ایرانی میڈیا نے سنیچر کو یہ خبر دی ہے کہ ایران کے دو بااثر اور سخت گیر علما نے نئے رہبرِ اعلٰی یا گرینڈ لیڈر کے فوری انتخاب کا مطالبہ کیا ہے تاکہ امریکہ اور اسرائیل کے تازہ فضائی حملوں کی لہر کے دوران ملک کی رہنمائی کی جا سکے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق علما کی جانب سے کیا جانے والا یہ مطالبہ یہ نشان دہی کرتا ہے کہ ایرانی مذہبی قیادت کے کم سے کم کچھ ارکان اس بات پر مطمئن نہیں ہیں کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد آئین کے تحت عارضی طور پر ہی سہی تین رکنی کونسل کو یہ اختیارات حاصل ہوں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کو نئے رہنما کے انتخاب میں کردار ادا کرنا چاہیے، جسے ایران نے مسترد کر دیا ہے۔
سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ ایران کے ایک گرینڈ آیت اللہ نصر مکرم شیرازی، جو مقلدین کا ایک وسیع حلقہ رکھتے ہیں، نے ’ملکی امور کو بہتر طریقے سے منظم کرنے کے لیے‘ فوری طور پر اس تقرر کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
گذشتہ ہفتے دو سینیئر شیعہ مذہبی رہنماؤں نے بھی فتوے جاری کیے اور دنیا بھر کے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لیں۔
مکرم شیرازی نے کہا کہ یہ ’مسلمانوں‘کی ذمہ داری ہے کہ وہ جرائم پیشہ افراد کی اس بُرائی کا دنیا سے خاتمہ کریں۔
سرکاری میڈیا کے مطابق ایک اور گرینڈ آیت اللہ حسین نوری ہمدانی نے بھی مجلسِ خبرگانِ رہبری کے ارکان پر زور دیا ہے کہ ’وہ خامنہ ای کے جانشین کے انتخاب کے عمل کو تیز کریں۔‘
یہ اسمبلی ایک مذہبی باڈی ہے جو نئے رہنما کے انتخاب کی ذمہ دار ہے۔
ایرانی آئین کے مطابق مجلسِ خبرگانِ رہبری کی جانب سے سپریم لیڈر کے انتخاب تک ایرانی صدر، ایک سینیئر عالم دین اور عدلیہ کے سربراہ پر مشتمل تین رکنی کونسل عبوری طور پر اس عہدے کی ذمہ داریاں ادا کرتی ہے۔
آئین میں کہا گیا ہے کہ سپریم لیڈر کو تین ماہ کے اندر منتخب کیا جانا چاہیے، حالانکہ جنگ کے دوران یہ واضح نہیں کہ 88 رکنی اسمبلی کتنی جلدی اپنا اجلاس منعقد کر سکتی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ چند علما نے آن لائن بھی مشاورت کی ہے۔