کشمیر میں بے چینی، مرہم کس کے پاس ہے؟ اجمل جامی کا کالم
کشمیر میں بے چینی، مرہم کس کے پاس ہے؟ اجمل جامی کا کالم
جمعرات 11 جون 2026 10:11
روداد تو آپ کو کشمیر میں پائی جانے والے بے چینی اور وزیر اعظم کشمیر سے ہوئی ایک تازہ ملاقات کی سنانی ہے لیکن اس سے پہلے امام شافعی کا ایک قول ملاحظہ فرمائیں؛
’دوستی اور رضا مندی کی آنکھ سے کوئی عیب اور نقص دکھائی نہیں دیتا جبکہ ناراضی اور دشمنی کی آنکھ سے صرف برائیاں ہی برائیاں نظر آتی ہیں۔‘
اب اس فرمان کا اطلاق کر دیکھیں، کسی بھی ذاتی ، سماجی یا سیاسی مدعے کو سمجھنا قدرے آسان ہو جائے گا۔
بہر حال گلے شکوے، شور شرابا، ہنگامہ، مظاہرہ، پابندیاں، احتجاج اور اس بیچ جلاؤ گھیراؤ ہمارے ہاں کوئی نئی بات نہیں۔ نئی بات البتہ یہ ہے کہ یہ سب کیا اچانک ہوا؟ نئی بات یہ ہے کہ راہ نما، راہ نمائی کرنے میں یا حل نکالنے میں ناکام کیوں ہوئے؟ نئی بات یہ ہے کہ بے چینی اور غم و غصے کی یہ لہر یہاں تک کیسے پہنچی؟ نئی بات یہ بھی ہے کہ اس سب کے بیچ اندر اور باہر سے ان گنت گدھ ہمیں نوچنے کیلئے امڈ آئے ہیں۔ اورمزید نئی بات یہ ہوگی کہ کیا یہاں سے بھی ہمارے راہ نما پرامن حل نکال کر صورتحال پر قابو پالیں گے یا ہم مسلسل نوچے جائیں گے؟
انہی سوالات کو لیے گزرے پیر صبح سویرے اسلام آباد نکلنا پڑا، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے دن دو بجے انٹرویو کے لیے وقت دے رکھا تھا، حالیہ دنوں کشمیر کی صورتحال پر ان سے گاہے گاہے مختصر مکالمہ رہا، خواہش تھی کہ ٹی وی کے لیے ایک نشست ہو تاکہ دیکھنے والوں تک ایک ذمہ دار کا نقطہ نظر پہنچ سکے۔
دو بجے کشمیر ہاؤس اسلام آباد پہنچے تو چند ساعتوں بعد وہ فریم میں تھے۔ ایکشن کمیٹی کالعدم قرار دی جاچکی تھی، احتجاج کی کال بھی قائم تھی، ان ریسٹ کی کیفیت ملک بھر میں محسوس ہو رہی تھی، گفتگو شروع ہوئی تو جناب راٹھور نے انکشاف کیا کہ مظفر آباد میں حالیہ دنوں ہوئی آل پارٹیز کانفرنس سے پہلے وہ رات گئے ایکشن کمیٹی کے ایک اہم راہنما کے گھر چلے گئے۔ طے شدہ معاملات کے مطابق وہ بنا سکیورٹی اور پروٹوکول ان کے گھر جا پہنچے، وہاں ان کی شوکت میر سے فون پر بات بھی کروائی گئی، کئی گھنٹے طویل ملاقات اور گفتگو کے باوجود بھی بات نہ بن پائی۔
بقول وزیرا عظم فیصل ممتاز راٹھور، انہوں نے ہاتھ جوڑتے ہوئے ایکشن کمیٹی کو آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت سمیت مذاکراتی عمل کا حصہ بننے پر قائل کیا۔ لیکن بات نہ بنی! اے پی سی میں کمیٹی شریک نہ ہوئی۔ اسی بیچ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی آگیا۔ آئینی مسئلہ قرار دیتے ہوئے ریاستی اسمبلی کی جانب معاملہ ریفر کر دیا گیا۔
تو اب کیا ہوگا؟ کالعدم قرار پائی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے لیے البتہ راٹھور صاحب آن ریکارڈ رضا مند دکھائی دیے۔ ان کی باقی قیادت بھی بات چیت کے لیے دلائل پیش کر رہی تھی۔ مگر گذشتہ شب وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ سے جب اسی مسئلے پر یہی سوال اٹھایا تو انہوں نے سنگین چارجز عائد کرتے ہوئے ایسے کسی امکان کو فی الحال کے لیے مسترد کیا۔ اس بیچ میر واعظ عمر فاروق کی درد مندانہ اپیل ٹویٹ کی صورت میں سامنے آئی۔ وہ پریشان تھے۔ ان کے ہاں ایل او سی کے اس پار کی صورتحال تکلیف دہ تھی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ جب بات سڑکوں تک آجائے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ کان لگا کر بات سن لی جائے۔ انہوں نے فریقین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مل بیٹھ کر بات چیت کا مشورہ دیا۔
سوال مگر یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے وفاق اور پی پی پی کے بیچ ہم آہنگی ہے؟ اب تک کے دستیاب شواہد بتلاتے ہیں کہ یکسوئی نہیں ہے۔ اختلاف رائے ہے۔ چاہے اس کے پیچھے سیاسی عزائم کار فرما ہوں یا معاملے کو دیکھنے پرکھنے اور سمجھنے کے مختلف زاویے۔
بقول وزیرا عظم فیصل ممتاز راٹھور، انہوں نے ہاتھ جوڑتے ہوئے ایکشن کمیٹی کو آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت سمیت مذاکراتی عمل کا حصہ بننے پر قائل کیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
سیاسی قیادت کے ہاں رنگ ہوتا تو یہ مظفر آباد ڈیرے لگا لیتے، غم و غصے کا شکار لوگوں کو انگیج کیے رکھتے، انگیجمنٹ سے آدھا غم و غصہ تو فطری طور پر ماند پڑ جاتا ہے۔ اور ظاہر ہے یہی پیغام ایکشن کمیٹی کے جذباتی رہنماؤں کے لیے بھی ہے کہ مذاکرات اور سیاسی عمل کا حصہ بنے بنا آپ کیسے ڈنڈے کے زور پر مطالبات منوانے پر تُلے ہوئے ہیں؟ کیا اہلیان کشمیر کی خدمت دلیل سے بہتر ہوسکتی ہے یا احتجاج سے؟ ایک بار پھر امام شافعی کا قول پڑھیں اور اس کا اطلاق یہاں دوبارہ کر دیکھیں۔
جو آنا چاہو ہزار رستے، نہ آنا چاہو تو عُذر لاکھوں
مزاج برہم، طویل رستہ، برستی بارش، خراب موسم
حل نکالا جا سکتا تھا، حل اب بھی ممکن ہے۔ حل نکلے گا ۔ مگر کیسے؟ ظاہر ہے حل کے لیے مل بیٹھنا ہوگا۔ رات گئے ایک بار پھر خبر ملی کی اس سلسلے میں پیشرفت ہو رہی ہے لیکن حکومتی زعما مسلسل تردید کرتے رہے۔
فریقین سے ایک سادہ سا سوال ہے: کیا ان کے حالیہ رویے کشمیر کاز کی خدمت کر رہے ہیں یا اسے نقصان دے رہے ہیں؟
جناب وزیرا عظم کشمیر اٹھنے لگے تو عرض کیا کہ قبلہ اس صورتحال میں تو آپ کو مسلسل مظفر آباد میں ہونا چاہیے تھا نہ کہ اسلام آباد میں؟ انہوں نے اعلیٰ قیادت سے ملاقاتوں اور میڈیا سے مکالمے کی وجہ گنواتے ہوئے کہا کہ اب وہ فوراً کشمیر رخصت ہو رہے ہیں۔