Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال: کیا اب تک بجلی کی قیمت میں اضافہ سولر صارفین کی وجہ سے نہیں ہوا؟

ماہرین توانائی کہتے ہیں کہ اگر سولر صارفین بجلی پیدا نہ کرتے تو حکومت اس کی بڑھا چکی ہوتی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدہ صورت حال کے باعث پورے خطے میں تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور پاکستان میں بھی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کیا ہے۔
تاہم، اپنی توانائی کی 90 فیصد سے زائد ضروریات بیرون ملک سے درآمد کرنے والے ملک پاکستان میں اب تک بجلی کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق بجلی کی قیمت میں استحکام کے پیچھے مختلف عوامل ہیں، لیکن سب سے اہم وجہ پاکستان میں سولر صارفین کی پیداکردہ بجلی ہے جو نیشنل گرڈ میں شامل ہو کر طلب کو کم کرتی ہے اور قیمتوں میں اضافے کو محدود رکھتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں بجلی کے موجودہ پیداواری ذرائع میں درآمدی ایندھن کا حصہ کم ہے اور ماہرین کے مطابق اس میں سولرائزیشن کا کردار بھی اہم ہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق بجلی کی پیداوار میں ایل این جی کا حصہ قریباً 10 فیصد اور فرنس آئل کا حصہ قریباً پانچ فیصد ہے۔ اگرچہ ایل این جی کی پیداوار متاثر ہوئی اور ایندھن مہنگا ہو گیا لیکن اس کا فوری اثر بجلی کے نرخوں پر نہیں پڑا۔
ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ آیا واقعی سولر صارفین کی پیداکردہ بجلی کے نیشنل گرڈ میں شامل ہونے کی وجہ سے بجلی کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوا، اور اس کے علاوہ دیگر کون سے عوامل اس استحکام میں کردار ادا کر سکتے ہیں؟
پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت قریباً 45 ہزار میگاواٹ سے زائد ہے، جبکہ گرمیوں کے موسم میں ملک کی بجلی کی کھپت عموماً 25 سے 27 ہزار میگاواٹ کے درمیان رہتی ہے۔
جہاں تک پیداوار کے ذرائع کا تعلق ہے تو نیپرا کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بجلی ہائیڈل، نیوکلیئر، فوسل فیول اور قابل تجدید توانائی کے ذریعے پیدا کی جاتی ہے۔ 
اعدادوشمار کے مطابق ہائیڈل پلانٹس سے قریباً 30 فیصد، نیوکلیئر سے 15 سے 20 فیصد، اور قابل تجدید ذرائع جیسے سولر اور وِنڈ سے 3 سے 8 فیصد بجلی پیدا ہوتی ہے۔
یہ بتانا ضروری ہے کہ پاکستان میں آر ایل این جی یعنی درآمدی گیس کا حصہ قریباً 10 فیصد ہے، جبکہ فرنس آئل کا حصہ بہت کم، یعنی قریباً پانچ فیصد ہے۔
سولر صارفین کی پیداکردہ بجلی میں سے کتنا حصہ نیشنل گرڈ میں شامل ہوتا ہے؟
ہم نے اس سوال کا جواب جاننے کے لیے نہ صرف نیپرا کے اعدادوشمار کا جائزہ لیا بلکہ پاکستان کے ماہر توانائی ڈاکٹر خالد ولید سے بھی بات کی ہے۔

 بعض ماہرین کہتے ہیں کہ حکومت کو سولر اور بجلی صارفین کی مراعات میں توازن پیدا کرنا چاہیے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ڈاکٹر خالد ولید کے مطابق سرکاری اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں نیٹ میٹرنگ صارفین قریباً 6 ہزار 800 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ قریباً 12 ہزار میگاواٹ کے صارفین آف گرڈ ہیں، یعنی وہ سولر استعمال کر رہے ہیں لیکن یہ سسٹمز گرڈ سے منسلک نہیں ہوتے۔
ڈاکٹر خالد نے نیپرا کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر سولر صارفین قریباً 19 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’اگر پاکستان میں رُوف ٹاپ سولر کا انقلاب نہ آیا ہوتا تو حکومت کو مہنگی آر ایل این جی استعمال کرنا پڑتی، جس سے نہ صرف بجلی کی پیداواری لاگت بڑھتی بلکہ عوام کو لوڈشیڈنگ کا سامنا بھی کرنا پڑتا۔‘
انہوں نے یہ بھی نشان دہی کی کہ جب نیٹ میٹرنگ کی بجلی دستیاب نہیں ہوتی تو حکومت کو رات کے اوقات میں درآمدی گیس کے پلانٹس چلانا پڑتے ہیں۔
اس لیے حکومت کو بیٹری انرجی سٹوریج نظام پر بھی توجہ دینی چاہیے، تاکہ بجلی کو ذخیرہ کر کے بعد میں ضرورت کے وقت استعمال کیا جا سکے۔
تاہم یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر سولر صارفین بجلی پیدا نہ کرتے تو اس وقت بجلی کتنی مہنگی ہو چکی ہوتی۔
ڈاکٹر خالد ولید کے مطابق مختلف رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ حکومت کو اس وقت کم سے کم دو روپے فی یونٹ اضافہ کرنا پڑتا، جبکہ ان کے ذاتی مشاہدے کے مطابق یہ اضافہ تین سے چار روپے فی یونٹ تک ہو سکتا تھا۔

ماہرین کے مطابق ’اگر پاکستان میں سولر کا انقلاب نہ آیا ہوتا تو عوام کو لوڈشیڈنگ کا سامنا بھی کرنا پڑتا‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

سولر صارفین کے لیے حکومت کے بدلتی پالیسیاں
پاکستان میں سولر صارفین کے حوالے سے حکومت نے حالیہ عرصے میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ نیٹ میٹرنگ پالیسی کو ختم کر کے نئی نیٹ پالیسی نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
سرکاری ادارے اس بات پر تشویش ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں سولر صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد قومی بجلی کے شعبے پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔
ڈاکٹر خالد ولید کہتے ہیں کہ حکومت کو ملک میں سولرائزیشن کو فروغ دیتے ہوئے نیٹ میٹرنگ کی پالیسی کو دوبارہ نافذ کرنا چاہیے اور بیٹری سٹوریج کے نظام کو بھی متعارف کروانا چاہیے۔
ان کے مطابق ’اس سے صارفین رات کے اوقات میں حکومت کو بجلی فراہم کر سکیں گے اور ایسے صارفین کے لیے مناسب مالی یا دیگر مراعات بھی یقینی بنائی جائیں۔‘
دوسری جانب ماہر توانائی اور سابق ایم ڈی این ٹی ڈی سی ڈاکٹر فیاض چوہدری کے مطابق ’سولر صارفین قومی بجلی کے شعبے کو ایک حد تک فائدہ پہنچاتے ہیں۔‘
’اگر سولر صارفین کو درست طریقے سے منظم نہ کیا جائے تو وہ نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔ 2015 میں سولر صارفین کے لیے بنائی گئی پالیسی کو بہت پہلے تبدیل کردینا چاہیے تھا، اور اس تاخیر کے سبب سسٹم کو نقصان پہنچا ہے۔‘
ڈاکٹر فیاض نے مزید کہا کہ ’حکومت کو تمام بجلی صارفین کے لیے منصفانہ نظام قائم کرنا چاہیے، تاکہ سب پر یکساں بوجھ پڑے اور صرف سولر صارفین کو رعایت نہ دی جائے، جبکہ دیگر صارفین اِس کا بوجھ اٹھائیں۔‘

شیئر: