ایران جنگ کے لیے امریکہ کے پاس ’وافر‘ فنڈز موجود ہیں: امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ
ایران جنگ کے لیے امریکہ کے پاس ’وافر‘ فنڈز موجود ہیں: امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ
اتوار 22 مارچ 2026 20:33
ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کے مطابق ایران جنگ کے پہلے چھ دنوں میں ہی 11 ارب ڈالر سے زائد کے اخراجات آ چکے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکی حکومت کے پاس ایران کے خلاف جنگ کے لیے ’وافر رقم‘ موجود ہے تاہم کانگریس سے اضافی فنڈز کی درخواست اس لیے کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں فوج کو وسائل کی فراہمی میں کوئی کمی نہ رہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سکاٹ بیسنٹ نے این بی سی نیوز کے پروگرام ’میٹ دی پریس‘ میں گفتگو کرتے ہوئے جنگی اخراجات کے لیے ٹیکسوں میں کسی بھی قسم کے اضافے کے امکان کو مسترد کر دیا۔
ایران جنگ کے لیے امریکی فوج کی جانب سے 200 ارب ڈالر کے اضافی فنڈز کی درخواست کو کانگریس میں سخت مخالفت کا سامنا ہے جہاں ڈیموکریٹس اور یہاں تک کہ کچھ ریپبلکنز بھی گزشتہ برس دفاع کے لیے مختص کی گئی خطیر رقم کے بعد اس نئی ضرورت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
سکاٹ بیسنٹ نے رقم کی حتمی تصدیق کیے بغیر اس مطالبے کا دفاع کیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کو اس رقم کی منظوری کے لیے باضابطہ درخواست نہیں بھیجی ہے اور ان کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اس اعداد و شمار میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔
سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ’ہمارے پاس اس جنگ کے لیے کافی پیسہ ہے۔ یہ اضافی فنڈز ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت کی طرح اب دوسری مدت میں بھی فوج کو مضبوط کیا ہے اور وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ مستقبل میں بھی فوج کو وسائل کی فراہمی جاری رہے۔‘
گزشتہ ہفتے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا تھا کہ اضافی رقم کی ضرورت اس لیے ہے’تاکہ ہم اس بات کو یقینی بنا سکیں کہ جو کچھ اب تک کیا گیا ہے اور جو مستقبل میں کرنا پڑ سکتا ہے، اس کے لیے ہمارے پاس مناسب فنڈز موجود ہوں۔‘
انہوں نے ٹیکسوں میں ممکنہ اضافے کے سوال کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دے کر مسترد کر دیا اور کہا کہ ایسا کوئی آپشن زیرِ غور نہیں ہے۔
ابتدائی اشارے بتاتے ہیں کہ یہ جنگ عراق اور افغانستان کے طویل تنازعات کے بعد امریکہ کے لیے مہنگی ترین جنگ ثابت ہوگی۔
ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے قانون سازوں کو بتایا کہ ایران جنگ کے پہلے چھ دنوں میں ہی 11 ارب ڈالر سے زائد کے اخراجات آ چکے ہیں۔
ریپبلکنز کی اکثریتی کانگریس جنوری 2025 میں ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز کے بعد سے پہلے ہی دفاع کے لیے ریکارڈ فنڈز منظور کر چکی ہے۔
سکاٹ بیسنٹ نے حالیہ دنوں میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایرانی اور روسی تیل پر سے پابندیاں ہٹانے کے اقدام کا بھی دفاع کیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
گزشتہ ماہ انہوں نے مالی سال 2026 کے دفاعی بجٹ کے قانون پر دستخط کیے تھے جس میں قریباً 840 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ گزشتہ موسمِ گرما میں ڈیموکریٹس کی مخالفت کے باوجود ریپبلکنز کی قیادت میں کانگریس نے ٹیکس کٹوتیوں اور اخراجات کا ایک بڑا بل پاس کیا تھا جس میں دفاع کے لیے 156 ارب ڈالر شامل تھے۔
سکاٹ بیسنٹ نے حالیہ دنوں میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایرانی اور روسی تیل پر سے پابندیاں ہٹانے کے اقدام کا بھی دفاع کیا۔
انہوں نے دلیل دی کہ ایسا کرنے سے چین کے علاوہ دیگر ممالک بشمول جاپان اور جنوبی کوریا کو تیل خریدنے کا موقع ملے گا جس سے تیل کی قیمتوں کو 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے سے روکا جا سکے گا اور ایران و روس کی مجموعی آمدنی میں کمی آئے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ وزارتِ خزانہ کے تجزیے کے مطابق روس کو اس سے زیادہ سے زیادہ دو ارب ڈالر کی اضافی آمدنی ہی حاصل ہو سکے گی۔