جب بمباری نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے اس چھوٹے سے گاؤں کاسلیان کا معمول کا سکون برباد کیا تو محمد راشد نے فوری طور پر اپنے خاندان کے لیے ایک پناہ گاہ بنانے کا فیصلہ کر لیا۔
یہ فیصلہ اس لیے تھا کہ انہیں معلوم تھا کہ اس متنازع خطے میں جنگ کے بادل کسی بھی وقت دوبارہ چھا سکتے ہیں۔
اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایٹمی طاقت رکھنے والے حریف ممالک انڈیا اور پاکستان کے درمیان گزشتہ برس ہونے والا تنازع دہائیوں میں بدترین قرار دیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں
اس کشیدگی کا آغاز 22 اپریل کو ایک پہاڑی تفریحی مقام پہلگام پر ہونے والے حملے سے ہوا تھا جس میں زیادہ تر ہندو شہری ہلاک ہوئے تھے۔
اس کے بعد چار دنوں تک جاری رہنے والی فوجی کشیدگی میں دونوں جانب سے ڈرونز، میزائلوں اور لڑاکا طیاروں کا استعمال کیا گیا جس میں 70 سے زائد افراد مارے گئے۔ اس جنگ نے مقامی آبادی کو شدید خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔

سانپوں سے خوف یا بارود کا ڈر؟
کاسلیان گاؤں کے دکان دار محمد ماجد کہتے ہیں ’ہمیں ایسے ہی ڈر لگتا ہے جیسے سمندر کے قریب رہنے والوں کو سونامی کا ڈر ہوتا ہے۔‘
محمد راشد پیشے کے اعتبار سے کاشت کار ہیں، وہ پہلے ایک نیا باورچی خانہ بنا رہے تھے۔ انہوں نے سٹیل کے فریم والی کھڑکیاں اور مضبوط دروازے لگوانے کا ارادہ کیا تھا تاکہ گھر میں سانپ نہ آ سکیں۔ لیکن جب گاؤں پر مارٹر گولے برسنے لگے تو ترجیحات بدل گئیں۔
40 سالہ محمد راشد نے اے ایف پی کو بتایا ’مجھے احساس ہوا کہ بچوں کو سانپوں سے زیادہ ان گولوں سے حفاظت کی ضرورت ہے جو سرحد پار سے بغیر کسی انتباہ کے گر سکتے ہیں۔‘
محمد راشد نے باورچی خانے کا منصوبہ ترک کر کے اپنی زندگی کی تمام جمع پونجی ایک عارضی بنکر (پناہ گاہ) بنانے پر خرچ کر دی جس کی دیواریں مضبوط اور چھت کنکریٹ کی ہے۔
گزشتہ برس کی لڑائی سے قبل پہلگام کے نزدیک ایک مقام پر مسلح افراد نے حملہ کر کے 26 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔
عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں نے خواتین اور بچوں کو مردوں سے الگ کر کے انہیں ایک سرسبز میدان میں گولیاں مار کر قتل کر دیا۔
انڈیا نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا جسے اسلام آباد نے مسترد کر دیا۔
اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کشیدہ ہوئے اور فوجی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

اس جنگ کے دوران پونچھ کا ضلع سب سے زیادہ متاثر ہوا۔
رمیز خان اور ان کی اہلیہ عروسہ اپنے 12 سالہ جڑواں بچوں کے ساتھ گھر سے باہر نکلے ہی تھے کہ ایک مارٹر گولہ گلی میں آ گرا، جس نے بچوں کی جان لے لی۔
عروسہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے ہیں جب وہ کہتی ہیں ’میں وہ لمحہ اور وہ گلی کبھی نہیں بھول سکتی۔‘
کاسلیان میں تقریباً 2000 افراد آباد ہیں، وہاں حکومتی سطح پر صرف ایک کمیونٹی شیلٹر موجود ہے جس میں بمشکل 40 افراد سما سکتے ہیں۔
حکام نے شہریوں کے لیے نئے بنکر تعمیر نہیں کیے سوائے افسران کے لیے مخصوص دو بڑی پناہ گاہوں کے۔

محمد راشد کے علاوہ گاؤں کے کم از کم تین مزید خاندانوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنے گھروں میں بنکر بنا لیے ہیں۔
73 سالہ جگدیش کور نے اس لڑائی میں اپنا بیٹا کھو دیا اور دھماکے سے ان کی قوتِ سماعت بھی متاثر ہوئی۔
اسی طرح 67 سالہ ریٹائرڈ پولیس افسر محمد اسلم جب جنگ بندی کے بعد واپس آئے تو ان کا گھر کھنڈر بن چکا تھا۔
حکومت کی جانب سے انہیں ایک لاکھ روپے ہرجانہ دیا گیا لیکن انہوں نے اس رقم کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔
محمد اسلم نے ٹوٹی ہوئی دیواروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’یہ رقم اس نقصان کی مرمت کے لیے کافی نہیں ہے۔ میں نے یہ پیسے سنبھال کر رکھے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ اگر دوبارہ حالات خراب ہوئے تو یہ کام آئیں گے۔‘
کشمیر کے تقسیم شدہ خطے کے باسیوں کے لیے یہ جنگ بندی محض ایک وقفہ ہے کیونکہ ان کے ذہنوں میں یہ سوال مستقل موجود ہے کہ ’کیا یہ سب دوبارہ شروع ہو جائے گا؟‘












