’لڑو گے تو لڑیں گے‘، آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی پر تہران کا امریکہ کو انتباہ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کر رکھا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی‘ پر سخت ردعمل میں کہا ہے کہ ’اچھائی اچھائی کو جنم دیتی ہے اور دشمنی دشمنی کو۔‘
یہ بیان بازی دونوں ممالک کے درمیان اسلام آباد میں طویل مگر بے نتیجہ مذاکرات کے بعد سامنے آ رہی ہے، جس سے نازک جنگ بندی کے برقرار رہنے اور تنازع بڑھنے کے خطرات ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران نے نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کیے مگر ’اسلام آباد ایم او یو‘ پر مہر لگن ایک انچ کے فاصلے پر ’حد سے زیاد مطالبات، تبدیل ہوتے موقف اور ناکہ بندی‘ جیسی چیزوں کا سامنا کرنا پڑا اور اس موقع کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسلام آباد میں ہونے والے طویل مذاکرات کی ناکادمی کے بعد امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں پر آنے اور جانے والی ٹریفک کو روکنا شروع کر دے گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی پیر کی صبح 10 بجے سے نافذ ہو گی اور خلیج عمان اور خلیج عرب کے راستے ایرانی بندرگاہوں کی طرف آنے اور جانے والے تمام ممالک کے جہازوں پر لاگو ہو گی۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے راستے گزرنے والے غیر ایرانی جہازوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ واشنگٹن ایران کو ’غیر قانونی ٹول‘ کے طور پر ادائیگی کرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنائے گا اور سٹریٹیجک آبی گزرگاہ میں مبینہ طور پر ایرانی فورسز کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنا شروع کر دے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’غیر قانونی ٹول ادا کرنے والوں کو محفوظ راستہ نہیں ملے گا۔‘
انہوں نے خبردار کیا کہ ’امریکہ یا تجارتی جہازوں پر کسی بھی ایرانی حملے کا پوری طاقت کے ساتھ مقابلہ کیا جائے گا۔‘
خیال رہے اتوار کی صبح اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئے تھے جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکراتی وفد کے ساتھ واپس امریکہ روانہ ہوگئے تھے۔
اتوار کی صبح اسلام آباد کے ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے ’ایک اچھی اور ایک بری خبر‘ کا تذکرہ کیا۔
ان کے مطابق ’ہم نے ایرانیوں کے ساتھ کافی ٹھوس بات چیت کی ہے، یہ اچھی ہے اور بری خبر یہ ہے کہ ہم کسی معاہدے تک نہیں پہنچے۔‘
28 فروری کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملے کے ساتھ چھڑنے اور خطے بھر میں پھیل جانے والی جنگ کو رکوانے کے لیے پاکستان متحرک ہوا تھا اور دو ہفتے کی جنگ بندی کرانے میں کامیاب رہا تھا جبکہ اس کے بعد اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے سہولت کاری بھی کی۔