پاکستان نے امریکہ کے ایک اعلیٰ انٹیلی جنس عہدیدار کی جانب سے ملک کے میزائل پروگرام سے متعلق خدشات کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس کی تزویراتی صلاحیتیں مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ذرائع ابلاغ کے سوالات کے جواب میں کہا کہ پاکستان کی میزائل صلاحیتوں سے ممکنہ خطرے سے متعلق امریکی دعوے حقائق کے منافی ہیں۔
مزید پڑھیں
-
پاکستان کا بیلسٹک میزائل شاہین اے ون کا تجربہNode ID: 621621
-
امریکہ کو پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر تشویش کیوں ہے؟Node ID: 901996
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا میزائل پروگرام قومی خودمختاری کے تحفظ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا میزائل پروگرام بین البراعظمی حدِ مار سے کہیں کم ہے اور یہ انڈیا کے مقابلے میں Credible Minimum Deterrence کے اصول پر مبنی ہے۔
ترجمان کے مطابق اس کے برعکس انڈیا کی جانب سے 12 ہزار کلومیٹر سے زائد حدِ مار رکھنے والے میزائلوں کی ترقی ایک ایسے رجحان کی نشاندہی کرتی ہے جو علاقائی سلامتی کی ضروریات سے بڑھ کر ہے اور نہ صرف خطے بلکہ اس سے باہر بھی تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان، امریکہ کے ساتھ باہمی احترام، عدم امتیاز اور حقائق پر مبنی تعلقات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
ترجمان نے زور دیا کہ جنوبی ایشیا کی تزویراتی ضروریات کے مطابق ایک متوازن اور سنجیدہ طرزِ عمل اپنانا ضروری ہے تاکہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔












