Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آئی فون 17 پرو میکس، ایس 26 الٹرا اور گوگل پکسل 10 پرو ایکس ایل کا بیٹری ٹیسٹ کون جیتا؟

جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں گزشتہ روز سام سنگ نے دنیا بھر میں فلیگ شپ فون سیریز ایس 26 کے ماڈلز متعارف کروائے ہیں۔
سام سنگ کی لانچ تقریب کے بعد مختلف ٹیک یوٹیوبرز اور صارفین کی جانب سے رویوز کا سلسلہ بھی جاری ہے جن فونز کی خصوصیات اور حریف فلیگ شپ فونز کے ساتھ جائزے شیئر کیے جا رہے ہیں۔ 
سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی ویڈیوز سے اندازہ لگایا جائے تو رواں سال سام سنگ گلیکسی ایس 26 الٹرا میں فون کا پروائیویسی ڈسپلے اور کیمرا سٹیبلائزیشن مین ہورائزن لاک کے فیچرز کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
پرائیویسی ڈسپلے آپ کی سکرین کو سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کی مدد سے آس پاس موجود لوگوں سے چھپاتا ہے۔
دوسری جانب کیمرا سٹیبلائزیشن میں ہروائزن لاک کو آن کرنے سے ویڈیو بنانے کے دوران فون سامنے موجود مناظر کو فریم میں لاک کر دیتا ہے۔ پھر چاہے آپ فون کو الٹا بھی کیوں نہ کر دیں، آپ کی فلمائے جانے والی ویڈیو سیدھی اور مستحکم نظر آتی ہے۔
جہاں ان دو خصوصیات نے صارفین کو حیران کیا ہے وہیں کچھ صارفین سام سنگ سے یہ شکوہ کرتے نظر بھی آئے کہ اس سال بھی سام سنگ نے فونز کی بیٹری میں اضافہ نہیں کیا۔
آئی فون 17 پرو میکس، گلیکسی ایس 26 الٹرا اور گوگل پکسل 10 پرو ایکس ایل کا بیٹری ٹیسٹ مقابلہ
اس ہی تناظر میں ٹیک یوٹیوبر لور آف ٹیک نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک تفصیلی اور مسلسل بیٹری ڈرین ٹیسٹ شائع کیا جس میں تین فلیگ شپ سمارٹ فونز کو آمنے سامنے رکھا گیا۔
ٹیسٹ میں شامل فونز سام سنگ گلیکسی ایس 26 الٹرا، ایپل کا آئی فون 17 پرو میکس اور گوگل کا پکسل 10 پرو ایکس ایل ہیں۔

فوٹو: سکرین شاٹ یوٹیوب ویڈیو (Lover of Tech)

یہ ٹیسٹ موبائل سیلولر ڈیٹا (فور جی) پر کیا گیا جبکہ وائی فائی استعمال نہیں کیا گیا۔
یوٹیوبر کے مطابق یہ ٹیسٹ ایک ہی نشست میں بغیر کسی وقفے کے ریکارڈ کیا گیا۔ تینوں فونز میں آٹو برائٹنس بند کی گئی، سکرین برائٹنس تقریباً دو سو نِٹس پر فکس کی گئی، پاور سیونگ اور ایڈاپٹو بیٹری فیچرز آف کیے گئے، ایک سو بیس ہرٹز ریفریش ریٹ فعال رکھا گیا جبکہ ریزولوشن ایک ہزار اسی پی پر سیٹ کی گئی۔ تینوں ڈیوائسز کی بیٹری ہیلتھ سو فیصد تھی اور چارج سائیکلز کم تھے تاکہ نتیجہ زیادہ مستند رہے۔
ٹیسٹ میں نو مختلف ٹاسکس شامل تھے اور ہر ٹاسک کے لیے ایک ایک گھنٹہ مختص کیا گیا تھا۔ ابتدا 4K 60fps میں ویڈیو ریکارڈنگ سے کی گئی، اس کے بعد ایکس سپیسز (ٹوئٹر سپیسز)، ٹک ٹاک، انسٹاگرام ریِلز، 1440p پر یوٹیوب سٹریمنگ، یوٹیوب میوزک سٹریمنگ، سب وے سرفرز گیمنگ اور آخر میں سفالٹ نائن جیسی ہیوی گرافکس گیم شامل تھی۔ تمام سرگرمیاں مسلسل موبائل ڈیٹا پر چلائی گئیں۔
ابتدائی راؤنڈز میں آئی فون نے کم بیٹری لاس کے ساتھ بہتر کارکردگی دکھائی، خاص طور پر 4k 60fps کیمرہ ریکارڈنگ، ایکس سپیسز اور ٹک ٹاک کے استعمال کے دوران۔ انسٹاگرام کے مرحلے پر مقابلہ کافی قریب رہا جبکہ یوٹیوب سٹریمنگ کے راؤنڈ میں سام سنگ گلیکسی ایس 26 الٹرا نے نسبتاً بہتر ایفیشنسی دکھائی اور اس مرحلے میں سبقت حاصل کی۔
یوٹیوب میوزک سٹریمنگ کے دوران بھی سام سنگ واضح برتری میں نظر آیا اور اس مرحلے پر اس کے پاس زیادہ بیٹری فیصد باقی تھی۔ تاہم سب وے سرفرز گیمنگ کے دوران صورتحال بدل گئی اور سام سنگ کو نمایاں بیٹری لاس کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد آئی فون دوبارہ برتری حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔
حتمی مرحلے میں سفالٹ نائن جیسی ہیوی گرافکس گیم چلائی گئی جہاں فونز کے آف ہونے کا وقت ریکارڈ کیا گیا۔

فوٹو: سکرین شاٹ یوٹیوب ویڈیو (Lover of Tech)

نتائج کے مطابق تیسرے نمبر پر سام سنگ گلیکسی ایس چھبیس الٹرا رہا جو 7 گھنٹے 22 منٹ 27 سیکنڈ میں بند ہوا۔ دوسرے نمبر پر گوگل پکسل ٹین پرو ایکس ایل رہا جو 7 گھنٹے 30  منٹ 30 سیکنڈ تک چلا۔ جبکہ پہلے نمبر پر آئی فون 17 پرو میکس رہا جو 7 گھنٹے 33 منٹ 10 سیکنڈ تک فعال رہا۔
بیٹری کپیسٹی کے لحاظ سے آئی فون کی بیٹری نسبتاً کم تھی، سام سنگ میں 5000maH جبکہ گوگل پکسل میں 5200maH بیٹری موجود تھی۔
پروسیسرز اور چپ سیٹ کس فون کا تیز تھا؟

فوٹو: سکرین شاٹ یوٹیوب ویڈیو (Lover of Tech)

گیگ بینچ سکس سکورز کے مطابق سنگل کور پرفارمنس میں آئی فون آگے تھا جبکہ ملٹی کور میں سام سنگ کی کارکردگی بہتر رہی۔
یوٹیوبر کے مطابق تینوں فونز کی بیٹری پرفارمنس ایک دوسرے کے بہت قریب رہی اور فرق چند منٹوں کا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عملی استعمال میں نتائج صارف کے استعمال کے انداز پر منحصر ہوں گے، تاہم اس مخصوص کنٹرولڈ موبائل ڈیٹا ٹیسٹ میں آئی فون سیونٹین پرو میکس نے معمولی برتری حاصل کی۔

 

شیئر: