Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’جانور سامان نہیں، خاندان کا حصہ ہوتے ہیں‘، مشرقِ وسطیٰ سے شہریوں کے ساتھ پالتو جانوروں کا بھی انخلا

اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں نے مشرقِ وسطیٰ میں فضائی سفر کو شدید متاثر کیا ہے۔ (فوٹو: اے پی)
یہ ’جانوروں کا انخلا‘ تھا۔ درجنوں پالتو کتے اور بلیاں بدھ کے روز مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث پھنسے ہوئے یونانی شہریوں (اور ان کے پالتوں جانوروں) کے انخلا کے لیے چلائی گئی خصوصی پرواز پر اپنے مالکان کے ساتھ یونان کے دارالحکومت ایتھنز پہنچیں۔
امریکی خبررساں ادارے اے پی کے مطابق ایتھنز ایئرپورٹ پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، جب ننھے کتے اپنی خصوصی سفری ٹوکریوں سے باہر نکلتے ہی خوشی سے اچھلنے کودنے  لگے۔ حکومت کے زیرِانتطام متحدہ عرب امارات کے شہر ابو ظبی سے آنے والی ایجیئن پرواز میں 45 پالتو جانور اور 101 مسافر سوار تھے۔
یونان کی وزارتِ داخلہ میں پالتو جانوروں کے تحفظ کے خصوصی سیکریٹری نیکوس کریساکِس نے کہا ہے کہ ’پالتو جانور کی اہمیت صرف سامان کے برابر نہیں ہے بلکہ وہ ہمارے خاندان کا حصہ ہوتے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ وزارتِ داخلہ اور وزارتِ خارجہ نے کئی دن تک مل کر کام کیا ’تاکہ یہ مثبت ہدف حاصل ہو سکے اور انسانوں کے ساتھ ساتھ جانور بھی بحفاظت اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں۔‘
اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں نے مشرقِ وسطیٰ میں فضائی سفر کو شدید متاثر کیا ہے۔ مختلف ممالک کو بار بار اپنی فضائی حدود بند کرنا پڑیں اور دبئی اور قطر جیسے بڑے ہوائی مراکز کو ہزاروں پروازیں منسوخ کرنا پڑیں، کیونکہ اوپر فضا میں میزائل گزر رہے تھے۔ لاکھوں مسافر مختلف مقامات پر پھنس کر رہ گئے۔
ڈینائی کوکولوماٹی کے لیے ایسی پرواز تلاش کرنا جو اس کی بلی’موئے تھائی‘ کو بھی ساتھ لے جا سکے، کوئی آسان کام نہیں تھا۔
انہوں نے کہا، ’میرے لیے میری پالتو بلی میرے خاندان کے رُکن کی طرح ہے۔ ایسا کوئی امکان ہی نہیں تھا کہ میں اسے پیچھے چھوڑ دیتی۔‘ انہیں مگر کوئی ایسی پرواز نہیں مل رہی تھی جو جانوروں کو یا تو کیبن میں یا کارگو ہول میں لے جانے کے لیے تیار ہو۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اپنے پالتو جانوروں کے ساتھ ملک سے باہر سفر کرنا بہت، بہت مشکل ہے۔‘

الیگزینڈرا پاپایانیس گذشتہ پانچ سال سے دبئی میں مقیم ہیں، وہ اپنے پالتو کتے ’سیرتاکی‘ کے ساتھ ایتھنز پہنچیں۔ (فوٹو: اے پی)

جنگ کے ان حالات میں ’موئے تھائی‘ اردگرد کے ماحول کے مقابلے میں کہیں زیادہ پُرسکون تھی۔ جب دھماکوں کی آوازیں آتیں تو ’وہ باتھ روم میں جا کر چھپ جاتی اور بس۔‘ کوکولوماٹی کہتی ہیں کہ ’وہ پرسکون رہی‘۔
وہ مزید کہتی ہیں کہ ’میں اپنی بلی کی طرح پرسکون نہیں تھی۔ مجھے اس سے کچھ سبق سیکھنے چاہییں۔‘
الیگزینڈرا پاپایانیس گذشتہ پانچ سال سے دبئی میں مقیم ہیں، وہ اپنے پالتو کتے ’سیرتاکی‘ کے ساتھ ایتھنز پہنچیں جس کا نام ایک یونانی رقص کے نام پر رکھا گیا ہے اور ایک دوسرا کتا بھی ساتھ لائیں جو انہوں نے ایک دوست کے لیے خریدا تھا۔ انہوں نے بھی یہ کہا کہ ’انہیں انخلا کے لیے ایسی پرواز ڈھونڈنے میں مشکل پیش آئی جو جانوروں کو ساتھ لے جانے کے لیے تیار ہوتی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ بہت اہم ہے۔ یعنی ہمارے پالتو جانور ہمارے خاندان کا حصہ ہوتے ہیں۔ اور ان بہت مشکل حالات میں سب سے بڑا چیلنج ہی یہ ہے کہ ہم اپنے کتوں اور بلیوں کو واپس کیسے لے کر جائیں۔
انہوں نے کہا کہ سیرتاکی کے ساتھ یونان واپس آنا ’انتہائی شاندار‘ تجربہ رہا۔
ایک اور مسافر ماریا تھیوچاری کے لیے اپنے کتے ’میٹیس‘ کو دبئی میں چھوڑنا ناقابلِ تصور تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’میٹیس کی اہمیت میرے لیے میرے اپنے بچوں کی طرح ہی ہے۔ یہ میرے لیے بہت اہم ہے۔ میں اپنے جانور اور اپنے بچوں میں کوئی فرق روا نہیں رکھتی، میرے لیے دونوں ایک جیسے ہی ہیں۔‘

 

شیئر: