صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ’امن معاہدے‘ کی امید، حتمی فیصلہ نہیں ہوا: ایران
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ امریکہ اور ایران رواں ہفتے کے آخر تک ایک امن معاہدے پر دستخط کر سکتے ہیں جس کے بعد جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا، تاہم ایران نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ اس نے ابھی تک کسی معاہدے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق یہ معاہدہ، اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے، تو تین ماہ سے جاری جنگ کو ختم کرنے کی سمت میں اب تک کی سب سے اہم سفارتی پیش رفت ہوگی، جس میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں تیزی سے اوپر چلی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا نے وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا یہ بیان رپورٹ کیا ہے کہ زیرِ مذاکرات متن کے بڑے حصوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے لیکن ایران اپنی ریڈ لائنز پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا ’ہم اس معاملے پر کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔ یہ ایک بہت اہم مسئلہ ہے جس کا اس وقت متعلقہ فیصلہ ساز اداروں کی جانب سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘
وائٹ ہاؤس اور تہران کے بیانات میں تضاد
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وہائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ’ہم نے ایران کے ساتھ جنگ کا ایک بہترین تصفیہ کر لیا ہے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ’جیسے ہی ہم دستخط کریں گے، آبنائے ہرمز باقاعدہ طور پر کھل جائے گا، اور یہ دستخط جلد، بہت جلد، شاید یورپ میں ہفتے کے آخر تک ہو سکتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس امریکہ کی طرف سے اس معاہدے پر دستخط کر سکتے ہیں۔
جب امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ کیا ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اس معاہدے کی منظوری دے دی ہے تو صدر ٹرمپ کا جواب تھا ’جہاں تک میں سمجھتا ہوں، جواب ’ہاں‘ ہے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اعلان ان کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے مذاکرات میں پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے ایران پر طے شدہ فوجی حملوں کو روک دیا تھا۔
اس خبر کے بعد امریکی سٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی جبکہ تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
وسط مارچ سے صدر ٹرمپ مسلسل یہ دعویٰ کرتے آ رہے ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ معاہدہ قریب ہے۔ تاہم رواں ہفتے فریقین نے ایک دوسرے پر حملے کیے ہیں جس سے اپریل میں ہونے والے جنگ بندی کے اعلان کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا ’یہ مفاہمت کی ایک بہت مضبوط یادداشت ہے جو قدرے تصوراتی (conceptual) ہے۔‘
جوہری ہتھیاروں کا تنازع اور ایران کے مطالبات
ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی امن معاہدے کے لیے یہ لازمی ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار تیار نہ کر سکے۔ دوسری طرف ایران اس بات کی تردید کرتا ہے کہ وہ ایسے ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
امن معاہدے کے بدلے ایران کے مطالبات میں بین الاقوامی پابندیوں کا خاتمہ، اربوں ڈالر کے منجمد اثاثوں کی واپسی اور آبنائے ہرمز پر اس کے کنٹرول کو تسلیم کیا جانا شامل ہے۔
جمعرات کو امریکی صدر نے کہا ’ہمارا ایک معاہدہ ہوا ہے کہ ایران کے پاس کبھی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے اور یہی وہ پورا مقصد تھا جس کے لیے ہمیں اس سب سے گزرنا پڑا۔ لہٰذا یہ ایک بہت بڑی بات تھی۔‘
28 فروری کو جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے شروع کیے تو اس کے بعد سے جاری جنگ میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن کا تعلق زیادہ تر ایران اور لبنان سے ہے۔ اس جنگ نے توانائی کی قیمتوں کو بڑھا کر عالمی معیشت کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔
حالیہ دنوں میں اپریل کے اوائل سے نافذ العمل کمزور جنگ بندی کے باوجود تنازع میں شدت آئی ہے۔ ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرائے جانے کے بعد صدر ٹرمپ نے رواں ہفتے آبنائے ہرمز کے گرد دو دنوں تک نئے حملوں کا حکم دیا۔
اسی دوران، ایران نے خطے میں امریکی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے۔
بحرین کی وزارتِ داخلہ نے جمعرات کو بتایا کہ ایرانی ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کیے جانے کے بعد ان کا ملبہ گرنے سے ایک 11 سالہ بچی معمولی زخمی ہوئی اور گھروں کو نقصان پہنچا۔
اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ آج رات ایران پر ’بہت سخت‘ حملہ کرے گا اور وہ وقت کے ساتھ ایران کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کے مرکز ’خارگ جزیرے‘ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔
یہ جزیرہ ایران کی تیل کی برآمدات کا 90 فیصد حصہ سنبھالتا ہے اور اس پر قبضے سے امریکہ کو ایران کی توانائی کی تجارت کو شدید مفلوج کرنے کی طاقت مل جائے گی، جس سے تہران کی معیشت پر شدید دباؤ آئے گا۔
بعدازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ’طے شدہ‘ حملے منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ اس حقیقت کی بنیاد پر کہ ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت اس کی اعلٰی ترین قیادت تک پہنچ چکی ہے اور اسے منظوری بھی حاصل ہو گئی ہے، میں بطور صدر ریاست ہائے متحدہ امریکہ آج رات ایران کے خلاف طے شدہ حملے اور بمباری منسوخ کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ، پاکستان، بحرین، کویت، اردن، مصر اور دیگر ممالک نے ’مذاکرات اور حتمی نکات‘ کی منظوری دے دی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ایران کی بحری ناکہ بندی مکمل طور پر جاری رہے گی اور اس وقت تک نافذ العمل رہے گی جب تک معاہدہ حتمی شکل اختیار نہیں کر لیتا۔ دستخط کی تقریب کے وقت اور مقام کا اعلان جلد کیا جائے گا۔‘
