کامیاب سرجری کے ایک ہفتے بعد باہم جڑی فلپینی بچیوں کی حالت مستحکم
جمعرات 30 اپریل 2026 18:47
میڈیکل اور سرجیکل ٹیم کے مطابق سرجری کے نتائج مثبت رہے ہیں۔(فوٹو: ایس پی اے)
شاہ سلمان مرکز کے سپروائزر اور سعودی کونجوئنڈ ٹوئنز پروگرام کی میڈیکل ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے کہا ہے کہ’ کامیاب سرجری کے ایک ہفتے بعد باہم جڑی ہوئی فلپینی بچیوں کی حالت مستحکم ہے۔‘
سعودی کونجوئنڈ ٹوئنز پروگرام کی سپیشلائزڈ میڈیکل اور سرجیکل ٹیم نے گزشتہ جمعرات کو باہم جڑی فلپائنی بچیوں ’کلیا اور موریس این‘ کو انتہائی پیچیدہ سرجری میں علیحدہ کرکے نیا طبی سنگ میل عبور کیا تھا۔
ریاض کے کنگ عبداللہ سپیشلائزڈ چلڈرن ہسپتال میں کیے جانے والے کامیاب آپریشن کو دنیا کی اپنی نوعیت کی پیچیدہ سرجریوں میں سے ایک سمجھا جا رہا تھا۔
ایس پی اے کے مطابق ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے بتایا ’ایک بچی ’موریس‘ اب معمول کے مطابق سانس لے رہی ہے۔ وینٹی لیٹر ہٹا دیا گیا ہے، اسے ایک ٹیوب کے ذریعے غذا دی جا رہی ہے اور وہ اپنے والدین سے تھوڑی بہت بات بھی کرنے لگی ہے۔‘
ڈاکٹر الربیعہ کا کہنا تھا’ ابتدائی نیورو لوجیکل ٹیسٹ سے ظاہر ہوتا ہے اس کی حالت بہتر ہے۔‘
انہوں نے کہا’ دوسری بچی ’کلیا‘ اب بھی وینٹی لیٹر پر ہے، تاہم معمول کے مطابق سانس لے رہی ہے۔ امید ہے ایک دو دن میں وینٹی لیٹر ہٹا دیا جائے گا۔‘
’اس کے بعد نیورو لوجیکل کنڈیشن کا اندازہ لگانے کے لیے سکون آور دواوں کو کم کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا ’کلیا‘ دل کی پٹھوں کی کمزوری کے علاوہ پیدائشی گردے کی خرابی کے باعث پیرریٹونیل ڈائیلائسز سے گزر رہی ہے۔
میڈیکل اور سرجیکل ٹیم کے مطابق سرجری کے نتائج مثبت رہے ہیں۔
سرجیکل ٹیم نے 18 گھنٹے 30 منٹ کی سرجری کے بعد دونوں بچیوں کو کامیابی کے ساتھ ایکدوسرے سے الگ کیا تھا۔
میڈیکل ٹیم 30 افراد پر مشتمل تھی، جس میں پیڈ یاٹرک نیوروسرجری کے کنسلٹنٹ کے علاوہ نرسنگ اور ٹیکنیکل سٹاف، اینستھیزیا، انتہائی نگہداشت، جدید ریڈیو لوجی اور پلاسٹک سرجری کے ماہرین شامل تھے۔

یاد رہے کہ سعودی کونجوئنڈ ٹوئنز پروگرام کا آغاز 1990 میں کیا گیا تھا۔
پروگرام کے تحت اب تک پانچ براعظموں کے 28 ممالک کے 157 کیسز کا جائزہ لیا گیا جن میں 70 جڑے ہوئے بچوں کو کامیابی سے الگ کیا گیا۔ انہیں مکمل دیکھ بھال فراہم کی جس میں نفسیاتی، سماجی اور تعلیمی مدد بھی شامل ہے۔
