چیونٹیوں کی سمگلنگ کا انوکھا کیس، ملکہ چیونٹی اتنی قیمتی کیوں سمجھی جاتی ہے؟
چیونٹیوں کی سمگلنگ کا انوکھا کیس، ملکہ چیونٹی اتنی قیمتی کیوں سمجھی جاتی ہے؟
پیر 20 اپریل 2026 14:46
بین الاقوامی بلیک مارکیٹ میں ایک ملکہ چیونٹی کی قیمت سینکڑوں ڈالر تک ہو سکتی ہے۔(فوٹو: اے ایف پی)
مختلف اشیا، جانوروں حتیٰ کہ انسانوں کی سمگلنگ بھی کوئی نئی بات نہیں مگر اب کینیا میں سمگلنگ کا ایک ایسا کیس سامنے آیا ہے جو کبھی کسی نے دیکھا تھا نہ سنا۔
اس واقعے نے ماہرینِ ماحولیات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ اس واقعے میں ایک ایسے چینی شہری کو ایئرپورٹ پر گرفتار کیا گیا تھا جس کے پاس ہزاروں زندہ چیونٹیاں موجود تھیں۔
کینیا کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں کیڑے مکوڑے خصوصاً چیونٹیاں بڑے پیمانے پر پائی جاتی ہیں۔
اڑتی چونٹیاں سمگلروں کی نظر میں کیسے آئیں؟
چیونٹیوں کے پر نکلنے کے بارے میں سب سے سنا ہے مگر اس کا ایک بڑا نظارہ کینیا کے دارالحکومت نیروبی سے تقریباً دو گھنٹے کی مسافت پر واقع رفٹ ویلی میں دیکھنے کو ملتا ہے جہاں ہزاروں چیونٹیاں اڑتی ہوئی پائی جاتی ہیں، بظاہر یہ ایک قدرتی عمل ہے، مگر اب یہی منظر ایک بڑھتی ہوئی غیرقانونی عالمی تجارت سے جڑ چکا ہے۔
ملکہ چیونٹی کی کالونی
ماہرین کا کہنا ہے کہ برسات کے دوران نر چیونٹیاں اور ملکہ چیونٹیاں اپنے بِلوں سے نکلتی ہیں اور ملاپ کے بعد ملکہ چیونٹی زمین میں نئی بل بنا کر ایک نئی کالونی کی بنیاد رکھتی ہے۔
یہی وہ وقت ہوتا ہے جب سمگلر انہیں پکڑنے کے لیے متحرک ہو جاتے ہیں، کیونکہ ایک ہی ملکہ چیونٹی پوری کالونی بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
عالمی منڈی میں بڑھتی مانگ
ماہرین کے مطابق افریقہ میں پائی جانے والی بڑی جسامت کی سرخ چیونٹی (میسر سیفالوٹیز) اس تجارت کا مرکز ہے۔
یہ چیونٹیاں بیج جمع کرنے والی ہوتی ہیں اور اپنی پیچیدہ سماجی ساخت اور کالونی کے نظام کی وجہ سے دنیا بھر میں شوقین افراد کے لیے خصوصی کشش رکھتی ہیں۔
ایک چیونٹی سینکڑوں ڈالر میں
بین الاقوامی بلیک مارکیٹ میں ایک ملکہ چیونٹی کی قیمت سینکڑوں ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ انہیں شیشے یا پلاسٹک کے شفاف ڈبوں میں رکھا جاتا ہے تاکہ ان کی کالونی کی تشکیل، سرنگوں کی تعمیر اور خوراک جمع کرنے کے عمل کو قریب سے دیکھا جا سکے.
چیونٹیوں کی سمگلنگ کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں اس کام سے وابستہ ایک شخص کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ یہ کاروبار کرنے والے لوگ صبح کے وقت چیونٹیوں کے اس ٹیلے نما جگہ کو ڈھونڈتے ہیں جس کے قریب چیونٹیاں پھرتی رہتی ہیں۔ اس کو اوپر سے ہلایا جاتا ہے تو تمام چیونٹیاں باہر نکل آتی ہیں جن میں ملکہ چیونٹی بھی ہوتی ہے اور اس کو پکڑ لیا جاتا ہے۔
ژانگ کیکون کو نیروبی ایئرپورٹ پر 2,200 چیونٹیاں اسمگل کرنے پر گرفتار کر کے سزا دی گئی۔(فوٹو: اے ایف پی)
رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ اس کاروبار سے وابستہ لوگ خود سامنے نہیں آتے بلکہ مقامی لوگوں کو پیسے دے کر چیونٹیاں پکڑنے کا کام دیتے ہیں اور پھر ان کو ایسے چھوٹے باکسز میں ڈالا جاتا ہے جو سکینرز میں بھی بمشکل ظاہر ہوتی ہیں۔
کچھ عرصہ قبل رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ چین کے شہری ژانگ کیکون کو نیروبی کے ہوائی اڈے پر اس وقت پکڑا گیا جب اس کے سامان سے دو ہزار دو سو سے زائد زندہ چیونٹیاں برآمد ہوئیں، اس کو بعد میں عدالت نے قید اور جرمانے کی سزا سنائی۔
ماہرینِ کا کہنا ہے کہ چیونٹیاں ماحولیاتی نظام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ کینیا میں تقریباً 600 اقسام کی چیونٹیاں پائی جاتی ہیں، جن میں سے کچھ زمین کی زرخیزی بڑھانے، بیج پھیلانے اور دیگر حشرات کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم ہیں۔