Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب کی ریاض ریجن اور مشرقی صوبے پر ایران کے بزدلانہ حملوں کی شدید مذمت

سعودی عرب نے اس کے ریاض ریجن اور مشرقی صوبے کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملوں کی نہایت سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے۔ 
سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے سنیچر کو جاری کیے گئے بیان کے مطابق ’ان بزدلانہ حملوں کو بروقت کارروائی کے ذریعے کامیابی سے ناکام بنا دیا گیا اور علاقے کو کسی بڑے نقصان سے بچا لیا گیا۔‘
بیان کے مطابق ایسے حملوں کو کسی بھی بہانے یا کسی بھی صورت میں جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق ’ایرانی حکام اس بات سے پوری طرح آگاہ تھے کہ مملکت واضح طور پر اعلان کر چکی ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گی، تاہم اس کے باوجود یہ کارروائیاں کی گئیں۔‘
قبل ازیں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے خطے کے کئی رہنماؤں سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور ایرانی جارحیت پر گفتگو کی۔
یہ رابطے ایسے وقت میں کیے گئے ایران کی جانب سے خلیج کے کئی عرب ممالک کو میزائلوں کا نشانہ بنایا گیا۔
اس سے قبل ایرانی حکام نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے سنیچر کی علی الصبح ایران کے مختلف شہروں پر کیے گئے حملوں کے جواب میں کارروائی کا عزم ظاہر کیا تھا۔
ولی عہد نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان، بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، کویت کے امیر شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح، اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے بات چیت کی۔
سعودی ولی عہد نے برادر رہنماؤں کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ ’سعودی عرب ان کے ممالک کے خلاف ایرانی جارحیت کے جواب میں مدد فراہم کرنے کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لانے کے لیے تیار ہے۔‘

شیئر: