Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جھنگ میں فرسٹ ایئر کی طالبہ کی ہولناک ہلاکت، ملزمان گرفتار

جھنگ کے تھانہ سیٹلائیٹ ٹاون میں درج ایف آئی آر مقتولہ 17 سالہ ایشال فاطمہ کے والد کی مدعیت میں درج کی گئی ہے (فوٹو: پنجاب پولیس)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر جھنگ میں فرسٹ ایئر کی طالبہ ایشال فاطمہ کی ہلاکت کے ہولناک واقعے کی تحقیقات میں پولیس نے دعوی کیا ہے کہ تمام ملزمان گرفتار کر لیے گئے ہیں۔
پولیس اور سی سی ڈی کی ٹیموں نے گذشتہ رات گئے مختلف مقامات پر مشترکہ چھاپے مار کر روپوش مرکزی ملزم خلیل الرحمن سمیت مقتولہ کو تشویشناک حالت میں ہسپتال چھوڑ کر فرار ہونے والے دیگر دونوں ملزمان عمیس اور حسن کوڑیانہ کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ تفتیشی ٹیم نے واقعے میں استعمال ہونے والی مبینہ گاڑی کو بھی برآمد کر کے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔
اس واقعے کے بارے میں اب تک کی معلومات
جھنگ کے تھانہ سیٹلائیٹ ٹاون میں درج ایف آئی آر مقتولہ 17 سالہ ایشال فاطمہ کے والد کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔ اس ایف آئی آر کے مندرجات کے مطابق 4 جون کو فرسٹ ائیر کی طالبہ ایشال دن تقریبا ایک بجے اپنے گھر سے نکلی اور نواز چوک کا بتا کر گئی۔ تاہم کافی دیر گھر واپس نہ آنے کے بعد والدین کو تشویش لاحق ہوئی تو تلاش شروع کر دی گئی۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ’میری بیگم کے نمبر پر آج ایک کال آئی جس میں بتایا گیا کہ ہماری بیٹی ہسپتال میں ہے۔ جس پر ہم سب فوری طور پر ٹوبہ روڈ پر واقع علی احمد ہسپتال میں پہنچے۔ وہاں سے پتا چلا کہ اسے اب ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لے جایا گیا ہے۔ جب وہاں پہنچے تو بیٹی بے ہوشی کے عالم میں تھی لیکن زیر علاج تھی۔‘
’نامعلوم افراد نے میری بیٹی کو اغوا کیا۔ اور بعد ازاں بحالت بے ہوشی ایک کاری میں ہسپتال چھوڑ گئے۔ ان اغوا کاروں کے خلاف نہ صرف اغوا کا مقدمہ درج کیا جائے بلکہ انہیں گرفتار کر کے سزا دی جائے۔‘
خیال رہے کہ یہ واقعہ جھنگ کے علاقے سلطان کالونی میں پیش آیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل فوٹیج، جس کی تصدیق جھنگ پولیس نے بھی کی ہے، میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تین افراد ایک وہیل چیئر پر مبینہ طور پر ایک خاتون مریضہ کو (جس کی تصدیق ایشال کے نام سے ہو رہی ہے) ہسپتال کے اندر لا رہے ہیں۔ ایک شخص آگے چل رہا ہے جبکہ دو پیچھے سے وہیل چیئر کو لارہے ہیں جبکہ کہ ان میں سے ایک نے چہرے پر ماسک لگایا ہوا ہے۔
واقعے کے بعد پولیس اور سی سی ڈی کی متحرک ٹیموں نے جائے وقوعہ اور دیگر مقامات سے فرسٹ ایئر کی طالبہ کو مبینہ طور پر دی جانے والی ادویات کے سیمپلز اور دیگر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں، جبکہ ایشال فاطمہ کی ابتدائی ایگزامینیشن رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر زیادتی کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

 فی الوقت زیر حراست تینوں ملزمان سے تفتیشی اداروں کی جانب سے مختلف پہلوؤں سے پوچھ گچھ جاری ہے (فوٹو: پنجاب پولیس)

تاہم رپورٹ میں موت کی وجہ زہریلی یا نشہ آور اشیا کے استعمال کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے جس کے باعث معدے سے حاصل کردہ نمونے مزید کیمیائی تجزیے کے لیے پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جہاں سے حتمی رپورٹ آنے کے بعد ہی طالبہ کی موت کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے گا۔
 فی الوقت زیر حراست تینوں ملزمان سے تفتیشی اداروں کی جانب سے مختلف پہلوؤں سے پوچھ گچھ جاری ہے تاکہ واقعے کے تمام حقائق اور محرکات کو جلد از جلد سامنے لایا جا سکے۔

 

شیئر: