پچھلے چند دنوں میں یہ کہانی واٹس ایپ اور فیس بک پر نظر آئی۔ دل کو چھونے والی تحریر ہے، آنکھیں نم اور دل بھاری ہوجاتا ہے۔ اس کہانی پر بات کرتے ہیں، مگر پہلے اسے پڑھ لیں۔
کہانی کچھ یوں ہے: کہتے ہیں پانچ سو سال قبل مسیح میں چین کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں لی وی نام ایک شخص رہتا تھا۔ جیسا کہ کسان ہوتے ہیں، وہ بھی سادہ اور محنتی مزاج تھا۔ خود تھوڑا بہت پڑھا لکھا تھا، مگر اسے شوق تھا کہ اولاد اعلیٰ تعلیم حاصل کرے۔ اس کا ایک بیٹا اور تین بچیاں تھیں۔
لی تمام زندگی اپنی اولاد کے لئے ہی جیا۔ صبح سویرے اٹھنا، دن رات محنت کرنا، خود پر کچھ خرچ نہ کرتا۔ ذہن میں ہوتا کہ بچے پڑھیں، ترقی کریں، کامیاب ہوں۔
مزید پڑھیں
-
کیا ہم اپنے حصے کا کام کر رہے ہیں؟ عامر خاکوانی کا کالمNode ID: 901577
-
سیاست اور اقتدار کی ان کہی کہانیاں: عامر خاکوانی کا کالمNode ID: 902358
اس نے اپنی بچیوں کو بھی کچھ نہ کچھ تعلیم دلوائی ،اس کی بیوی فوت ہوگئی مگر اس نے دوسری شادی نہ کی اور اپنی زندگی بیٹے کے لئے وقف کر دی۔ اسے گاؤں سے دور ایک اچھے سکول بھیجا، پھر بڑے شہر میں مزید تعلیم کے لئے بھیجا۔ بیٹا بھی لائق اور محنتی تھا، خوب پڑھا، اپنے زمانے کے مختلف علوم سیکھے اور پھر بڑے شہر میں بس گیا، بہت اچھی ملازمت، خوشحالی۔
لی کی بیٹیاں بھی اچھے گھروں میں بیاہی گئیں، مختلف دیہات میں وہ رخصت ہو کر چلی گئیں۔ لی گاؤں کے پرانے گھر ہی میں مقیم رہا۔ پھر ایک دن بوڑھے لی وی نے سوچا اب میرا وقت ہے۔ اسے لگا کہ اب آخری برسوں میں پوتے پوتیوں کے ساتھ وقت گزارا جائے۔ اس نے اپنا پرانا گھر بیچا اور شہر میں بیٹے کے گھر آ گسا۔
سادہ مزاج لی کے ذہن میں ایک خوبصورت تصویر تھی۔ پوتے پوتیاں گود میں، بہو کا احترام، بیٹے کی قربت، شام کو سب مل کر دسترخوان پر بیٹھنا۔
مگر وہ تصویر کبھی حقیقت نہ بنی۔ بچے سکول چلے جاتے ، واپس آ کر کھیل کود میں لگ جاتے۔ بہو شہری کلچر کی پروردہ، ماڈرن حسین خاتون تھی۔ بوڑھے سسر کا دیہاتی مزاج اور سادہ عادتیں اسے کھٹکتیں، وہ بات چیت سے بھی گریز کرتی۔
بیٹا صبح کا نکلا، شام کو تھکا ہارا واپس لوٹتا۔ باقی وقت اپنی حسین بیوی کی صحبت میں گزارنا پسند کرتا یا وہ شام کو باہر نکل جاتے، شہر کی مختلف فنون لطیفہ کی سرگرمیاں دیکھنے، دیگر دوستوں سے میل ملاقات۔ لی وی اپنے پرانے ، نئے قصے سنانا چاہتا تو اہل خانہ دلچسپی نہ لیتے ،قدرے ناگواری سے برداشت کر جاتے۔
لی کا گھر کے معاملات میں دیا گیا ہر مشورہ ’پرانی سوچ‘ کہلاتا۔ چند ماہ میں لی کو اندازہ ہوگیا کہ بیٹے کے گھر میں اس کی موجودگی ایک معمول ہے، نہ خوشی، نہ تکلیف، بس ایک اور گھر کا سامان۔
آخر وہ اسی شہر میں مقیم ایک بڑے فلسفی کے پاس گیا۔ کہانی میں کنفیوشس کا نام دیا گیا کہ لی وی کنفیوشس کی درسگاہ گیا جہاں بوڑھا چینی فلسفی اپنے شاگردوں کو اخلاقیات اور فلسفے کی تعلیم دیتا تھا۔ اس نے فلسفی کو اپنا پورا قصہ سنایا کہ میں نے ساری زندگی بچوں کے لیے وقف کر دی، اب ان کے ساتھ رہ رہا ہوں تو خود کو اجنبی محسوس کرتا ہوں، آخر کیوں؟

حکایت کے مطابق کنفیوشس نے براہ راست جواب نہیں دیا۔ جیسا کہ پرانے بابوں کا طریقہ تھا وہ کسی مثال سے بات سمجھایا کرتے۔ چینی فلسفی نے اپنے پاس رکھے ایک لبالب بھرے برتن کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا کہ ’اگر اس میں مزید پانی ڈالوں تو کیا ہوگا؟‘
لی وی نے کہا ’چھلک جائے گا۔‘
اس پر کنفیوشس نے کہا، ’یاد رکھو رشتے بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔ تمہارے بچوں کی زندگی پہلے سے بھری ہوئی ہے۔ ان کا کام، ان کے بچے، ان کی فکریں۔ تم اس میں مزید خود کو ڈالنا چاہتے ہو۔ نتیجہ وہی ہوگا جو اس برتن کا ہوتا۔‘
پھر کنفیوشس نے قریب ہی لگے ہوئے دو درختوں کی طرف اشارہ کیا جن کی شاخیں ایک دوسرے میں الجھی ہوئی تھیں۔ اس نے کہا کہ ’غور سے دیکھو بہت قریب اگنے والے درخت نہ خوبصورت ہوتے ہیں نہ مضبوط۔ بڑھنے کے لیے جگہ چاہیے، رشتوں کو بھی، درختوں کو بھی۔‘
چینی فلسفی نے پھر بوڑھے لی وی کو سمجھانے کے لئے ایک تیسری مثال دی۔ اس نے جھک کر ریتلی زمین سے ایک مٹھی ریت اٹھائی اور زور سے مٹھی بھینچ لی۔ ریت انگلیوں سے پھسلتی رہی۔ کنفیوشس نے اپنی مٹھی اسے سکھائی اور بولا، ’دیکھو محبت کو جتنا زور سے پکڑو، اتنی تیزی سے جاتی ہے۔ ڈھیلا ہاتھ رکھو تو ٹھہرتی ہے۔‘
آخر میں ایک سوال کیا ’جب تم درخت لگاتے ہو تو کیا یہ سوچ کر لگاتے ہو کہ یہ بڑھاپے میں تمہیں سایہ دے گا؟‘ لی وی نے کہا ’نہیں ، میں اسے اس لیے لگاتا ہوں کہ وہ بڑھے۔‘

کنفیوشس مسکرایا اور بولا ’تو اپنی اولاد سے مختلف توقع کیوں رکھتے ہو؟‘
لی وی کی سمجھ میں پوری بات آگئی۔ اس نے اگلے ہی روز اپنے سامان کی گٹھری باندھی اور اپنے گاؤں کا رخ کیا۔ اس نے گاؤں کے سکول کے پاس ایک چھوٹا سا کمرہ کرایے پر لیا اور سکول کے بچوں کو پڑھانے لگا۔ تعلیم دینے کا شوق تھا، بچوں سے محبت تھی، جلد ہی وہ ماسٹر لی کے نام سے مشہور ہوگیا۔ دور دور سے والدین اپنے بچوں کو اس کے پاس پڑھانے بھیجنے لگے۔
چند ماہ گزر گئے، ایک روز اسے اپنے بیٹے کا خط آیا۔ بڑی محبت سے اس نے والد سے درخواست کی کہ آپ ہمیں ملنے شہر آئیں، بچے اور ہم سب آپ کو بہت یاد کرتے ہیں۔ لی نے خط پڑھا اور پھر وہ چند دنوں کے لئے شہر اپنے بیٹے سے ملنے گیا۔ اس نے جاتے ہی واضح کر دیا کہ وہ صرف ایک ہفتے کے لئے یہاں آیا ہے، اسے واپس جانا ہے، شاگرد انتظار کر رہے ہیں۔ لی کو محسوس ہوا کہ وہ اس بار مہمان ہے، بوجھ نہیں۔ کچھ فاصلہ کر لینے سے اس کی قدر بڑھ گئی ہے۔
یہاں پر کہانی ختم ہوگئی۔ میں نے اس کی تھوڑی سی طوالت کم کی ہے اور ہاں جذباتی مکالمے بھی کاٹ دیے ہیں۔ ہم نے کون سا اس پر ’باغبان ٹو‘ فلم بنانا تھی ۔ مجھے کہانی پہلی بار پڑھ کر اچھی لگی، مگر پھر ذہن میں کھٹکا سا لگا۔ کنفیوشس کا نام پڑھ کر اندر سے آواز آئی، ذرا تحقیق تو کرو۔ چند گھنٹے انٹرنیٹ پر سرچ فرمائی تو معلوم ہوا کہ اس کا مصنف بہرحال کنفیوشس تو نہیں۔ کنفیوشس کی اصل تعلیمات دو بڑی کتابوں میں محفوظ ہیں۔
ایک ’لن یو‘ ان کے اقوال کا مجموعہ اور دوسری ’لی جی‘ یعنی آداب و رسوم کی کتاب۔ ان دونوں میں نہ ’لی وی‘ کا کوئی کردار ہے، نہ یہ تین سبق، نہ یہ واقعہ۔
اور اس سے بھی زیادہ دلچسپ اور اہم بات یہ سامنے آئی کہ کنفیوشس کا پورا فلسفہ تو اس کہانی کے بالکل الٹ ہے۔ کنفیوشس کے ہاں ’فرزندی وفاداری‘ محض اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ سماجی نظم کی بنیاد ہے۔ یعنی اولاد کا فرض ہے کہ بوڑھے والدین کے ساتھ رہے، ان کا خیال رکھے۔

کنفیوشس کے فلسفے میں اولاد کا والدین سے دور ہونا نہیں، بلکہ ان کے ساتھ رہ کر خدمت کرنا آئیڈیل سمجھا جاتا ہے۔
ثابت ہوا کہ یہ کہانی کسی گمنام لکھاری نے لکھی تھی۔ شاید کسی اور زبان سے انگریزی میں اور پھر اردو میں ترجمہ ہوئی ۔ اسے وقعت دینے،اہم بنانے کے لئے کسی نے کنفیوشس کا نام ساتھ جڑ دیا۔ ہمارے یہاں یہ حربہ خوب چلتا ہے۔ اقبال، رومی، کنفیوشس، جس کا نام چسپاں کر دو، بات میں وزن آ جاتا ہے۔ لوگ آنکھیں بند کر کے آگے شیئر کر دیتے ہیں۔
بات مگر یہ ہے کہ کہانی خواہ فکشن ہی ہو، مصنف اس کا نامعلوم ہے، مگر اس میں بیان کیا گیا دکھ سچا ہے، اگرچہ ادھورا اور نامکمل۔ جس نے بھی یہ کہانی لکھی، اس نے سچ کہا، مگر پورا نہیں کہا۔
یہ کہانی اس لیے نہیں پھیلی کہ کنفیوشس کا نام اٹیچ تھا۔ یہ اس لیے پھیلی کیونکہ ہر گھر میں کوئی نہ کوئی لی وی ہے۔ کوئی بوڑھا باپ جو اولاد کے گھر آ کر خود کو اجنبی محسوس کر رہا ہے، کوئی ماں جس کی باتیں ’معمول‘ بن گئی ہیں، کوئی بزرگ جس کی آنکھوں میں وہی خواب ہے جو لی وی کا تھا۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس درد کی ایک وجہ یہ ہے کہ والدین اکثر اپنی قربانیوں کو سرمایہ کاری سمجھ لیتے ہیں۔ بچوں کو پڑھایا، کھلایا، شادیاں کیں، اب بدلے میں توجہ اور وقت چاہیے۔ یہ توقع فطری ہے، مگر جب یہ توقع حد سے بڑھ جائے تو کچھ مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔
یہ کہانی دل کو چھوتی ضرور ہے، مگر مکمل سچ نہیں دیتی۔ یہ ایک ایسا آدھا سچ ہے جو آہستہ آہستہ ہماری اقدار کو بدل سکتا ہے۔ اس کہانی میں ایک پیغام اچھا ہے اور ایک خطرناک۔
اچھا پیغام یہ ہے کہ بزرگوں کی اپنی دنیا ہونی چاہیے۔ کوئی شوق، کوئی کام، کوئی مقصد جو صرف ان کا اپنا ہو۔ جو بزرگ صرف اولاد کے گرد گھومتے ہیں، ان کی ساری توقع اولاد پر لگی ہوتی ہے اور اولاد آہستہ آہستہ اس بوجھ تلے دبنے لگتی ہے۔
اپنے بزرگوں کو ’ماسٹر لی‘ بننے کا موقع دینا ہماری ذمہ داری ہے ،اس لیے نہیں کہ ہم ان سے پیچھا چھڑائیں، بلکہ اس لیے کہ ان کی اپنی خوشی بھی تو کوئی چیز ہے۔

خطرناک پیغام یہ ہے جو اس کہانی کے پیچھے چھپا ہے کہ والدین سے فاصلہ رکھو، ذمہ داری اختیاری ہے، بزرگ ’اولڈ ہوم‘ میں خوش رہتے ہیں۔ یہ مغرب کا راستہ ہے، ہمارا نہیں۔ ہمارے دین میں والدین کا حق محض ایک اخلاقی مشورہ نہیں، واضح حکم ہے۔
قرآن مجید میں اللہ کی عبادت کے فوری بعد والدین کا ذکر ہے اور ’اُف‘ تک کہنے سے منع کیا گیا ہے۔ ماں کے پاؤں تلے جنت ہے، باپ کا چہرہ پیار سے تکنا بھی نیکی کہی گئی۔ یہ کنفیوشس نے نہیں، اللہ کے آخری نبیﷺ نے فرمایا ہے۔
میں ذاتی طور پر تو اس لحاظ سے بدنصیب رہا کہ والد سب سے چھوٹے بھائی تھے، اس لیے ان کے بڑے بھائیوں میں سے زیادہ تر ہم دیکھ ہی نہیں پائے۔ اکیس سال کی عمر میں والد رخصت ہوگئے۔ اتفاق ہے کہ سرائیکی کے بڑے دانشور، مصنف، ایکٹوسٹ افضل مسعود ایڈووکیٹ سسر بنے، بڑے غیر معمولی آدمی تھے، مگر بدقسمتی سے وہ بھی شادی کے ڈیڈھ دو سال بعد ہی چلے گئے۔
ہمیں بزرگوں کی کمی بہت محسوس ہوتی رہی۔ والدہ کا پیار اور توجہ البتہ دیر تک حاصل رہی، الحمدللہ۔ وہ کورونا سے پہلے ہی چلی گئیں۔ میری دوسری کتاب زنگار نامہ کا انتساب ماں کے نام ہی ہے۔
تو یارو جس خوش نصیب کو والدین کا ساتھ اور ان کا سایہ میسر ہے، وہ اس کی قدر اس وقت کریں جب یہ موجود ہیں۔ بعد میں تو صرف یادیں رہ جاتی ہیں۔ حزن وملال میں گندھی یادیں جو کبھی والدین کے جانے کے خلا کو نہیں بھر سکتیں۔

نوجوانوں سے میرا سوال ہے کہ آپ کے والدین کی اپنی کوئی دنیا ہے؟ کوئی شوق، کوئی دوست، کوئی کام جو صرف ان کا اپنا ہو؟ جو بزرگ صرف اولاد کے گرد گھومتے ہیں، ان کی ساری توقع اولاد پر لگی ہوتی ہے۔
یوں اولاد آہستہ آہستہ اس بوجھ تلے دبنے لگتی ہے۔ اپنے بزرگوں کو کارآمد اور ایک لحاظ سے سوسائٹی میں مثبت کنٹری بیوشن کرنے والا ’ماسٹر لی‘ بننے کا موقع دینا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ اس لیے نہیں کہ ہم ان سے پیچھا چھڑائیں، بلکہ اس لیے کہ ان کی اپنی خوشی بھی تو کوئی چیز ہے۔
توازن دونوں طرف سے چاہیے۔ والدین بھی سیکھیں کہ محبت ڈھیلے ہاتھ سے تھامتے ہیں، مگر اتنے ڈھیلے بھی نہیں کہ ہاتھ ہی چھوٹ جائے۔ اولاد بھی یاد رکھے کہ خدمت اور احترام میں کوتاہی کا حساب ہوگا۔
اصل توازن یہ ہے کہ محبت میں قربت بھی ضروری ہے اور سانس لینے کی جگہ بھی۔ احترام بھی ضروری ہے اور خودمختاری بھی۔ اس کہانی میں اخلاقی سبق کنفیوشس نے نہیں دیا تھا، مگر جس نے بھی کہا، خوب کہا۔ البتہ ہے وہ آدھا سچ اور آدھا سچ اکثر پورے جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ بقیہ آدھا سچ ہمیں خود ہی تلاش کرنا اور کہانی میں جوڑنا ہوگا۔












