ایران کے دوسرے روز بھی بحرین، کویت اور اردن پر حملے
کویت نے عارضی طور پر اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے تازہ فضائی حملوں کے جواب میں ایران نے جمعرات کو بحرین، کویت اور اردن پر میزائل داغے ہیں۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو خبردار کیا تھا کہ اسے مذاکرات کے تعطل کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
کویت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ فضائی خطرات سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ جمعرات کی صبح بحرین میں بھی فضائی حملوں کے سائرن بجائے گئے۔
کویتی فوج کی جانب سے سوشل میڈیا پر کی گئی ایک پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’فضائی دفاعی نظام اس وقت حملوں کو روک رہا ہے۔‘
اس خلیجی ملک نے عارضی طور پر اپنی فضائی حدود بھی بند کر دی ہیں جبکہ حملوں کی وجہ سے پروازوں کے رخ بھی موڑ دیے گئے ہیں۔
اسی طرح بحرین میں بھی سائرن چلائے گئے ہیں اور حکام کی جانب سے لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف جانے کا کہا گیا ہے۔
دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے اردن میں امریکی کمانڈ سینٹر پر بھی میزائل داغے ہیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی نے پاسداران انقلاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی میں الزراق ایئر بیس اور اس کے کنٹرول سینٹر کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اس میں 12 بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے ہیں۔
بیان میں یہ ان تنصیبات اور بڑی تعداد میں لڑاکا طیاروں کو تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
پیر کو اسرائیل اور ایران نے ایک دوسرے پر حملے کیے تھے جبکہ امریکہ نے ہیلی کاپٹر گرانے کے جواب میں بدھ کو ایران میں اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے بعد ایران نے اردن، کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر حملے کیے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے بدھ کو کسی معاہدے تک نہ پہنچنے کی صورت میں ایران کے خلاف ’سخت کارروائی‘ کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فوجیوں پر حملے کیے گئے ہیں تاہم امریکی فوج نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔
ایران کا یہ بھی کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت بند ہے اور وہاں سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ثالثوں کی مدد سے امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات ہوتے رہے ہیں اور صدر ٹرمپ کئی بار کہہ چکے ہیں دونوں ملک معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں تاہم یہ دعوے ابھی تک کسی عملی شکل میں ڈھلتے نہیں دیکھے گئے۔
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا تھا جس کے بعد جنگ بندی ہوئی مگر لڑائی بمشکل دو ماہ ہی بند رہی۔
