’بیلنس اچانک 113 روپے سے 294 کروڑ‘، انڈین پلمبر کے اکاؤنٹ میں پراسرار ٹرانزیکشن
’بیلنس اچانک 113 روپے سے 294 کروڑ‘، انڈین پلمبر کے اکاؤنٹ میں پراسرار ٹرانزیکشن
اتوار 7 جون 2026 8:22
ویکاش کمار کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں پتہ کہ رقم کہاں سے آئی (فوٹو: مینوراما آن لائن)
انڈیا میں ایک غریب پلمبر کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا ہے کہ اسے سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ خوش ہو یا پریشان کیونکہ اس کے بینک اکاؤنٹ کے بیلنس نے اسے عجیب سا جھٹکا لگا دیا ہے۔
اخبار ٹریبیون انڈیا کے مطابق پلمبر کے بینک اکاؤنٹ جس میں 113 روپے موجود تھے مگر جب اس نے اپنا بیلنس چیک کیا تو اس میں 294 کروڑ روپے موجود تھے اور اسے نہیں معلوم کہ وہ کہاں سے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ریاست بہار کے ضلع گایا کے علاقے مست پورہ کے رہائشی ویکاش کمار کے ساتھ پیش آیا جو کہ پلمبر کا کام کرتا ہے اور اس کی آمدنی کافی کم ہے، تاہم جب اسے اپنے اکاؤنٹ میں 294 کروڑ روپے کی موجودگی کا پتہ چلا تو وہ پریشان ہو گیا کہ وہ کیا کرے، اس نے دوسرے بینک کے اے ٹی ایم میں جا کے بھی چیک کیا تو وہی رقم موجود تھی۔
ایک بار اس کو خیال آیا کہ کچھ پیسے نکال لے لیکن ساتھ یہ بھی ذہن میں آیا کہ بالآخر اس کا پتہ چل جائے گا اور وہ کسی مصیبت نہ پھنس جائے اس لیے ویکاش کمار نے اپنے گاؤں مست کے مقامی رہنماؤں کو مطلع کیا اور ان کی وساطت سے پولیس سے رابطہ کیا۔
بودھ گایا پولیس کے ایس ایچ او منوج کمار کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک حساس مالیاتی کیس ہے، بینک ریکارڈ، سروسر لاگ، ٹرانزیکشن آئی ڈیز اور دوسری چیزوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ پتہ چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ رقم بیکنگ ایرر، کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے ٹرانسفر ہوئی یا پھر یہ کسی فراڈ کا معاملہ ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی چھان بین شروع کر دی گئی ہے (فائل فوٹو: گیٹی امیجز)
اسی طرح ویکاش کمار کا موقف ہے کہ انہیں نہیں پتہ کہ یہ رقم کہاں سے آئی اور کس نے بھجوائی ہے اسی لیے رقم کو استعمال کرنے کی کوشش نہیں کی۔
’میں ایک پلمبر ہوں اور میرے اکاؤنٹ میں اتنی بڑی رقم کا موجود ہونا ناممکن ہے، مجھے نہیں پتہ کہ یہ پیسے کہاں سے آئے؟‘
ان کے مطابق انہوں نے وہ 13 سو روپے نکلوا لیے تھے جو ایک کسٹمر نے بھجوائے تھے اور اس کے بعد صرف 113 روپے کا بیلنس بچا تھا اس کے بعد صبح کے وقت بیلنس 94 کروڑ ہو گیا اور تھوڑی دیر بعد پھر چیک کیا تو 294 کروڑ ہو گیا تھا۔
انہوں نے پولیس سے رابطے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پیسے آنے سے لوگ خوش ہوتے ہیں مگر میرے پاس ایسی اور اتنی بڑی رقم آئی ہے کہ مجھے پریشان کر دیا ہے۔