Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور بارڈر قانون کی 22 ہزار 931 خلاف ورزیاں

 8 ہزار 104 غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔ (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی  مزید 22 ہزار931 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں جبکہ 8 ہزار 104 غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
ایس پی اے کے مطابق’ 12 سے 18 مارچ 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 17 ہزار 181 افراد کو اقامہ قانون، 3 ہزار931 کو غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور ایک ہزار 635 کو قانون محنت کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔‘
’غیرقانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار683 افراد کو گرفتار کیا گیا، ان میں 68 فیصد ایتھوپین، 29 فیصد یمنی اور3 فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
علاوہ ازیں 40 ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا ہے جو سرحد پار کرکے مملکت سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
 سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 36 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ 
  مجموعی طور پر29 ہزار564 تارکین جس میں 26 ہزار 714 مرد اور 2 ہزار 850 خواتین شامل ہیں اس وقت ضوابط پرعملدرآمد کے پروسیجر سے گزر رہے ہیں۔ ضوابط کی خلاف ورزیوں پر 21 ہزار 133 کو حراست میں لیا گیا۔
انہیں سفری دستاویز ات کے لیے سفارتحانوں یا قونصلیٹ سے رابطہ کرنے، 3 ہزار 285 کو سفری انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی جبکہ 8 ہزار 104 کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔

واضح رہے سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔ 
سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے’ جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، اسے 15 برس قید اور 10 لاکھ  ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائداد کی ضبطی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

 

شیئر: