امریکی جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر گئے: امریکی میڈیا
امریکی بحریہ کے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز بغیر کسی مسئلے کے آبنائے سے گزر گئے۔ (فوٹو: روئٹرز)
امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکہ کے دو جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر گئے ہیں، جو ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد اس نوعیت کی پہلی پیش رفت ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا کہ امریکہ نے اس اہم آبی گزرگاہ کو ’صاف کرنا‘ شروع کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے تین امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ بحریہ کے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز بغیر کسی مسئلے کے آبنائے سے گزر گئے۔
امریکی میڈیا ادارے ایکسیوس کے مطابق یہ کارروائی ایرانی حکام کے ساتھ کوارڈینیشن کے بغیر کی گئی۔
صدر ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر کہا، ’ہم اب آبنائے ہرمز کو صاف کرنے کے عمل کا آغاز کر رہے ہیں‘، اور اسے چین، جاپان اور فرانس جیسے ممالک کے لیے “ایک احسان” قرار دیا، جو ان کے بقول خود یہ کام کرنے کی ہمت یا ارادہ نہیں رکھتے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران اس تنازع میں ’بری طرح ہار رہا ہے!‘ انہوں نے تسلیم کیا کہ اس اہم آبنائے میں ایرانی بارودی سرنگیں اب بھی خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
ٹرمپ نے لکھا، ’ان کے پاس اب صرف یہی ایک چیز باقی ہے کہ کوئی جہاز ان کی سمندری بارودی سرنگوں میں سے کسی ایک سے ٹکرا سکتا ہے۔‘
امریکی حکام نے ان رپورٹس پر تبصرے کے لیے اے ایف پی کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔
ایران کے ساحل کے قریب واقع یہ اہم بحری راستہ تقریباً بند ہو چکا ہے، کیونکہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری شروع کیے جانے کے بعد تہران نے اسے عملا بند کر دیا تھا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق سینیئر ایرانی اور امریکی حکام نے ہفتے کے روز پاکستان میں مذاکرات شروع کر دیے، تاکہ اس تنازع کو ختم کیا جا سکے جس نے مشرقِ وسطیٰ کو تشدد کی لپیٹ میں لے لیا ہے اور عالمی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے۔
اس سے قبل ایک اور بیان میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ خالی آئل ٹینکرز دنیا بھر سے امریکہ کی طرف روانہ ہو رہے ہیں تاکہ تیل خرید سکیں، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
