یورپ میں موسمِ گرما کی چھٹیوں کا آغاز قریب آتے ہی ہوائی اڈوں پر معمول کی چہل پہل کی توقع کی جا رہی تھی، مگر اس بار منظر کچھ مختلف ہے۔
ایئرلائنز اپنے شیڈول تبدیل کر رہی ہیں، مسافروں کو مہنگے ٹکٹوں کا سامنا ہے اور ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ایک ایسا بحران سر اٹھا رہا ہے جس کی جڑیں ہزاروں کلومیٹر دور خلیج میں واقع ہیں۔
مزید پڑھیں
اس بحران کا مرکز آبنائے ہرمز ہے، ایک ایسا تنگ سمندری راستہ جسے عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں یہاں کشیدگی اور جہاز رانی میں رکاوٹوں نے نہ صرف تیل بلکہ جیٹ فیول کی سپلائی کو بھی شدید متاثر کیا ہے، اور یہی اثر اب یورپ کے فضائی نظام میں محسوس کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کی وارننگ: محدود ذخائر
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے 16 اپریل کو خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو میں خبردار کیا کہ یورپ کے پاس جیٹ فیول کے ذخائر شاید صرف چھ ہفتے کے لیے باقی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر سپلائی میں رکاوٹ برقرار رہی تو پروازوں کی منسوخی ناگزیر ہو سکتی ہے۔ یہ بیان بعد ازاں مختلف بین الاقوامی میڈیا اداروں، جن میں روئٹرز اور عرب نیوز شامل ہیں، نے بھی نقل کیا اور اس خدشے کو مزید تقویت ملی کہ صورتحال محض عارضی دباؤ نہیں بلکہ ایک ممکنہ بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
جیٹ فیول کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ
اعداد و شمار بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یورپی نشریاتی ادارے یورو نیوز کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد جیٹ فیول کی قیمتوں میں تقریباً 95 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
اسی طرح انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے اپریل کے وسط کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر جیٹ فیول کی قیمت 1458 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں یورپ میں 106 فیصد سے زیادہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس اضافے کا براہ راست اثر ہوائی ٹکٹوں پر پڑ رہا ہے، اور ایئرلائنز اس بوجھ کو مسافروں تک منتقل کر رہی ہیں۔
ممکنہ شدت: 80 سال کا بڑا بحران؟
توانائی کے ماہر کلاڈیو گیلمبرٹی نے عرب نیوز کو بتایا کہ یہ کم از کم آٹھ دہائیوں کا سب سے شدید توانائی بحران بن سکتا ہے اور اگر صورتحال برقرار رہی تو یورپ پانچ سے سات ہفتوں میں بڑے پیمانے پر قلت کا سامنا کر سکتا ہے۔
اسی طرح آئی این جی کے ماہر ریکو لیومین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک سے جیٹ فیول کی ترسیل کئی ہفتے پہلے ہی رک چکی ہے اور اب عالمی سطح پر اس ایندھن کے لیے سخت مقابلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں مزید بڑھ رہی ہیں۔











