’لڑو گے تو لڑیں گے‘، آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی پر تہران کا امریکہ کو انتباہ
’لڑو گے تو لڑیں گے‘، آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی پر تہران کا امریکہ کو انتباہ
پیر 13 اپریل 2026 5:36
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کر رکھا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی‘ کے منصوبے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اچھائی اچھائی کو جنم دیتی ہے اور دشمنی دشمنی کو۔‘
یہ بیان بازی دونوں ممالک کے درمیان اسلام آباد میں طویل مگر بے نتیجہ مذاکرات کے بعد سامنے آ رہی ہے، جس سے نازک جنگ بندی کے برقرار رہنے اور تنازع بڑھنے کے خطرات ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’47 برسوں میں اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والے اہم مذاکرات میں، ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ نیک نیتی سے بات چیت کی لیکن جب ہم ’اسلام آباد ایم او یو‘ سے محض چند انچ کے فاصلے پر تھے تو ہمیں انتہا پسندی، بدلتے ہوئے اہداف اور ناکہ بندی کا سامنا کرنا پڑا۔‘
ان کے مطابق ’کوئی سبق نہیں سیکھا گیا، خیر سگالی سے خیر سگالی جنم لیتی ہے، دشمنی سے دشمنی پیدا ہوتی ہے۔‘
ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسلام آباد میں ہونے والے طویل مذاکرات کی ناکادمی کے بعد امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں پر آنے اور جانے والی ٹریفک کو روکنا شروع کر دے گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی پیر کی صبح 10 بجے سے نافذ ہو گی اور خلیج عمان اور خلیج عرب کے راستے ایرانی بندرگاہوں کی طرف آنے اور جانے والے تمام ممالک کے جہازوں پر لاگو ہو گی۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے راستے گزرنے والے غیر ایرانی جہازوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ واشنگٹن ایران کو ’غیر قانونی ٹول‘ کے طور پر ادائیگی کرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنائے گا اور سٹریٹیجک آبی گزرگاہ میں مبینہ طور پر ایرانی فورسز کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنا شروع کر دے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق نیک نیتی سے مذاکرات کیے مگر امریکہ سنجیدہ دکھائی نہیں دیا (فوٹو: اے ایف پی)
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’غیر قانونی ٹول ادا کرنے والوں کو محفوظ راستہ نہیں ملے گا۔‘
انہوں نے خبردار کیا کہ ’امریکہ یا تجارتی جہازوں پر کسی بھی ایرانی حملے کا پوری طاقت کے ساتھ مقابلہ کیا جائے گا۔‘
دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی دھمکیوں سے ایران کی پوزیشن پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
ان کے مطابق ’اگر تم لڑو گے تو ہم بھی لڑیں گے، اگر تم کسی منطق کے ساتھ سامنے آتے ہو تو ہم اس کا جواب بھی منطقی انداز میں دیں گے۔‘
خیال رہے اتوار کی صبح اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئے تھے جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکراتی وفد کے ساتھ واپس امریکہ روانہ ہوگئے تھے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے آج سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
اتوار کی صبح اسلام آباد کے ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے ’ایک اچھی اور ایک بری خبر‘ کا تذکرہ کیا۔
ان کے مطابق ’ہم نے ایرانیوں کے ساتھ کافی ٹھوس بات چیت کی ہے، یہ اچھی ہے اور بری خبر یہ ہے کہ ہم کسی معاہدے تک نہیں پہنچے۔‘
28 فروری کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملے کے ساتھ چھڑنے اور خطے بھر میں پھیل جانے والی جنگ کو رکوانے کے لیے پاکستان متحرک ہوا تھا اور دو ہفتے کی جنگ بندی کرانے میں کامیاب رہا تھا جبکہ اس کے بعد اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے سہولت کاری بھی کی۔