پولینڈ میں چھ ممالک کے وزراء داخلہ کا اجلاس، پاکستان کے لیے سرکاری سطح پر ملازمتیں دینے پر اتفاق
پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں غیرقانونی امیگریشن سے متعلق چھ ممالک کے وزرائے منعقد ہوئی جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستانی وفد کی قیادت کی۔
کانفرنس میں پاکستان، پولینڈ، ایسٹونیا، لٹویا، فن لینڈ اور لتھوانیا کے وزرائے داخلہ نے شرکت کی اور غیرقانونی امیگریشن کی حوصلہ شِکنی اور قانونی امیگریشن کی حوصلہ افزائی کے لیے مربوط روڈ میپ مُرتب کرنے پر اتفاق کیا۔
اجلاس میں شریک تمام ممالک نے پاکستان کے لیے سرکاری سطح پر ملازمتیں دینے پر اتفاق کیا اور غیر قانونی امیگریشن اور انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے پاکستان کے اقدمات کو سراہا۔
اجلاس میں غیرقانونی امیگریشن کے تدارک کے لیے مشترکہ اقدامات اور مؤثر کوآرڈینیشن پر اتفاق کیا گیا اور اس مقصد کے لیے وزارتِ داخلہ میں فوکل پرسن مقرر کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
کانفرنس میں داخلی سکیورٹی اور بارڈر سکیورٹی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ دہشت گردی اور منشیات کے سدباب کے لیے بھی تفصیلی مشاورت کی گئی۔
ان چھ ممالک کے وزرائے داخلہ نے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان قریبی روابط اور معلومات کے تبادلے کو فروغ دینے پر زور دیا۔
محسن نقوی نے پاکستان افغانستان بارڈر کی موجودہ صورت حال پر بھی بریف کیا اور بتایا کہ اس وقت 22 دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں منظم ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت دنیا اور افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے درمیان ایک دیوار ہے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان انسانی سمگلنگ اور غیرقانونی امیگریشن کے خلاف مربوط حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، انسانی سمگلنگ مافیا کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سے غیر قانونی طور پر یورپ جانے والے تارکین کی تعداد میں 47 فیصد کمی آئی ہے۔ یورپی ممالک اور پاکستان مل کر اس چیلنج پر قابو پا سکتے ہیں۔
