لاہور میں 25 سال بعد بسنت: ’اب یادوں کی پٹاری کھل چکی تھی‘
بدھ 11 فروری 2026 20:21
شیراز حسن -اردو نیوز، اسلام آباد
لاہور میں جمعرات کی شب تھی اور گھڑی کی سوئیاں بارہ کے عدد کو چھو کر یوں آگے سرک رہی تھیں جیسے کسی پرانے قصے کا اگلا ورق پلٹا جا رہا ہو۔
میں گوالمنڈی کی ایک چھ منزلہ عمارت کی غلام گردش سے گزرتا ہوا ان تنگ و نیم تاریک سیڑھیوں پر قدم رکھ رہا تھا جن پر شاید گرد کی ایک تہہ نہیں بہت سی یادیں جمی ہوئی تھیں۔ میں انہیں جھاڑتا، سمیٹتا، سونگھتا ہوا اوپر بڑھ رہا تھا۔ دیواروں سے جھڑتی پلستر، مدھم بلب کی زرد روشنی اور باہر گلی سے اٹھتی آوازوں کا شور۔
پچیس برس بعد لاہور کو بسنت منانے کی اجازت ملی تھی۔ پچیس برس! ایک بچہ جوان ہوا، ایک نسل نے آنکھ کھولی اور جوانی کی دہلیز پار کر لی۔ میں دوستوں کے ہمراہ اس قدیم اور گنجان محلے کی چھت کی طرف جا رہا تھا، مگر سچ یہ ہے کہ میرا جسم حال میں اور روح ماضی میں تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے میں سیڑھیاں نہیں چڑھ رہا، وقت کی الٹی گنتی گن رہا ہوں۔
چھت پر قدم رکھا تو فضا میں ایک میلہ سا برپا تھا۔ فریحہ پرویز کا ’دل ہوا بو کاٹا‘ اور ابرار الحق کی بھنگڑا دھنیں ساؤنڈ سسٹم سے اچھل اچھل کر فضا میں بکھر رہی تھیں۔یہ گیت بھی 25سال پرانے تھے۔ روشنی کا مناسب انتظام تھا، مہمانوں کے لیے کرسیاں سجی تھی، جس کا دل چاہے جہاں بیٹھ جائے لیکن کسی کو بیٹھے کی فرصت کہاں، بچے، نوجوان، بزرگ سب جمع تھے۔ سب کی نظریں آسمان کی طرف تھیں، ہونٹوں پر مسکراہٹ اور ماحول میں ایک بناؤٹی سی سرشاری تھی۔ سب کچھ موجود تھا، روشنی، شور، موسیقی مگر دل نے دھیرے سے کہا ’بسنت صرف سٹیج سجا دینے کا نام نہیں۔‘
پتنگیں ایسے اڑ رہی تھیں جیسے کسی کتاب سے نقل کر کے اڑائی جا رہی ہوں۔ تلاویں اور کنیاں ایسے ڈالی جا رہی تھیں جیسے کوئی اجنبی رسم ادا کی جا رہی ہو۔ ڈور لپیٹنے میں وہ رعونت اور وہ مہارت کہاں؟ گڈا کٹنے کے بعد ڈور کھینچنے میں وہ دیوانگی اور وہ بے ساختہ ’بو کاٹا!‘ کی چیخیں کہاں؟ منظر مکمل تھا پھر بھی ادھورا۔
میں پچیس سال پیچھے چلا گیا۔
جب چھتیں میدان جنگ کا منظر پیش کرتی تھیں اور جیسے جنگوں کے کچھ اصول ہوتے ہیں ایسے ہی پتنگ بازی کے اصولوں کا خاص خیال رکھا جاتا تھا، پھر انگلیوں پر ڈور کے چیرےاگلے روز فخر سے دکھائے جاتے تھے۔
’یہ کیا کر رہے ہو؟‘
مجھ سے رہا نہ گیا۔ ایک نوجوان گڈے کے ساتھ کچھ الجھا ہوا تھا۔ معلوم ہوا تناویں ڈال رہا ہے۔ ’ایدر لیا‘، میں نے ہنس کر اس کے ہاتھ سے گڈا لیا۔ ڈور کو انگلیوں سے سیدھا کیا، ناپا، تناویں یوں ڈالی جیسے یہی کام تو میں کرتا رہا تھا۔ یاد آیا ہم اس کام میں ایسے ماہر تھے کہ ادھر گڈا کٹا نہیں، ادھر نیا گڈا فضا میں! ہاتھ خود بخود چلتے تھے، دماغ سوچتا بھی نہ تھا۔
کسی کے ہاتھوں میں دستانے دیکھے تو بے اختیار اپنی انگلیوں پر نظر گئی۔ پچیس سال پہلے کے چیروں کے مدھم نشان اب بھی موجود تھے۔ یاد آیا بسنت کے بعد تین چار دن تک گرم روٹی توڑنا کتنا تکلیف دہ ہوتا تھا۔ ڈور کی رگڑ سے انگلیوں کی جلد اتر جاتی چاہے کتنی ہی پٹیاں باندھ لو۔ وہ جلن بھی کیسی میٹھی ہوا کرتی تھی۔ میں انگلیاں مسلنے لگا!
سوشل میڈیا پر لاہور کی بسنت کا شور برپا تھا۔ روشنیاں، رنگ، پتنگیں، بھنگڑے، موسیقی۔ سب کچھ وائرل۔ مگر اس کھیل کے وہ انلکھےاور اندکھے اصول اور ضابطے کہاں تھے؟ پتنگ بازی صرف ڈور کا کھیل نہیں تھا، یہ ایک مکمل گائیڈ بک تھی۔ کیا کرنا ہے، کیا نہیں کرنا، یہ سب چھتوں پر سیکھا جاتا تھا، اس کے لیے کوئی درسگاہ نہیں۔ اس نسل کو ابھی وقت لگے گا۔ اس سال مشق ہو گئی، اگلے برس کا انتظار رہے گا۔
گوالمنڈی میں بسنت کی ابتدا دیکھی، پھر اندرون شہر، رنگ محل اور لوہاری دروازے کی چھتوں پر اس کا اصل رنگ دیکھا۔ صرف پتنگ بازی ہی نہیں، ساتھ ساتھ جڑی ہوئی چھوٹی بڑی ہر چھت پر ایک میلے کا سماں تھا۔ خواتین، بچے، بوڑھے سبھی خوش تھے۔ کھانے بن رہے تھے، گڈے لوٹے جا رہے تھے! ایسا ہی ہوتا تھا، بہت کچھ بدل گیا لیکن لاہوری جشن منانا نہیں بھولے!
ایک موقع پر دوست سے کہا ’گڈا تھوڑااتار لو، بہت تَس گیا ہے۔‘
یہ لفظ زبان پر آیا تو میں خود ٹھٹک گیا۔ کتنے برس بعد ’تَس‘ یوں بے ساختہ جملے میں ڈھلا تھا۔ ڈور پر ’کڑکی‘ لگی تو ذہن نے پھر ماضی کی گلی میں جھانکا۔ پابندی نے صرف پتنگیں نہیں گرائیں، پتنگ بازوں کی زبان بھی ماند کر دی تھی۔ وہ الفاظ، وہ جملے، پیچا، ڈھیل، کھینچ، سُدھ، گنجل، کچپ، چھنڈے، کمیرو، چمیڑو ، چیپی، کنی اور جانے کیا کیا۔
پیچا لڑایا تو پیچھے کھڑے دوست کی آواز کان میں پڑی ’ڈھیل دیتے ہوئے اوپر اٹھانا!‘
گڈا مکمل ہوا کھینچ رہا تھا، بھاری ہو رہا تھا۔ ڈھیل دیتے ہوئے ہی اس کا اوپر اٹھانا بنتا تھا۔
مجھے حیرت ہوئی کہ میں بھولا نہیں تھا۔ انگلیوں کو سب یاد تھا۔ ذہن کو سب یاد تھا۔ میں کچھ بھی نہیں بھولا تھا، بس یادوں کی پٹاری باندھ کر الماری کے اوپر رکھ دی تھی۔
اب وہ پٹاری کھل چکی تھی۔
