Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان اور افغانستان فوری جنگ بندی کریں: چین کی دونوں ممالک سے اپیل

چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان جاری پرتشدد جھڑپوں کو ختم کرانے کے لیے فریقین سے رابطے میں ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بیجنگ نے ان حالات پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان خطے میں چین کے قریبی ترین شراکت داروں میں سے ایک ہے تاہم بیجنگ خود کو افغانستان کا ’دوست پڑوسی‘ بھی قرار دیتا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نینگ نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ پاکستان کی جانب سے جمعے کو کابل سمیت افغانستان کے بڑے شہروں پر بمباری کے بعد چین ’تنازع میں اضافے پر شدید فکر مند‘ ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین فریقین سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ’پرامن رہیں، تحمل کا مظاہرہ کریں، جلد از جلد جنگ بندی کریں اور مزید خونریزی سے بچیں۔‘
ماؤ نینگ کا مزید کہنا تھا کہ ’چین اپنے ذرائع سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازع کو حل کرانے کے لیے مسلسل ثالثی کر رہا ہے اور کشیدگی کم کرنے میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ وزارتِ خارجہ اور پاکستان و افغانستان میں موجود چینی سفارت خانے اس معاملے پر دونوں ممالک کے متعلقہ حکام کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
ایران کی ’مذاکرات کے لیے سہولت‘ فراہم کرنے کی پیشکش
اے ایف پی کے مطابق ایران نے پاکستان اور افغانستان کا تنازع کے حل کے لیے مذاکرات میں سہولت کاری کی پیشکش کی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے ایکس پر کی گئی پوسٹ میں کہا گہا ہے کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے اور مفاہمت و تعاون بڑھانے کے لیے ضروری مدد دینے کو تیار ہے۔‘
 سنیچر اور اتوار کی درمیان رات پاکستان حکومت کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ انٹیلی جنس بنیادوں پر ’جوابی کارروائی‘ میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں پاکستانی طالبان اور اس کے اتحادیوں کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا  کہ ’پاکستان میں حالیہ خودکش دھماکوں کے واقعات کے بعد، جن میں اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں رمضان کے مقدس مہینے کے دوران کا ایک اور واقعہ شامل ہے، پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشت گرد کارروائیاں خوارج  نے افغانستان میں موجود اپنی قیادت اور ہینڈلرز کے ایما پر کیں۔‘
پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات چند ماہ سے کشیدہ ہیں. پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان حکومت ٹی ٹی پی کے ارکان کو اپنے ہاں پناہ دیتی ہے اور وہ پاکستان میں حملے کرتے ہیں جبکہ افغانستان اس سے انکار کرتا ہے۔ چند ماہ قبل بھی دونوں ملکوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔
پاکستان کی جانب سے یہ حالیہ کارروائی افغان فورسز کی جانب سے جمعرات کی رات پاکستانی سرحدی افواج پر حملے کے بعد کی گئی جو اسلام آباد کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں کا ردعمل تھا۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نینگ کا کہنا تھا کہ ’چین اپنے ذرائع سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازع کو حل کرانے کے لیے مسلسل ثالثی کر رہا ہے‘ (فوٹو: اے ایف پی)

دوسری جانب جمعے ہی کو پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے دونوں ممالک کے درمیان ’کھلی جنگ‘ کا اعلان کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ چین نے اپنے عالمی ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ منصوبے کے تحت پاکستان میں نقل و حمل، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔
گزشتہ برس مئی میں انڈیا کے ساتھ ایک مختصر تنازع کے دوران پاکستان نے چین کے تیار کردہ جنگی طیارے اور فوجی ساز و سامان بھی استعمال کیا تھا۔
تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے بیجنگ ان کا بھی ایک اہم شراکت دار بن چکا ہے۔
ماؤ نینگ نے مزید کہا کہ چین نے دونوں ممالک سے چینی شہریوں، منصوبوں اور اداروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی درخواست کی ہے۔
’بیجنگ صورتحال کی کڑی نگرانی کر رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر اپنے شہریوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔‘
 

شیئر: