Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی ناکہ بندی کا اعلان، آئل ٹینکرز کا آبنائے ہرمز سے گزرنے سے گریز

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران مذاکرات میں واپس آئے یا نہ ائے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد تیل بردار جہاز سمندر کے اس حصے سے نکل رہے ہیں جس کی ناکہ بندی آج سے شروع ہو رہی ہے۔
اسی طرح ایک تازہ بیان میں امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران مذاکرات میں واپس آئے یا نہ آئے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ میں سمندر میں سفر کرنے والے جہازوں کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا گیا ہے۔
امریکی صدر نے اتوار کو کہا تھا کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرے گی جس کے بعد صورت حال کی خرابی کے خدشات پید ہوئے ہیں کیونکہ اس سے قبل پاکستان میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے تھے اور دو ہفتے کی نازک جنگ بندی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
 امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ آج سے ناکہ بندی کا کام شروع کر دیا جائے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایل ایس ای جی کے  ریکارڈ کے مطابق اتوار کو پاکستان کے جھنڈا بردار دو جہاز خلیج میں داخل ہوئے جن میں سے ایک متحدہ عرب امارات اور ایک کویت جا رہا تھا۔
رپورٹ کے مطابق لائیبیریا کا ایک بڑا جہاز بھی اتوار کو آبنائے ہرمز سے گزرا جبکہ مالٹا کے جہاز نے بھی وہاں سے گزرنے کی کوشش کی جو عراق سے ویت نام کے لیے تیل لینے جا رہا تھا تاہم وہ واپس مڑ گیا اور خلیج عمان میں لنگرانداز ہوا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سمندر کے اس حصے میں موجود جہاز وہاں سے نکل رہے ہیں کیونکہ امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے دی گئی دھمکی کا وقت قریب آ رہا ہے۔

’ایران مذاکرات میں واپس آئے نہ آئے، کوئی فرق نہیں پڑتا‘

علاوہ ازیں فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا سے واپسی پر میری لینڈ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا چاہے ایران مذاکرات میں واپس آئے یا نہ آئے۔
ان کے مطابق ’مجھے پرواز نہیں کہ وہ واپس آئیں یا نہ آئیں، اگر وہ نہیں بھی آتے تو بھی ٹھیک ہے۔‘
خیال فروری کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملے کے ساتھ چھڑنے اور خطے بھر میں پھیل جانے والی جنگ کو رکوانے کے لیے پاکستان متحرک ہوا تھا اور دو ہفتے کی جنگ بندی کرانے میں کامیاب رہا تھا جبکہ اس کے بعد اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے سہولت کاری بھی کی تاہم وہ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے تھے۔

شیئر: