چین کے صدر شمالی کوریا پہنچ گئے، کم جون اُن کو جوہری پروگرام پر کوئی پیغام دیں گے؟
چین کے صدر شی جن پنگ دو روزہ دورے پر پیر کو شمالی کوریا پہنچے اور پیانگ یانگ کے ساتھ اپنی ’ناقابلِ شکست دوستی‘ کو سراہا۔
یہ رواں برس اُن کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے، جب کہ اس سے قبل وہ بیجنگ میں مسلسل اہم سربراہی ملاقاتوں کی میزبانی کر چکے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق چین، جو امریکہ کا ایک بڑا جغرافیائی و سیاسی حریف سمجھا جاتا ہے، کئی دہائیوں سے شمالی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار رہا ہے اور بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کرنے والے اس ملک کو سفارتی اور معاشی حمایت فراہم کرتا آیا ہے۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کی ویڈیو کے مطابق جب صدر شی کا ایئر چائنہ کا طیارہ ایئرپورٹ پر اُترا تو فوجی افسران ’ریڈ کارپٹ‘ استقبال کے لیے وہاں موجود تھے۔ یار رہے کہ یہ 2019 کے بعد شی جن پنگ کا شمالی کوریا کا پہلا دورہ ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ اہلیہ ’پینگ لی یوان‘ کے ہمراہ طیارے سے باہر آئے تو کم جون اُن اور اُن کی اہلیہ ’ری سول جو‘ نے اُن کا استقبال کیا۔
دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا جبکہ بچوں نے اُنہیں گل دستے پیش کیے۔ اس موقعے پر ایک بینر بھی آویزاں تھا جس پر لکھا تھا کہ ’ہم کامریڈ شی جن پنگ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔‘
صدر شی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر پوتن نے بیجنگ کا دورہ کیا، جبکہ شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
گذشتہ ماہ وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’شی جن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ نے بیجنگ میں ملاقات کے دوران شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے مشترکہ مقصد کی توثیق کی۔‘
تاہم، کم جون اُن کی بااثر بہن نے شی جن پنگ کی آمد سے ایک روز قبل واضح کیا تھا کہ ’شمالی کوریا کا جوہری پروگرام کبھی ختم نہیں کیا جائے گا۔‘
جنوبی کوریا کے نسبتاً ’نرم مزاج‘ صدر لی جے مایونگ نے پیر کو کہا تھا کہ ’ہمیں شمالی کوریا کو جوہری تخفیف اسلحہ کے لیے قائل کرنے کی کوششیں ترک نہیں کرنی چاہییں، اور یہ بھی کہا کہ ’شمالی کوریا اب بھی جوہری مواد تیار کر رہا ہے۔‘
ڈی پال یونیورسٹی میں سفارت کاری کے پروفیسر ’منسیون کو‘ نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’چین شاید شمالی کوریا کو ایک جوہری ریاست کے طور پر قبول کر چکا ہے، لیکن شی جن پنگ غالباً کم جونگ اُن کو یہ پیغام دیں گے کہ چین کے لیے سب سے ضروری خطے کا استحکام ہے۔‘
انہوں نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ’چین ہمیشہ استحکام کو ترجیح دیتا آیا ہے اور اس وقت امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر اور اختلافات کم کر رہا ہے۔‘
