Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ ایران مذاکرات: تہران کی معطلی کی رپورٹس، صدر ٹرمپ کا بات چیت کا دعویٰ

امریکہ اور ایران کے درمیان دیرینہ دشمنی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے جاری بالواسطہ مذاکرات ایک بار پھر شدید ابہام اور تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔ ایرانی میڈیا کی جانب سے مذاکرات معطل کیے جانے کی رپورٹس کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران کے ساتھ بات چیت اب بھی تیز رفتاری سے جاری ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے پیر کو رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے اپنی افواج کو لبنان کے اندر مزید آگے بڑھنے کے احکامات کے بعد، تہران نے امریکہ کے ساتھ جاری بالواسطہ مذاکرات کو معطل کر دیا ہے۔
اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں فوری طور پر 5 ڈالر فی بیرل سے زائد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے اپنی سوشل میڈیا ایپ ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا ’اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ بات چیت تیز رفتاری سے جاری ہے۔‘
مختلف میڈیا ہاؤسز کو دیے گئے ٹیلی فونک انٹرویوز میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں ایران کی جانب سے مذاکرات معطل کرنے کے بارے میں مطلع نہیں کیا گیا۔
این بی سی  نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا ’انہوں نے ہمیں اس بارے میں مطلع نہیں کیا۔‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان خاموشی برقرار رہتی ہے تو یہ بھی ٹھیک ہے اور وہ انتظار کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ’میرا خیال ہے کہ اگر آپ سچ جاننا چاہتے ہیں تو ہم پہلے ہی بہت زیادہ بات چیت کر چکے ہیں۔ خاموشی اختیار کرنا بہت اچھا ہوگا، اور یہ طویل عرصے کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹ ورک کو یہ بھی بتایا کہ مذاکرات کی معطلی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ امریکہ ایران پر بمباری شروع کر دے گا بلکہ ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی۔
دوسری جانب سی این بی سی  کو دیے گئے ایک الگ انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ کا لب و لہجہ مختلف تھا جہاں انہوں نے کہا ’سچی بات یہ ہے کہ اگر مذاکرات ختم بھی ہو جائیں تو مجھے کوئی پروا نہیں... مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘
تاہم ان انٹرویوز کے منظرِعام پر آنے کے فوراً بعد انہوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کر کے مذاکرات کے جاری رہنے کا دعویٰ کیا۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی لبنان کی صورتحال کو ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا (فائل فوٹو: اے ایف)

مذاکرات کی معطلی کی وجوہات اور لبنانی محاذ
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کی مذاکراتی ٹیم نے لبنان پر ہونے والے حملوں کے باعث ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ روک دیا ہے۔ لبنان میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع کو دوبارہ بھڑکا دیا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی لبنان کی صورتحال کو ایک بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ’کسی بھی ایک محاذ پر خلاف ورزی تمام محاذوں پر سیز فائر (جنگ بندی) کی خلاف ورزی تصور ہو گی۔ کسی بھی خلاف ورزی کے نتائج کی ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔‘
نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ جب تک لبنان کے معاملے پر ایران اور مزاحمتی فرنٹ کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، تب تک کوئی بات چیت نہیں ہو گی۔
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو شروع کی جانے والی اس جنگ میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اکثریت ایران اور لبنان سے ہے۔ اس جنگ کے باعث عالمی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے کیونکہ ایران نے تیل اور ایل این جی کی ترسیل کی اہم ترین عالمی گزرگاہ ’آبنائے ہرمز‘ کو عملی طور پر بند کر دیا ہے جس سے توانائی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔
’نئے محاذ‘ کھولنے کی دھمکی
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران اور اس کے اتحادی ’مزاحمتی فرنٹ‘ (جس میں یمن، لبنان اور عراق کے شیعہ گروپ شامل ہیں) نے اسرائیل اور اس کے حامیوں کو ’سزا‘ دینے کے لیے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے اور دیگر محاذوں کو متحرک کرنے کا ایجنڈا تیار کیا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان اپریل کے آغاز سے جنگ بندی نافذ ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اگر یمن میں ایران کے اتحادی حوثی اس تنازع میں نیا محاذ کھولتے ہیں تو ان کا سب سے آسان ہدف یمن کے ساحل پر واقع ’آبنائے باب المندب‘ ہوگی جو بحیرہ قلزم اور نہر سویز کی طرف جانے والے سمندری ٹریفک کو کنٹرول کرنے والی ایک انتہائی اہم اور تنگ گزرگاہ ہے۔
جنگ بندی اور فضائی جھڑپیں
ایران اور امریکہ کے درمیان اپریل کے آغاز سے جنگ بندی نافذ ہے اور پاکستان اس خطے میں پائیدار امن کے معاہدے کے لیے ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان وقفے وقفے سے حملوں کا تبادلہ جاری ہے۔
امریکی فوج کے مطابق گزشتہ اختتامِ ہفتہ پر ایرانی فورسز کی ’جارحانہ کارروائیوں‘ بشمول بین الاقوامی سمندری حدود میں امریکی ڈرون گرائے جانے کے بعد امریکی فوج نے ایرانی فضائی دفاعی نظام، ایک گراؤنڈ کنٹرول سٹیشن اور بحری جہازوں کے لیے خطرہ بننے والے دو ڈرونز کو نشانہ بنایا۔

کویت نے پیر کو اپنے فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا اور ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

دوسری طرف ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور نے پیر کو بیان جاری کیا کہ انہوں نے جنوبی ایران پر ہونے والے حملے کے جواب میں امریکہ کے زیرِ استعمال ایک فضائی بیس کو نشانہ بنایا ہے۔
اگرچہ ایران نے اس بیس کا نام ظاہر نہیں کیا تاہم کویت نے پیر کو اپنے فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا اور ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں خطے میں تناؤ کم کرنے کی کوششوں کو سبوتاژ کر رہی ہیں۔
امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کی رات دیر گئے کویت میں تعینات امریکی افواج کو نشانہ بنانے والے دو ایرانی بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا اور اس کارروائی میں کسی بھی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔

شیئر: