Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں بجلی کی بار بار بندش: انٹرنیٹ بھی متاثر، صارفین پریشان

جمعرات کو مختلف موبائل کمپنیوں کی جانب سے اپنے صارفین کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا ہے کہ بجلی کی بار بار بندش کی وجہ سے ٹیلی کام خدمات کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔
اس حوالے سے جمعرات کو یوفون اور کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ سے ٹیلی کام نیٹ ورک دباؤ کا شکار ہے اور آٹھ گھنٹے یا زائد بجلی بندی سے نیٹ ورک سروسز متاثر ہوتی ہیں۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ ’بیک اپ بیٹری سسٹم بار بار لوڈشیڈنگ کے باعث مؤثر نہیں رہ پا رہے، جبکہ ان کی چارجنگ کے لیے تین گھنٹے کی بلا تعطل بجلی درکار ہوتی ہے۔‘
 اسی اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’بجلی کی بار بار بندش بیٹریوں کی چارجنگ کے عمل کو متاثر کر رہی ہے اور بیک اپ صلاحیتوں میں کمی آئی ہے۔‘
یو فون کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ شہروں میں ہمارا زیادہ تر ٹیلی کام انفراسٹرکچر بیک اپ بیٹری سسٹم سے لیس ہے، لیکن اس کی چارجنگ کے لیے بجلی ضروری ہوتی ہے۔
کمپنی  کی جانب سے اس امید کا اظہار کیا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی مستحکم ہوتے ہی سروسز کی فراہمی معمول پر آجائے گی۔
اس کے علاوہ پاکستان میں دیگر ٹیلی کام سروسز آپریٹرز، جیسے جاز، زونگ وغیرہ کی جانب سے ایسا کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
تاہم مختلف علاقوں میں ان کمپنیوں کے صارفین بھی انٹرنیٹ کی سُست رفتاری اور موبائل کالز و میسجنگ میں کبھی کبھار رُکاوٹ آنے کی شکایت کر رہے ہیں۔
ٹیلی کام ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ سے ٹیلی کام نظام ضرور متاثر ہوتا ہے، تاہم مہنگے ڈیزل اور فیول کے باعث کمپنیاں بیک اپ جنریٹر بھی نہیں چلا پا رہیں۔

بجلی کی لوڈشیڈنگ اور مہنگے فیول کے باعث ٹیلی کام کمپنیاں بیک اپ جنریٹر بھی نہیں چلا پا رہیں (فائل فوٹو: آئی سٹاک)

یاد رہے کہ پاکستان میں گذشتہ کئی روز سے یومیہ کئی کئی گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے جس وجہ سے عوام کے معمولاتِ زندگی بُری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کی  وفاقی حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو روکنے کے لیے شام پانچ بجے سے رات ایک بجے تک روزانہ دو گھنٹے سے زائد  کی لوڈشیڈنگ کا اعلان کیا ہے۔
منگل کو وزارتِ بجلی نے بتایا کہ پیک آورز، یعنی شام پانچ بجے سے رات ایک بجے تک، روزانہ دو گھنٹے 25 منٹ کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی، جس سے بجلی کی قیمت میں تقریباً تین روپے فی یونٹ کے ممکنہ اضافے کو روکنے میں مدد ملے گی۔
بجلی کی اس طویل لوڈشیڈنگ پر جمعرات کو وزیرِ بجلی اویس لغاری نے عوام سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’گیس اور پن بجلی کی کمی کی وجہ سے شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘
اس حوالے سے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’لوڈشیڈنگ عارضی ہے اور جیسے ہی گیس دستیاب ہوگی لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی۔‘

شیئر: