Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’جنگ میں پیدا ہوئی، جنگ میں ہی ماری گئی،‘ لبنان میں جنگ بندی کے درمیان اسرائیلی حملے

لبنان میں حالیہ جنگ 2 مارچ کو اس وقت شروع ہوئی جب لبنانی عسکریت پسند گروہ حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ حملے کیے (فوٹو: اے ایف پی)
خون آلود پٹیوں میں لپٹی ہوئی سات برس کی علین سعید گزشتہ ہفتے جنوبی لبنان میں اپنے گھر پر ہونے والے اسرائیلی حملے میں بمشکل زندہ بچ سکیں۔
وہ اپنے والد کی تدفین کے لیے وہاں موجود تھیں، جبکہ پورے خطے میں جنگ بندی کی امیدیں زندہ ہو رہی تھیں، لیکن ایک نئے حملے میں ان کی چھوٹی بہن اور دیگر رشتہ دار مارے گئے۔
سعید خاندان کے گھر پر یہ حملہ بدھ کے روز جنوبی لبنان کے گاؤں سریفہ میں ہوا، جو امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا پہلا دن تھا، جسے لبنان میں بہت سے لوگ اپنے ملک پر بھی لاگو ہونے کی امید کر رہے تھے۔ مگر اس کے برعکس اسرائیلی حملوں میں لبنان بھر میں 350 سے زائد افراد مارے گئے اور سعید خاندان کو مزید چار افراد کی تدفین کرنا پڑی۔
علین سعید کے دادا 64 برس کے ناصر سعید، جو خود بھی اس حملے میں زندہ بچ گئے، نے کہا کہ ’انہوں نے کہا تھا کہ جنگ بندی ہے۔ ہم بھی سب کی طرح گاؤں گئے۔ ہم تابوت کے پاس گئے تاکہ دعا پڑھیں اور واپس گھر جائیں کہ اچانک ہمیں ایسا لگا جیسے ہم کسی طوفان کی لپیٹ میں آ گئے ہوں۔‘
اتوار کے روز وہ دیگر رشتہ داروں کے ساتھ جنوبی بندرگاہی شہر صور گئے تاکہ سبز کپڑے میں لپٹی لاشیں وصول کریں۔ ان میں سے ایک چھوٹی سی لاش ان کی پوتی تالین کی تھی، جو علین کی بہن تھیں۔ وہ ابھی دو سال کی بھی نہیں ہوئی تھیں۔
سر پر اور دائیں ہاتھ پر پٹیوں اور چہرے پر خراشوں کے ساتھ ناصر سعید خاموشی سے سوگ منا رہے تھے، جبکہ اردگرد موجود خواتین آسمان کی طرف منہ کر کے آہ و بکا کر رہی تھیں۔
تالین  سعید جو ‘جنگ میں پیدا ہوئی اور جنگ میں ہی مر گئی
لبنان میں تازہ جنگ 2 مارچ کو شروع ہوئی جب لبنانی عسکریت پسند گروہ حزب اللہ نے ایران کی حمایت میں اسرائیلی اہداف پر حملے کیے۔
اس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں اپنی فضائی اور زمینی کارروائیوں میں شدت پیدا کر دی، جن میں اب تک 2,000 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں، جن میں 165 بچے اور تقریباً 250 خواتین شامل ہیں۔
بدھ کا دن لبنان کی حالیہ تاریخ کے سب سے ہلاکت خیز دنوں میں سے ایک تھا۔

لبنان پر اسرائیلی حملوں میں اب تک 2,000 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں، جن میں 165 بچے اور تقریباً 250 خواتین شامل ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

ناصر سعید نے ہسپتال میں روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ انسانیت نہیں ہے۔ یہ جنگی جرم ہے۔‘  ہسپتال میں علین کی والدہ غنویٰ کا علاج جاری تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’انسانی حقوق کہاں ہیں؟ اسرائیل میں اگر ایک بچہ بھی زخمی ہو جائے تو پوری دنیا کھڑی ہو جاتی ہے۔ کیا ہم انسان نہیں ہیں؟ ہم بھی ان جیسے ہی ہیں!‘
اسرائیلی فوج نے اس واقعے کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ وہ سریفہ میں ہونے والے حملے کی رپورٹ کی جانچ کر رہی ہے۔
تالین 2024 میں پیدا ہوئی تھیں، اس وقت حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان شدید جھڑپوں کا ایک نیا دور جاری تھا۔
غنوی کے والد محمد نزال نے کہا کہ ’وہ جنگ میں پیدا ہوئی اور جنگ میں ہی مر گئی۔‘
شدید بمباری جاری ہے
ایران لبنان کے لیے جنگ بندی چاہتا ہے جو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا حصہ ہو، تاہم یہ مذاکرات اتوار کو کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے۔ اسرائیل لبنان کے حکام کے ساتھ ایک الگ مذاکراتی راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔
لبنان پر شدید بمباری جاری ہے، اور ہفتے کے روز تقریباً 100 افراد مارے گئے۔
صور کے جبل عامل ہسپتال کے ایمرجنسی آپریشنز کے سربراہ ڈاکٹر عباس عطیہ نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کی بمباری حالیہ برسوں میں بدترین تھی، اور ان کے ہسپتال میں آنے والے زیادہ تر مریض بچے تھے۔
انہوں نے روئٹرز کو بتایا کہ ’ہمیں اب جس چیلنج کا سامنا ہے وہ زخمیوں کی بڑی تعداد ہے جو 30 منٹ یا ایک گھنٹے کے اندر ایک بڑی تعداد میں آ جاتے ہیں۔‘
دوسری جانب لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ اتوار کی صبح ایک اسرائیلی حملے میں ساحلی شہر صور کے قریب واقع گاؤں معروب میں چھ افراد مارے گئے۔
اگرچہ حالیہ دنوں میں اسرائیل کے بیروت پر حملے کم ہوئے ہیں، لیکن جنوبی لبنان پر حملے تیز ہو گئے ہیں، ساتھ ہی زمینی کارروائیاں بھی جاری ہیں، جو اس وقت دوبارہ شروع کی گئیں جب حزب اللہ نے ایران جنگ کے ابتدائی دنوں میں اسرائیل پر راکٹ فائر کیے تھے۔

شیئر: