اسرائیلی فورسز نے اکتوبر 2023 سے اب تک 23 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا
اتوار 19 اپریل 2026 19:53
فلسطینی پریزنر سوسائٹی کا کہنا ہے اسرائیلی جیلوں میں قید 9,500 فلسطینی قیدیوں کو شدید زیادتیوں کا سامنا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی فورسز نے اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک 23 ہزار فلسطینیوں کو حراست میں لیا ہے، جن میں سے اکثریت کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔
عرب نیوز کے مطابق فلسطینی پریزنر سوسائٹی نے اتوار کے روز رپورٹ کیا کہ اس تعداد میں وہ افراد شامل ہیں جنہیں گھروں سے، فوجی چیک پوسٹس پر یا بطور یرغمال حراست میں لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے اس عرصے کے دوران مغربی کنارے اور غزہ سے مجموعی طور پر 700 خواتین کو حراست میں لیا جبکہ بچوں کی تعداد 1,800 تک پہنچ گئی۔
گرفتار شدگان میں 240 صحافی بھی شامل تھے، جن میں سے 43 اب بھی زیر حراست ہیں۔ ایک صحافی، 54 سالہ مروان حرزاللہ، جو نابلس سے تعلق رکھتے تھے، گذشتہ ماہ اسرائیلی حراست میں انتقال کر گئے۔
وفا نیوز ایجنسی کے مطابق گروپ نے کہا کہ اسرائیلی جیلوں میں قید 9,500 فلسطینی قیدیوں کو شدید زیادتیوں کا سامنا ہے، جن میں تشدد، اہلخانہ کو دھمکیاں اور گھروں کی توڑ پھوڑ شامل ہے۔
2023 کی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 1967 میں غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے قبضے کے بعد سے اب تک 8 لاکھ سے زائد فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں وقت گزار چکے ہیں۔
مارچ میں اسرائیل نے ایک قانون منظور کیا جس کے تحت مغربی کنارے میں وہ فلسطینی جو اسرائیلی فوجی عدالتوں میں ’دہشت گردی‘ قرار دیے گئے مہلک حملوں کے مجرم ثابت ہوں گے، انہیں سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ یہ قانون ان اسرائیلی آبادکاروں پر لاگو نہیں ہوتا جو اسی علاقے میں ایسے ہی جرائم کے مرتکب ہوں، کیونکہ ان کے مقدمات سویلین عدالتوں میں چلائے جاتے ہیں۔