Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کچے کا آپریشن: کیا ڈاکوؤں کی سرکوبی کے لیے 10 ہزار ایکڑ گنے کی فصل ختم ہو گی؟

ڈی سی آفس رحیم یار خان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ہوم ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کی گئی ہدایات پر کیا گیا ہے(فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت نے کچے کے علاقے میں قریباً 10 ہزار ایکڑ کھڑی گنے کی فصل کو ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے ختم کرنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔
یہ صورت حال اس وقت سامنے آئی جب جہانگیر ترین کی کمپنی جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے
اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ جنوبی پنجاب کے راجن پور اور رحیم یار کی ضلعی حکومتوں ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے کہ سڑکوں کے ساتھ ساتھ لمبی فصلوں (جہاں آج کل گنے کی فصل ہے) کو فوری ختم کیا جائے۔
اس درخواست میں یہ کہا گیا کہ چونکہ یہ فیصلہ غیرقانونی ہے تاہم راجن پور اور رحیم یار خان میں سے ایک ضلع، لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بنچ میں جبکہ دوسرا ملتان بنچ میں آتا ہے، اس لیے ان احکامات کو چیلنج کرنے کے لیے عدالت اجازت دے کہ دونوں نوٹیفیکیشنز کو ایک ہی بنچ میں چیلنج کیا جا سکے۔
عدالت نے درخواست کو منظور کرتے ہوئے ملتان میں دونوں درخواستیں اکھٹی کرنے کی اجازت دے دی۔
گنے کی فصل اور ڈاکو
یہ کہانی اس وقت شروع ہوئی جب 24 مارچ کو پنجاب کے ہوم ڈپارٹمنٹ کی جانب سے رحیم یار خان اور راجن پور کے ڈی سیز کو ایک خط لکھا۔
اردو نیوز کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق ہوم سیکریٹری نے دونوں افسران کو لکھا کہ کچے کے علاقے میں قد آور فصلوں پر جو کہ ایسی سڑکوں کے کنارے ہیں جہاں پولیس کی چوکیاں ہیں ایک مفصل رپورٹ بنا کر بھیجی جائے اور بیس سے 30 میٹر تک سڑکوں کو اونچی فصلوں کو ختم کرنے کا ایک طریقہ وضع کیا جائے۔

عدالت نے درخواست کو منظور کرتے ہوئے ملتان میں دونوں درخواستیں اکھٹی کرنے کی اجازت دے دی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اس کے بعد دونوں اضلاع کی انتظامیہ نے ایک تفصیلی رپورٹ واپس ہوم ڈپارٹمنٹ بھیجی۔ دستاویزات کے مطابق ان تمام سڑکوں کی نشاندہی کی گئی جہاں گنے کی فصل لگی ہوئی اور یہ سفارش بھی لکھی کہ کم از کم ڈیڑھ سو میٹر تک اونچی فصلوں کو ختم کرنا ضروری ہے جس کے بعد ہوم ڈپارٹمنٹ نے دفعہ 144 لگانے کی اجازت دیتے ہوئے اس رپورٹ پر عمل درآمد کروانے کا حکم دے دیا۔
لاہور ہائی کورٹ دائر پیٹیشن میں اس سے اگلی کہانی یہ بیان کی گئی ہے کہ ’دونوں اضلاع میں جتنی زمین کی نشاندہی کی گئی ہے وہاں 10 ہزار ایکڑ پر گنے کی فصل پہلے ہی کاشت ہے۔ گنے کی فصل تین سال کے لیے ہوتی ہے اور کھڑی فصلوں کو ختم کرنا تکلیف دہ ہے۔ ایسے کسان بھی ہیں جن کا کل سرمایہ ہی یہ گنے کی فصل ہے۔ جے ڈبلیو شوگر ملز کے اس فیصلے سے تقریبا 6 سو ایکٹر متاثر ہو رہے۔
ڈی سی آفس رحیم یار خان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ہوم ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کی گئی ہدایات پر کیا گیا ہے اور صرف پولیس چوکیوں کے ارد گرد سکیورٹی کے پیش نظر یہ اقدام کیا جا رہا ہے۔
’چھوٹی فصلیں کاشت کرنے پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ کچھ ایسے واقعات ہوئے ہیں جن میں جرائم پیشہ افراد نے اونچی فصلوں کا سہارا لے کر حملے کئے یا بھاگنے میں کامیاب ہوئے۔ اس کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا۔‘
اس بارے میں جب ہوم سیکریٹری سے رابطہ کیا گیا تو اس موضوع پر سوالات کے جواب نہیں دیے گئے۔

شیئر: