Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ اور ایران کے پاس مذاکرات جاری رکھنے کی قوتِ ارادی موجود ہے: ترکیہ

ایران کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کی نئی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اتوار کو کہا کہ ایران اور امریکہ دونوں کے پاس جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے کا ارادہ موجود ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جنوبی صوبے انطالیہ میں ایک سفارتی فورم کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہاکان فیدان نے کہا کہ واشنگٹن اور ایران کے درمیان بات چیت بڑی حد تک مکمل ہو چکی ہے، تاہم اب بھی کئی معاملات پر اختلافات باقی ہیں۔
ترک وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ جنگ بندی، جو اگلے ہفتے ختم ہونے والی ہے، اسے بڑھایا جانا چاہیے۔
’کوئی بھی نہیں چاہتا کہ اگلے ہفتے جنگ بندی کے ختم ہونے پر نئی جنگ شروع ہو۔ ہمیں امید ہے کہ فریقین جنگ بندی میں توسیع کریں گے۔‘
ترکیہ کے نائب صدر جودت یلماز نے اس سے پہلے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ مذاکرات کی میز پر بہت سے ’پیچیدہ مسائل‘ موجود ہیں۔
جودت یلماز نے کہا کہ انہیں اب بھی یقین ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت جاری رہے گی۔
’ہم سب چاہتے ہیں کہ یہ مذاکرات بہت جلد اور ایک ہی بار میں مکمل ہو جائیں، لیکن ہمیں حقیقت پسند ہونا ہوگا۔ یہ جامع مذاکرات وقت لیں گے۔‘
نائب صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ایک جامع معاہدہ آبنائے ہرمز سے آزادانہ گزرگاہ کے لیے ضروری ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ’اصل مسئلہ کیا ہے؟ جاری جنگ۔ لہٰذا اس جنگ کا خاتمہ سب سے بڑی ضمانت فراہم کرے گا۔‘
ایران کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کی نئی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے سنیچر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کے آرمی چیف، جو ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں، حالیہ دورہ تہران کے دوران یہ تجاویز ایران کو پیش کیں، اور ان کا ابھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ان تجاویز کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
کونسل نے کہا کہ ایران نے ابھی تک جواب نہیں دیا، تاہم مزید مذاکرات کے لیے امریکہ کو ’ضرورت سے زیادہ مطالبات ترک کرنا ہوں گے اور اپنی درخواستوں کو زمینی حقائق کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔‘

 

شیئر: