پاکستان کےنائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ سینیٹر اسحاق ڈار جمعرات 26 فروری کو اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس میں شرکت کےلیے سعودی عرب پہنچیں گے۔
او آئی سی کی ایگزیکیٹو کمیٹی کا غیر معمولی وزارتی اجلاس جمعرات کی رات جدہ میں ہو رہا ہے۔
یہ اجلاس اسرائیل کے غیرقانونی اقدامات پر غور کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ اسحاق ڈار اجلاس میں پاکستان کے موقف سے آگاہ کریں گے۔
اوآئی سی کے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والے اجلاس میں اسرائیل کے ان غیر قانونی فیصلوں کا جائزہ لیا جائے گا جس کا مقصد آباد کاری، الحاق اور مقبوضہ مغربی کنارے پر نام نہاد اسرائیلی خود مختاری مسلط کرنے کی کوشش ہے۔
اجلاس کا مقصد ہم آہنگی اور اسرائیلی قابض حکام کے غیرقانونی فیصلوں اور اقدامات سے نمنٹے کے لیے طریقوں پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
یاد رہے مطابق اسرائیلی کابینہ نے 1967 کے بعد پہلی مرتبہ مغربی کنارے میں زمین کی باقاعدہ رجسٹریشن شروع کرنے کی منظوری دی ہے۔
یہ عمل خاص طور پر ایریا سی میں کیا جائے گا، جو ویسٹ بینک کا تقریباً ساٹھ فیصد حصہ ہے اور مکمل طور پر اسرائیلی انتظامی و سکیورٹی کنٹرول میں ہے۔
اس فیصلے کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کی زمینوں کو نام نہاد ’ریاستی زمین‘ قرار دیا گیا ہے۔کئی مبصرین اور فلسطینی اتھارٹی کا کہنا ہے اس اقدام کا مقصد یہودی آبادکاروں کے لیے زمین خریدنے کے راستے آسان بنانا اور بالآخر اس علاقے کے انضمام کی راہ ہموار کرنا ہے۔