Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی ولی عہد کا خلیجی ممالک کے سربراہوں سے ایرانی جارحیت پر تبادلہ خیال

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سنیچر کو خطے کے کئی رہنماؤں سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور ایرانی جارحیت پر گفتگو کی۔
یہ رابطے ایسے وقت میں کیے گئے ایران کی جانب سے خلیج کے کئی عرب ممالک کو میزائلوں کا نشانہ بنایا گیا۔
اس سے قبل ایرانی حکام نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے سنیچر کی علی الصبح ایران کے مختلف شہروں پر کیے گئے حملوں کے جواب میں کارروائی کا عزم ظاہر کیا تھا۔
ولی عہد نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان، بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، کویت کے امیر شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح، اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے بات چیت کی۔
سعودی ولی عہد نے برادر رہنماؤں کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ ’سعودی عرب ان کے ممالک کے خلاف ایرانی جارحیت کے جواب میں مدد فراہم کرنے کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لانے کے لیے تیار ہے۔‘
ایران کی جانب سے خلیجی اور علاقائی ممالک کی خودمختاری کی مذمت کرتے ہیں: سعودی عرب 
اس سے قبل سعودی عرب نے خلیجی اور علاقائی ممالک کی خودمختاری کی ایرانی خلاف ورزیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے  سرکاری بیان میں متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت اور اردن کی خودمختاری کی ’کھلی اور صریح‘ خلاف ورزی کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ان ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ مملکت اُن کی جانب سے کیے جانے والے کسی بھی قانونی اور دفاعی اقدام کی حمایت کرے گی۔
مملکت نے خبردار کیا کہ ریاستی خودمختاری کی مسلسل خلاف ورزیوں اور بین الاقوامی قانون کی پامالی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ ایسے اقدامات علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
سعودی عرب نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ مبینہ ایرانی اقدامات کی مذمت کرے اور خطے میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والی خلاف ورزیوں کے سدباب کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

 

شیئر: