Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عمرکوٹ میں خواتین سے ’ناروا سلوک‘ پر پولیس ٹیم معطل، ’کارروائی کا طریقہ قابل قبول نہیں‘

پولیس مؤقف کے مطابق یہ کارروائی قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے کی گئی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
عمرکوٹ میں پولیس کی جانب سے عوام کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور کارروائی کے دوران خواتین کے تقدس، چادر و چار دیواری کی خلاف ورزی کے الزامات سامنے آنے کے بعد متعلقہ پولیس ٹیم کو معطل کرتے ہوئے واقعے کی باقاعدہ انکوائری شروع کردی گئی ہے۔
واقعہ منظرعام پر آنے کے بعد سندھ بھر میں تشویش پائی جا رہی ہے، جبکہ سندھ حکومت اور پولیس کے اعلیٰ حکام نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ذمہ دار اہلکاروں کے کردار کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
اس واقعے کے بعد نہ صرف عوامی حلقوں بلکہ سیاسی و سماجی تنظیموں کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا، جس کے بعد ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف ابتدائی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
واقعہ کیا تھا؟
عمرکوٹ کے ایک علاقے میں پولیس نے عدالتی احکامات کی روشنی میں کارروائی کی۔ پولیس مؤقف کے مطابق یہ کارروائی قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے کی گئی، تاہم متاثرہ سولنگی اور ماچھی برادری کے خاندانوں اور مقامی افراد نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکاروں نے کارروائی کے دوران گھروں میں داخل ہوتے وقت خواتین کے احترام اور سماجی اقدار کو نظرانداز کیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران خواتین کو ہراسانی، خوف و ہراس اور غیر مناسب رویے کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث علاقے میں شدید بے چینی پھیل گئی۔
واقعے کی خبریں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد انسپکٹر جنرل سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو نے معاملے کا سخت نوٹس لیا۔ آئی جی سندھ نے فوری طور پر ڈی آئی جی میرپورخاص کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کارروائی میں شامل مکمل پولیس ٹیم، بشمول متعلقہ ایس ایچ او، کو معطل کرنے کا حکم دیا۔ پولیس حکام کے مطابق یہ اقدام شفاف تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا تاکہ کسی بھی قسم کے دباؤ یا اثراندازی کے بغیر حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
آئی جی سندھ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سندھ پولیس کے پیشہ ورانہ امور میں خواتین کے ساتھ ناروا سلوک، بے حرمتی یا غیر قانونی اقدام کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پولیس کا بنیادی مقصد شہریوں کے جان و مال اور عزت کا تحفظ ہے، لہٰذا اگر کسی اہلکار نے اختیارات سے تجاوز کیا تو اس کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ آئی جی سندھ نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ اور چادر و چار دیواری کے تقدس کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق پولیس نے کارروائی عدالت کے حکم پر کی، تاہم کارروائی کا طریقہ کار کسی طور قابل قبول نہیں (فوٹو: اے پی پی)

معاملے کی جامع تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ سندھ پولیس کے ایک سینیئر افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ کمیٹی کی سربراہی ڈی آئی جی شہید بینظیر آباد کریں گے جبکہ ایس ایس پیز نوشہرو فیروز اور میرپورخاص کو بھی تحقیقاتی عمل میں شامل کیا گیا ہے۔
کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ عدالتی احکامات کی روشنی میں پولیس کارروائی کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے، خواتین کی مبینہ بے حرمتی، زیادتی اور دیگر شکایات کی چھان بین کرے اور اپنی رپورٹ فوری طور پر اعلیٰ حکام کو پیش کرے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ نے بھی عمرکوٹ واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس نے کارروائی عدالت کے حکم پر کی، تاہم کارروائی کا طریقہ کار کسی طور قابل قبول نہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ انہوں نے واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر صوبائی وزیرداخلہ اور وزیرتعلیم سے رابطہ کیا اور مکمل تفصیلات حاصل کیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور کسی بھی متاثرہ شہری کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق صوبائی وزیرداخلہ اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ انہوں نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں خواتین کے ساتھ زیادتی یا ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی اور خواتین کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود شہری حلقے عملی اقدامات اور شفاف احتساب کے منتظر ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی اس امر کا بھی جائزہ لے گی کہ آیا کارروائی کے دوران قانونی طریقہ کار، خصوصاً خواتین سے متعلق معاملات میں طے شدہ اصولوں پر عمل کیا گیا یا نہیں۔ اس حوالے سے یہ سوال بھی زیر غور ہے کہ کیا کارروائی کے وقت لیڈی پولیس اہلکار موجود تھیں اور کیا سرچ آپریشن کے دوران انسانی حقوق کے تقاضے پورے کیے گئے۔
واقعے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ تحقیقات کو مکمل شفاف بنایا جائے اور رپورٹ کو منظرعام پر لایا جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہوسکے۔ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے اذیت کا باعث بنتے ہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔
ماہرین قانون کے مطابق عدالت کے احکامات پر عملدرآمد پولیس کی ذمہ داری ضرور ہے، تاہم کسی بھی کارروائی کے دوران شہریوں کی عزت نفس اور گھریلو تقدس کا تحفظ آئینی تقاضا ہے۔ اگر تحقیقات میں اختیارات کے ناجائز استعمال یا غیر قانونی رویے کی تصدیق ہوتی ہے تو متعلقہ اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ناگزیر ہوگی۔
عمرکوٹ کا یہ واقعہ اس وقت صوبے میں پولیس اصلاحات، خواتین کے تحفظ اور قانون کے نفاذ کے طریقہ کار پر ایک اہم بحث ہے۔ عوامی حلقوں کی نظریں اب تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ پر مرکوز ہیں، جس سے یہ واضح ہوگا کہ واقعے کی اصل ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور آیا متاثرین کو انصاف مل سکے گا یا نہیں۔
حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود شہری حلقے عملی اقدامات اور شفاف احتساب کے منتظر ہیں، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔

شیئر: