دیتی ہے تاکہ کوئی خطرہ نہ پیدا ہو۔‘
ماہرین کے مطابق فوج کی اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی پولیس کی نسبت زیادہ ایڈوانسڈ اور پیچیدہ ہوتی ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
سول سیکٹر میں اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال
اگرچہ اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کی جڑیں فوجی ڈومین میں ہیں لیکن اب یہ سول سیکٹر میں بھی وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر ایئرپورٹس، جیلوں، اہم انفراسٹرکچر جیسے پاور پلانٹس اور عوامی تقریبات کی حفاظت کے لیے یہ ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے۔ یہ ڈرونز کے ذریعے ہونے والی جاسوسی، حملوں یا سمگلنگ کو روکتی ہے۔ دنیا بھر میں یوٹیلیٹیز، ڈیٹا سینٹرز اور سٹیڈیمز جیسی جگہوں پر یہ سسٹمز نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ فضائی خطرات سے بچا جا سکے۔ سول استعمال میں یہ ٹیکنالوجی زیادہ تر ڈیٹیکشن اور نیوٹرلائزیشن پر فوکس کرتی ہے جبکہ قانونی پابندیوں کی وجہ سے سخت اقدامات کم استعمال ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر ارشد کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں پولیس کو اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کی فراہمی کا آغاز خیبر پختونخوا (کے پی) پولیس سے ہوا، جہاں پر ملک کا پہلا اینٹی ڈرون یونٹ قائم کیا گیا۔ کے پی پولیس نے ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید جیمنگ ٹیکنالوجی اور سرویلنس سسٹمز حاصل کیے، خاص طور پر جنوبی اضلاع میں جہاں دہشت گرد ڈرونز کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب پولیس نے انڈو پاک بارڈر پر اینٹی ڈرون سسٹمز ڈپلائے کیے ہیں جو کہ گزشتہ سال ہونے والی مختصر جنگ کے بعد کی صورت کی عکاسی ہے، جن میں ہینڈ ہیلڈ گنز اور سٹیٹک ماونٹڈ سسٹمز شامل ہیں۔ یہ سسٹمز انڈین ڈرونز کو جیم کر کے واپس بھیجنے یا گرا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور یہ خاص طور پر منشیات اور ہتھیاروں کی سمگلنگ روکنے کے لیے بھی استعمال ہو رہے ہیں۔‘
پولیس زیادہ تر ڈیٹیکشن اور ڈرون کو غیرموثر بنانے پر فوکس کرتی ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
فوج اور پولیس کی اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی میں فرق
ماہرین کے مطابق فوج کی اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی پولیس کی نسبت زیادہ ایڈوانسڈ اور پیچیدہ ہوتی ہے، جو سٹیلتھ، لانگ رینج ڈیٹیکشن اور ہائی الٹی ٹیوڈ آپریشنز پر مبنی ہے۔ فوجی سسٹمز میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس، سکیور کمیونیکیشن اور خودکار نیویگیشن شامل ہوتی ہے جو جنگی حالات میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس پولیس کی ٹیکنالوجی سادہ اور قانونی حدود میں رہتی ہے، جیسے جیمنگ جو ریگولیٹڈ ہے اور صرف عوامی تحفظ کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ فوجی ٹیکنالوجی ڈرونز کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ پولیس کی زیادہ تر ڈیٹیکشن اور غیرموثر بنانے پر فوکس کرتی ہے تاکہ سول قوانین کی خلاف ورزی نہ ہو۔