پاکستان کی ’ڈرون مداخلت‘ ناقابلِ قبول، اسے روکا جائے: انڈین آرمی چیف
انڈیا اور پاکستان کے تعلقات مئی 2025 کے بعد سے شدید ترین تناؤ کا شکار ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا اور پاکستان کے درمیان گزشتہ برس مئی میں ہونے والی فوجی جھڑپوں کے بعد اب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا ایک نیا محاذ ’ڈرون ٹیکنالوجی‘ کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انڈین فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دویدی نے دعویٰ کیا ہے کہ سرحد پار سے ڈرونز کی مداخلت میں اچانک اضافہ ہوا ہے جسے روکنے کے لیے پاکستان کو براہِ راست پیغام بھیج دیا گیا ہے۔
منگل کو نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انڈین آرمی چیف نے بتایا کہ دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرلز آف ملٹری آپریشنز یعنی ڈی جی ایم اوز کے درمیان ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا ہے جس میں انڈیا نے ان ڈرون پروازوں کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیتے ہوئے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
جنرل اوپیندر دویدی کے مطابق گزشتہ چند دنوں میں کم از کم آٹھ ڈرونز لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد کے قریب دیکھے گئے ہیں۔
انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’میرے خیال میں یہ ڈرونز دفاعی ڈرون تھے جو اوپر جا کر دیکھنا چاہتے ہیں کہ کوئی کارروائی کی جا رہی ہے یا نہیں۔‘
’اس معاملے پر آج بات ہوئی اور انہیں بتایا گیا ہے کہ یہ ہمارے لیے ناقابل قبول ہے اور براہ کرم اس پر روک لگائیں۔ یہ ان تک پہنچا دیا گیا ہے۔‘
انڈیا کے فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف اتوار کی شام جموں سیکٹر میں پانچ ڈرونز کی نقل و حرکت دیکھی گئی جو انڈین حدود کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔
انڈین فوج کا کہنا ہے کہ یہ ڈرونز محض اتفاقیہ پروازیں نہیں بلکہ ان کا مقصد انڈین دفاعی مورچوں کی نگرانی کرنا اور فوجی نقل و حرکت کا جائزہ لینا ہے۔
اس کے علاوہ جمعے کو پیش آنے والے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ایک مبینہ ڈرون نے دو پستول، تین ایمونیشن میگزینز، ایک دستی بم اور 16گولیاں گرائیں جنہیں انڈین سکیورٹی فورسز نے تلاشی کے دوران قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔
ان دو ہمسایہ ایٹمی ممالک کے تعلقات مئی 2025 میں اس وقت شدید ترین تناؤ کا شکار ہوئے تھے جب کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہندو سیاحوں پر ایک حملے کے بعد دونوں افواج نے ایک دوسرے کے خلاف جیٹ طیاروں، میزائلوں اور بھاری توپ خانے کا استعمال کیا تھا۔
اس چار روزہ جنگ میں دونوں طرف جانی و مالی نقصان ہوا جس کے بعد ایک مشکل جنگ بندی عمل میں آئی تھی۔
اگرچہ انڈین آرمی چیف کے حالیہ بیان پر تاحال اسلام آباد کی جانب سے کوئی باقاعدہ ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم ماضی میں پاکستان ایسے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔ پاکستان کا موقف رہا ہے کہ انڈیا اپنی اندرونی سکیورٹی کی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کے لیے ’ڈرون مداخلت‘ جیسے من گھڑت الزامات تراشتا ہے جبکہ پاکستان صرف کشمیریوں کی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔
